پاک چین دوستی اور روائتی یونانی طب

پاک چین دوستی کے 75 سال مکمل ہونے پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طب (Traditional Medicine) کا شعبہ باہمی تعاون کا ایک اہم ستون بن کر ابھرا ہے۔ اس تعاون کا مقصد روایتی چینی ادویات (TCM) اور پاکستان کی روایتی یونانی طب (TUM) کو جدید سائنسی بنیادوں پر یکجا کرنا ہے۔
اس شراکت داری کے چند نمایاں پہلو درج ذیل ہیں:


## 1. باہمی تحقیقی مراکز کا قیام

* سینو-پاک تعاون مرکز برائے روایتی چینی طب (SPCCTCM): یہ مرکز کراچی یونیورسٹی کے انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز (ICCBS) اور چین کی ہونان یونیورسٹی آف میڈیسن کے اشتراک سے 2021 میں قائم کیا گیا۔
* پاک چین روایتی طبی اتحاد: 2022 میں جینان، چین میں اس اتحاد کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ جڑی بوٹیوں کے علاج اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو مشترکہ طور پر فروغ دیا جا سکے۔


## 2. ادویات کے کلینیکل ٹرائلز اور کامیابی

* کورونا وائرس (COVID-19): پاکستان میں چینی جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ دوا ‘جنہوا کینگن گرینولز’ (Jinhua Qinggan Granules) کے کامیاب کلینیکل ٹرائلز کیے گئے، جو بیرون ملک کسی سائنسی بنیاد پر تصدیق شدہ پہلی چینی دوا بنی۔
* برونکائٹس کا علاج: سینے کے امراض کے لیے ‘ین ہوانگ کینگ فی’ (Yinhuang Qingfei) نامی کیپسول کے ٹرائلز بھی کامیاب رہے، جو کہ مغربی ادویات کے مقابلے میں انتہائی سستی اور مؤثر ثابت ہوئی ہے۔

اس کے علاؤہ کینسر کی متعدد اقسام اور دیگر پیچیدہ امراض کےلئے جڑی بوٹیوں پر مشتمل جدید تحقیقی ادویات پر مشترکہ کلینیکل ٹرائلز جاری ہیں

## 3. تعلیم اور تربیت

* ڈاکٹروں کی تربیت: حکومت سندھ کے تعاون سے پاکستانی ڈاکٹروں کا پہلا وفد 2025 میں ہونان یونیورسٹی (چین) روانہ ہوا تاکہ وہ روایتی چینی طب میں مہارت حاصل کر سکیں۔
* تعلیمی پروگرام: وطن عزیز کی متعدد یونیورسٹیز میں روایتی طب سے متعلق ڈگری پروگرامز کئی سالوں سے شروع ہیں اور ان پروگرامز کو عالمی معیار کے مطابق بنانے پر اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ 

## 4. خلائی ادویات میں تعاون (Space Medicine)
ایک دلچسپ تجربے کے تحت، پاکستانی جڑی بوٹیوں کے بیج چینی خلائی اسٹیشن پر بھیجے گئے تاکہ زمین اور خلا میں ان کی نشوونما اور طبی اثرات کے فرق کا مطالعہ کیا جا سکے۔ 


## 5. سماجی خدمات


اسلام آباد میں قائم چی ہوانگ ٹریڈیشنل چائنیز میڈیسن سینٹر جیسے مراکز نہ صرف جڑی بوٹیوں پر مشتمل روائتی علاج فراہم کر رہے ہیں بلکہ مفت طبی کیمپوں کے ذریعے پاک چین دوستی کو عوامی سطح پر بھی مضبوط بنا رہے ہیں۔ 

حکیم قاضی ایم اے خالد زمانہ طالب علمی میں چائنہ کے پہلے مطالعاتی دورے پر کاشغر چین میں 1985

