
طبِ یونانی (Unani Medicine) میں گرمی سے ہونے والے امراض کو جسم میں "صفرا” (Yellow Bile) کی زیادتی یا خون کی حدت سے منسوب کیا جاتا ہے۔ ان امراض میں معدے کی تیزابیت، ہاتھ پاؤں کی جلن، لو لگنا، گرمی کا بخار، اور جگر و مثانے کی گرمی اور یرقان وغیرہ شامل ہیں۔
ذیل میں گرمی کے امراض کے لیے عام استعمال ہونے والے گھریلو یونانی طریقے درج ہیں:
## مشروبات اور غذا (Dietary Measures)
* ستو کا شربت: جو (Barley) کے ستو گرمی کے توڑ کے لیے بہترین سمجھے جاتے ہیں۔
* شربتِ بزوری: یہ جگر اور مثانے کی گرمی دور کرنے اور پیشاب کی جلن اور یرقان اصفر کے لیے یونانی دواخانوں کا مشہور نسخہ ہے۔
* تخم بالنگو اور اسپغول: انہیں پانی یا دودھ میں بھگو کر استعمال کرنے سے معدے کی گرمی اور جلن کم ہوتی ہے۔
* صندل کا شربت: صندل اپنی ٹھنڈی تاثیر کی وجہ سے دل اور دماغ کو سکون دیتا ہے اور جسمانی حدت کم کرتا ہے۔
## قدرتی جڑی بوٹیاں (Herbal Remedies)
* عرقِ گلاب: یہ پینے اور آنکھوں میں ڈالنے، دونوں صورتوں میں گرمی کی شدت کم کرتا ہے۔
* خشخاش اور دھنیا: خشک دھنیا اور خشخاش کا ٹھنڈا مشروب (سردائی) بنا کر پینے سے دماغی گرمی اور بے خوابی کا علاج ہوتا ہے۔
* کچی لسی: دودھ میں پانی ملا کر پینا (کچی لسی) جسم کو فوری ٹھنڈک پہنچاتا ہے اور نمکیات کی کمی دور کرتا ہے۔
## علامتی علاج (Symptomatic Treatment)
* ہاتھ پاؤں کی جلن: مہندی کے پتوں کا لیپ پیروں کے تلوؤں پر کرنے سے جلن میں افاقہ ہوتا ہے۔
* گرمی کا بخار: یونانی طبیب اکثر "خاکسی” یا "نیلوفر” کے پھولوں کا جوشاندہ استعمال کرواتے ہیں تاکہ جسم کا درجہ حرارت کم ہو سکے۔
## احتیاطی تدابیر
* مسالے دار کھانوں سے پرہیز: گرمی میں مرچ مصالحوں اور تلی ہوئی چیزوں سے بچیں کیونکہ یہ صفرا میں اضافہ کرتے ہیں۔
* پانی کا زیادہ استعمال: دن بھر وقفے وقفے سے سادہ پانی پینا ہائیڈریشن کے لیے لازمی ہے۔
حکیم قاضی ایم اے خالد
موسم گرما کے جملہ امراض کے کامیاب ترین یونانی علاج کےلئے معروف یونانی معالج حکیم قاضی ایم اے خالد سے دوپہر تین بجے سے رات دس بجے تک ان کے مطب خالد خاندانی دواخانہ 32 ذیلدار روڈ اچھرہ لاہور پاکستان سے رجوع فرمائیں. سیل نمبر 03034125007





