وطن عزیز کے بعض بیوروکریٹس اور بزرجمہر طب یونانی کے شروع سے ہی دشمن ہیں اس حوالے سے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا میں نیم حکیموں کو پروموٹ کرنے میں بھی انہی لوگوں کا ہاتھ ہے تاکہ لوگ طب یونانی سے متنفر ہو جائیں تاہم جدید ییلو جرنلزم کے ان ہتھکنڈوں کی وجہ سے دنیا بھر کے اداروں و افراد میں طب یونانی کے جڑی بوٹیوں سے علاج میں دلچسپی پیدا ہوئی متعدد ممالک میں ہربل میڈیسن کے حوالے سے نئے نئے ادارے وجود میں آرہے ہیں۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بھی روایتی چینی ادویات (TCM) اور پاکستان کی روایتی یونانی طب (TUM) کو باقاعدہ تسلیم کیا اور اس حوالے سے (TUM) کی اپ گریڈیشن کا عمل جاری وساری ہے علاوہ ازیں نئے قوانین بھی تشکیل دئیے جا رہے ہیں۔

یہ بات باعث مسرت ہے کہ پاکستان اور چین میں مشترکہ طبی تحقیقی مراکز بھی قائم کئے جا رہے ہیں جہاں ہربل میڈیسنز سے انسانیت کی فلاح و بہبود اور صحت کےلئے ہربل ادویات تیار کی جائیں گی ۔

حکیم قاضی ایم اے خالد

حکیم قاضی ایم اے خالد کی طبی اور صحافتی خدمات کے اعتراف میں انٹرنیشنل طبی سیمینار میں گولڈ میڈل ایوارڈ بدست ڈاکٹر  ژی ژوانگ (چائنہ) 1992

ایکنی کا گھریلو علاج

ایکنی یا کیل مہاسوں کے لیے کئی مؤثر گھریلو علاج موجود ہیں جو بیکٹیریا کے خاتمے اور جلد کی سوزش کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

ایکنی کے لیے بہترین گھریلو نسخے

  • ایلو ویرا (Aloe Vera): ایلو ویرا کا جیل براہ راست چہرے پر لگانے سے جلد کی حرارت کم ہوتی ہے اور ایکنی کے نشانات دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔
  • نیم کے پتے: نیم کے پتوں کو پانی میں ابال کر اس پانی سے چہرہ دھونا یا پتوں کا پیسٹ لگانا ایکنی کے لیے انتہائی مفید ہے۔
  • سیب کا سرکہ (Apple Cider Vinegar): یہ جلد کی پی ایچ (pH) کو متوازن رکھتا ہے اور بیکٹیریا کو ختم کرتا ہے۔
  • شہد اور دار چینی: شہد میں اینٹی بائیوٹک خصوصیات ہوتی ہیں۔ شہد اور دار چینی کا پیسٹ دانوں پر لگانے سے وہ جلد ختم ہو جاتے ہیں۔
  • عرقِ گلاب اور لیموں: ان کا لوشن چہرے پر لگانے سے جلد صاف ہوتی ہے اور زائد چکنائی کا خاتمہ ہوتا ہے۔

احتیاطی تدابیر

  • خوراک: تلی ہوئی، مسالہ دار اور زیادہ چکنائی والی غذاؤں سے پرہیز کریں کیونکہ یہ ایکنی میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔
  • فیس واش: دن میں کم از کم دو تین بار کسی اچھے اینٹی بیکٹیریل صابن یا فیس واش سے چہرہ دھوئیں۔
  • ہاتھ نہ لگائیں: دانوں کو بار بار چھونے یا دبانے سے گریز کریں، اس سے انفیکشن پھیل سکتا ہے اور نشان پڑ سکتے ہیں۔
  • پانی کا استعمال: دن بھر میں زیادہ سے زیادہ پانی پئیں تاکہ جسم سے فاسد مادے خارج ہوں اور جلد تروتازہ رہے۔

اگر ایکنی کی علامات برقرار رہیں یا شدید نوعیت کے ایکنی ہوں جو گھریلو علاج سے ٹھیک نہ ہوں تو معروف کاسمیٹالوجسٹ حکیم قاضی ایم اے خالد سے دوپہر تین بجے سے رات دس بجے تک ان کے مطب خالد خاندانی دوا خانہ 32 ذیلدار روڈ اچھرہ لاہور پاکستان سے رجوع فرمائیں۔سیل نمبر 03034125007

طب یونانی اور نینو ٹیکنالوجی

طب یونانی اور نینو ٹیکنالوجی کا ملاپ قدیم یونانی حکمت کو جدید ترین سائنس سے جوڑنے کا نام  ہے۔ طب یونانی ہزاروں سال پرانا طریقہ علاج ہے جو قدرتی جڑی بوٹیوں اور معدنیات پر مبنی ہے، جبکہ نینو ٹیکنالوجی مادے کو ایٹمی اور سالمی سطح (1 سے 100 نینو میٹر) پر کنٹرول کرنے کا نام ہے۔

طب یونانی اور نینو ٹیکنالوجی کے باہمی تعلق کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:

  • ادویات کی بہتر فراہمی (Targeted Drug Delivery): طب یونانی کی ادویات، خاص طور پر مرکبات، میں نینو ٹیکنالوجی کے اصول صدیوں سے غیر شعوری طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ جدید نینو ٹیکنالوجی ان ادویات کو جسم کے مخصوص حصے (جیسے کینسر زدہ خلیات) تک براہ راست پہنچانے میں مدد دیتی ہے، جس سے دوا کی افادیت بڑھ جاتی ہے۔
  • یونانی دوا سازی اور نینو پارٹیکلز: قدیم اطباء دھاتوں اور معدنیات کو مار کر "خاص مرکب” تیار کرتے تھے۔ جدید تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ یہ خاص مرکبات دراصل نینو پارٹیکلز کی ایک شکل ہیں۔ مثال کے طور پر چاندی مرکب میں چاندی کے نینو پارٹیکلز پائے جاتے ہیں جن میں قدرتی طور پر جراثیم کش خصوصیات ہوتی ہیں۔
  • بایو اویلیبلٹی (Bioavailability) میں اضافہ: بعض یونانی جڑی بوٹیوں کے اجزاء جسم میں آسانی سے جذب نہیں ہوتے۔ نینو ٹیکنالوجی کے ذریعے ان اجزاء کو نینو سائز میں تبدیل کر کے ان کے جذب ہونے کی صلاحیت اور اثر پذیری کو کئی گنا بڑھایا جا سکتا ہے۔خالد خاندانی دواخانہ میں طب یونانی کی ادویات کو مہینوں کھرل کے ذریعے  نینو سائز میں تبدیل کیا جاتا ہے۔
  • مضر اثرات میں کمی: جب یونانی نینو دوا براہ راست متاثرہ حصے پر اثر کرتی ہے، تو جسم کے دوسرے تندرست اعضاء اس کے منفی اثرات سے محفوظ رہتے ہیں۔

خلاصہ:
خالد خاندانی دواخانہ میں معروف معالج حکیم قاضی ایم اے خالد کی زیر نگرانی طب یونانی میں نینو ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے اس قدیم علم کو جدید سائنسی بنیادوں پر استوار کیا جا رہا ہے، جس سے قدرتی ادویات زیادہ محفوظ اور موثر بن رہی ہیں۔

طب یونانی اور نینو ٹیکنالوجی کے حوالے سے مزید معلومات کےلئے حکیم قاضی ایم اے خالد کی کتاب "یونانی ٹریس میٹلز ” کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے جو سائبر ورلڈ پر موجود ہے ۔

دنیا ہربل میڈیسن کی طرف لوٹ آئی

یہ حقیقت ہے کہ آج دنیا بھر میں ہربل (نباتاتی) ادویات کی مقبولیت ایک بار پھر تیزی سے بڑھ چکی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کی رپورٹس کے مطابق، جدید طبی سائنس کی ترقی کے باوجود دنیا کی تقریباً 86 فیصد آبادی اب بھی کسی نہ کسی شکل میں ہربل ادویات سے استفادہ کر رہی ہے۔

اس عالمی رجحان کی چند اہم وجوہات درج ذیل ہیں:

  • مضر اثرات سے بچاؤ: ایلوپیتھک ادویات کے طویل مدتی سائیڈ ایفیکٹس سے تنگ آ کر لوگ قدرتی اجزاء سے تیار کردہ علاج کو ترجیح دے رہے ہیں۔
  • نیچرل لائف اسٹائل: ترقی یافتہ ممالک بشمول یورپ اور امریکہ میں 50 فیصد سے زائد آبادی ہربل ادویات کو بطور متبادل علاج اپنا رہی ہے۔
  • پاکستان کی صورتحال: پاکستان میں تقریباً 70 فیصد آبادی علاج کے لیے ہربل ذرائع پر انحصار کرتی ہے۔
  • عالمی مارکیٹ: ہربل مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے اب اس شعبے میں باقاعدہ تحقیق اور سائنسی بنیادوں پر کام ہو رہا ہے، جس سے لوگوں کا اعتماد مزید بڑھا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اب دنیا بھر میں ہربل کلینکس،ہسپتالوں کے قیام اور جڑی بوٹیوں کی افادیت پر مبنی تحقیقی اداروں کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ عوام ہربل میڈیسن سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہو سکیں۔

طب یونانی کی بے ضرر ہربل میڈیسن سے کامیاب ترین علاج کےلئے معروف ہربلسٹ حکیم قاضی ایم اے خالد سے دوپہر تین بجے سے رات دس بجے تک ان کے مطب خالد خاندانی دواخانہ 32 ذیلدار روڈ اچھرہ لاہور پاکستان سے رجوع فرمائیں سیل نمبر 03034125007

روزنامہ نوائے وقت سنڈے میگزین میں حکیم قاضی ایم اے خالد کی فل پیج خصوصی تحریر ” جڑی بوٹیوں سے علاج کا عالمی رجحان ” آن لائن پڑھنے کےلئے درج ذیل تصویر پر کلک کریں۔

سونف اور خواتین

سونف (Fennel Seeds) خواتین کی صحت کے لیے قدرت کا ایک بہترین تحفہ ہے، جس میں نسوانی ہارمون ‘ایسٹروجن’ (Estrogen) جیسی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ یہ نہ صرف اندرونی صحت بلکہ خوبصورتی کے لیے بھی انتہائی مفید ہے۔

خواتین کے لیے سونف کے چند نمایاں فوائد درج ذیل ہیں:

1. ہارمونز کا توازن

  • ہارمونل بیلنس: سونف میں موجود قدرتی اجزاء خواتین کے جسم میں ہارمونز کے بگاڑ کو متوازن کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
  • کیل مہاسوں سے نجات: یہ ان ہارمونز کی افزائش کو روکتی ہے جو جلد پر کیل مہاسوں اور دانوں کا سبب بنتے ہیں۔

2. ماہواری کے مسائل

  • درد میں کمی: سونف کا پانی یا قہوہ ماہواری کے دوران ہونے والے شدید درد اور تکلیف کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
  • مینوپاز کی علامات: بڑھتی عمر کی خواتین میں مینوپاز (ماہواری بند ہونے) کے دوران ہونے والی بے چینی اور دیگر علامات کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔

3. وزن میں کمی اور میٹابولزم

  • چربی کا خاتمہ: غذائی ماہرین کے مطابق وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے سونف کا قہوہ کسی جادو سے کم نہیں کیونکہ یہ جسم سے زائد چربی پگھلانے میں مدد کرتا ہے۔
  • بھوک پر کنٹرول: یہ نظامِ ہضم کو بہتر بناتی ہے اور اسے چبانے سے بھوک کا احساس کم ہوتا ہے، جس سے وزن کنٹرول رہتا ہے۔

4. دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے

  • دودھ کی مقدار میں اضافہ: وہ مائیں جو بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں، ان کے لیے سونف کا استعمال دودھ کی مقدار بڑھانے میں بہت مفید ہے۔

5. خوبصورتی اور جلد کی صحت

  • دلفریب جلد: سونف کا استعمال خون صاف کرتا ہے اور جلد کو قدرتی چمک اور تازگی فراہم کرتا ہے۔
  • بینائی کی حفاظت: اس میں موجود وٹامن اے اور سی آنکھوں کی بینائی تیز کرنے اور اسے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

6. نظامِ ہضم اور دیگر فوائد

  • گیس اور سینے کی جلن: کھانے کے بعد ایک چمچ سونف چبانے سے معدے کی تیزابیت، ابھارہ اور گیس کی شکایت دور ہو جاتی ہے۔
  • اعصابی سکون: یہ دماغی کمزوری دور کرنے، یادداشت بہتر بنانے اور اچھی نیند لانے میں بھی مددگار ہے۔

سونف کے مکمل فوائد کے حصول کے لئے اسے ہربل ٹی (قہوہ) کی شکل میں استعمال کرنا چاہئے

‎##سونف کا قہوہ بنانے کا طریقہ
‎سونف کا قہوہ بنانا بہت سادہ ہے:

‎ 1. ایک کپ پانی لیں۔
‎ 2. اس میں ایک چائے کا چمچ سونف شامل کریں۔
‎ 3. اگر چاہیں تو خوشبو اور ذائقے کے لیے سبز الائچی یا پودینے کے پتے بھی ڈال سکتے ہیں۔
‎ 4. پانی کو اتنا پکائیں کہ وہ تھوڑا کم ہو جائے اور سونف کا رنگ نکل آئے۔
‎ 5. چھان کر حسبِ ضرورت شہد یا گڑ ملا کر استعمال کریں

حکیم قاضی ایم اے خالد

کثرت احتلام کا یونانی علاج

کثرتِ احتلام کا یونانی علاج علامات کی نوعیت اور جسمانی مزاج کے مطابق کیا جاتا ہے۔ یونانی طب میں اس کا مقصد جسمانی گرمی کو کم کرنا، اعصاب کو طاقت دینا اور منی کو گاڑھا کرنا ہوتا ہے۔
کثرتِ احتلام کے لیے چند اہم یونانی نسخے اور تجاویز درج ذیل ہیں:


## یونانی نسخے (ہربل ریمیڈیز)

* سفوفِ مغلظ: احتلام کو روکنے اور منی کو گاڑھا کرنے کے لیے مغز املی کلاں ہم وزن چینی ملا کر سفوف بنا لیں۔ ایک چمچ سفوف دودھ یا پانی کے ساتھ صبح نہار 10 دن تک استعمال کریں۔
* سفوف تال مکھانہ:تالمکھانہ اور کوزہ مصری ہموزن لے کر سفوف بنائیں۔ ایک گرام سفوف صبح و شام لینے سے ہر قسم کا احتلام ٹھیک ہو جاتا ہے۔
* تیار ادویات: خالد خاندانی دواخانہ کے تیار کردہ شفائے اعظم کیپسول اور کونفیڈ کیپسول کا بیس دن استعمال اس مرض کےلئے شافی و کافی ہے۔

## طرزِ زندگی میں تبدیلیاں

* سونے کا انداز: ہمیشہ دائیں کروٹ پر سوئیں اور پیٹ کے بل سونے سے پرہیز کریں، کیونکہ پیٹ کے بل سونے سے اعضائے مخصوصہ پر دباؤ پڑتا ہے جو احتلام کا سبب بن سکتا ہے۔
* ذہنی سکون: ذہنی دباؤ اور فحش خیالات یا ویڈیوز سے مکمل اجتناب کریں۔ رات کو سونے سے پہلے کوئی اچھی کتاب پڑھنا مفید ہوتا ہے۔
* کھانے پینے میں احتیاط: رات کا کھانا جلدی کھائیں اور سونے سے کم از کم 2-3 گھنٹے پہلے کھائیں۔ سونے سے پہلے زیادہ پانی پینے سے گریز کریں اور مثانہ خالی کر کے سوئیں۔

## غذائی پرہیز

* گرم اور تلی ہوئی چیزوں (سموسے، پکوڑے، تیز مصالحے) سے پرہیز کریں۔
* ٹھنڈی اور زود ہضم غذائیں جیسے گاجر، مولی اور کھیرا اپنی خوراک میں شامل کریں۔ 

## روحانی علاج

* یونانی و اسلامی روایات کے مطابق، رات کو سونے سے پہلے سورہ الطارق پڑھنے یا سینے پر انگلی سے "عمر” لکھنے سے بھی کثرتِ احتلام کی شکایت دور ہوجاتی ہے۔

کثرت احتلام کے شافی علاج کے لئے معروف معالج خاص حکیم قاضی ایم اے خالد سے دوپہر تین بجے سے رات دس بجے تک ان کے مطب خالد خاندانی دواخانہ 32 ذیلدار روڈ اچھرہ لاہور پاکستان سے رجوع فرمائیں سیل نمبر 03034125007

جریان منی و مذی کا یونانی علاج

یونانی طب میں جریان (منی یا مذی کا بلا ارادہ اخراج) کا علاج عام طور پر مغلظات (منی گاڑھا کرنے والی ادویات) اور مقوی اعضاءِ رئیسہ (دل، دماغ اور جگر کو طاقت دینے والی ادویات) کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

یونانی نسخہ جات اور ادویات

یونانی ادویات جریان اور مذی کے قطروں کو روکنے کے لیے موثر مانی جاتی ہیں:

  • سفوفِ مغلظ: یہ جریان کے لیے سب سے عام علاج ہے جو منی کو گاڑھا کرتا ہے اور قطروں کو روکتا ہے۔
  • حبِ عنبر مومیائی: یہ گولیوں کی شکل میں ایک معروف یونانی دوا ہے جو انتشار کی کمی اور بچپن کی غلط کاریوں سے ہونے والی جسمانی کمزوری کو دور کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
  • کشتہ جات: مختلف کشتہ جات جیسے کشتہ قلعی یا کشتہ چاندی جریان اور احتلام کے خاتمے کے لیے حکماء کے زیرِ نگرانی استعمال کیے جاتے ہیں۔

جریان منی اور جریان مذی میں فرق

علاج سے پہلے ان کی نوعیت کو سمجھنا ضروری ہے:

  • جریانِ منی: شہوت کے بغیر یا معمولی دباؤ (جیسے پاخانہ کے وقت) پر منی کا اخراج۔
  • مذی: شہوانی خیالات یا تھوڑی سی چھیڑ چھاڑ پر نکلنے والی لیس دار رطوبت۔ اس کا اخراج اکثر فطری ہوتا ہے لیکن کثرت کی صورت میں علاج ضروری ہے۔

احتیاطی تدابیر اور طرزِ زندگی

یونانی طریقہ علاج میں دوا کے ساتھ ساتھ پرہیز کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے:

  1. غذا: گرم اور تیز مصالحہ دار اشیاء، تلی ہوئی غذاؤں اور انڈے سے پرہیز کریں۔ سادہ اور زود ہضم غذا استعمال کریں۔
  2. ذہنی صحت: شہوانی خیالات اور فحش مناظر سے مکمل دوری اختیار کریں کیونکہ جریان کا براہِ راست تعلق دماغ سے ہے۔
  3. قبض کا علاج: قبض جریان کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے، اس لیے ایسی غذائیں لیں جن سے پیٹ صاف رہے۔

جریان منی و مذی کے کامیاب ترین یونانی علاج کےلئے معروف معالج حکیم قاضی ایم اے خالد سے دوپہر تین بجے سے رات دس بجے تک ان کے مطب خالد خاندانی دواخانہ 32 ذیلدار روڈ اچھرہ لاہور پاکستان سے رجوع فرمائیں سیل نمبر 03034125007

دنیا میں 45 کروڑ افراد ذہنی امراض میں مبتلا

تحریر: حکیم قاضی ایم اے خالد

ایک تحقیق کے مطابق ہر 4 بالغ افراد میں سے 1 اور ہر 10 بچوں میں سے ایک کو دماغی امراض یا مسائل کا سامنا ہے۔

کسی ایک انسان کے دماغی مرض سے صرف وہی نہیں بلکہ اس سے وابستہ دیگر افراد بھی متاثر ہوتے ہیں۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ذہنی اور نفسیاتی مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں 45 کروڑ افراد کسی نہ کسی دماغی عارضے میں مبتلا ہیں جن میں سب سے زیادہ پائی جانے والی دماغی بیماریاں ڈپریشن اور شیزو فرینیا ہیں۔

دنیا میں نفسیاتی عوارض میں مبتلا مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے چین پہلے نمبر پر، بھارت دوسرے، امریکہ تیسرے، برازیل چوتھے، روس پانچویں، انڈونیشیا چھٹے، پاکستان ساتویں، نائیجریا آٹھویں، بنگلا دیش نویں اور میکسیکو دسویں نمبر پر ہے۔

وطن عزیز ذہنی امراض کے لحاظ سے صف اول کے 10 ممالک میں شامل ہے جو ایک تشویشناک بات ہے۔ اِس مشینی اور جدید دور میں بہت ساری آسائشوں اور سہولیات کے باوجود انسان کسی نہ کسی مسئلے کی وجہ سے ڈپریشن یا ذہنی امراض کا شکار ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اِس وقت پاکستان میں 50 ملین یعنی 5 کروڑ افراد مختلف قسم کے نفسیاتی امراض اور ڈپریشن کا شکار ہیں۔ مزاج کا چڑچڑاپن، غصہ، اداسی، نیند اور بھوک کا ڈسٹرب ہونا، وزن میں کمی بیشی، یکسوئی واعتماد میں کمی اور مایوسی کا در آنا ذہنی صحت کے متاثر ہونے (خصوصاًاسٹریس‘ڈپریشن )کی علامات ہو سکتی ہیں۔

مختلف پھولوں پھلوں اور ہربز(جڑی بوٹیوں) کی خوشبو ذہنی امراض خصوصا ذہنی دباؤ (سٹریس ‘ڈپریشن‘شیزوفرینیا) کو نمایاں طور پر کم کرتی ہے۔ پھلوں میں لیموں آم اور مالٹے کی خوشبو ذہنی دباؤ کے امراض کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ہربلز میں پودینہ جبکہ پھولوں میں گلاب کی خوشبو انسان کے ذہنی و جسمانی کام کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتی ہے۔

سائنسی ترقی نے جہاں انسان کو ان گنت سہولتیں اور آسائشیں فراہم کی ہیں وہاں ذہنی دباؤ اور نفسیاتی و ذہنی امراض میں بھی انتہائی اضافہ ہوا ہے۔ زندگی کی تیز رفتاری اور کم تر وقت میں بہت کچھ حاصل کر لینے کی خواہش ذہنی دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے۔

دنیا بھر میں ایسے افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جو کسی نہ کسی حوالے سے ذہنی امراض کا شکار ہیں۔ بعض خوشبوئیں سونگھنے سے ذہنی امراض سے تعلق رکھنے والے مخصوص جینز متحرک ہو جاتے ہیں اور خون کی کیمسٹری میں ایک مخصوص تبدیلی واقع ہوتی ہے جس سے ذہنی امراض خصوصاً ذہنی دباؤ کم کرنے میں بہت مدد ملتی ہے۔

خوشبوؤں کے اس مہکتے ہوئے علاج کو اروما تھراپی کہتے ہیں جو دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے ۔پھلوں میں لیموں، آم اور مالٹے کی خوشبو ذہنی دباؤ اور ذہنی امراض کم کرنے میں مدد دیتی ہے ہربلز میں پودینہ جبکہ پھولوں میں گلاب کی خوشبو انسان کے ذہنی و جسمانی کام کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتی ہے۔ اس کی خوشبو سے یادداشت میں اضافہ ہوتا ہے ۔الزائمر کے مرض سے بچاؤ میں انتہائی موثر ہے۔

الزائمر ایک دماغی بیماری ہے جس سے بہت آہستگی کے ساتھ متاثرہ فرد اپنی یادداشت کھو دیتا ہے۔ رات کے اوقات میں گلاب کی خوشبو سونگھنے سے افراد کی ذہنی صحت پر انتہائی مفید اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

انسانی دماغ کا اہم حصہ’’ ہیپو کیمپس‘‘ یادداشت کا ذخیرہ ہوتا ہے۔ رات کے وقت خوشبو سونگھنے سے دماغ کے اس اہم حصہ کی کارکردگی بڑھ جاتی ہے اور انسان کی یادداشت کو مضبوط بنا دیتی ہے۔ گلاب کی خوشبو نیند لانے میں بھی فائدہ مند ہے اور اچھی نیند جسمانی و ذہنی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

خوش رہیں‘بیماریوں سے بچیں

خوش رہنے سے قوت مدافعت اور ذہنی کارکردگی میں اضافہ ہوجاتاہے۔

حکیم قاضی ایم اے خالد

 ہنسنا، مسکرانا اور خوش رہنا ذہنی اور جسمانی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے ۔ خوش رہنا صحت کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا ورزش کرنایا صحت مند غذا کھانا۔خوشی ذہنی تنا ؤ‘یاسیت اور بے چینی کو کم کرتی ہے‘متعدد امراض سے بچاتی ہے اور چہرے کی کشش میں اضافہ کا باعث بنتی ہے ۔

خوش رہنے سے قوت مدافعت اور ذہنی کارکردگی میں اضافہ ہوجاتاہے۔خوش رہنے والوں سے لوگ بات کرنے میں آسانی محسوس کرتے ہیں نیز ان سے محبت وانسیت رکھتے ہیں۔مسکرانے والے افراد کو لوگ زیادہ قابل اعتبار سمجھتے ہیں اور لاشعوری طور پر ان سے ربط رکھنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔

ایک جدید تحقیق کے مطابق جھوٹی مسکراہٹ چہرے پر سجانے اور جھوٹی ہنسی ہنسنے سے بھی آپ کا دماغ آپ کو خوشی کا احساس دلاتا ہے اورقدرتی طور پر ذہنی تناؤ اور فکر کو کم کر کے ایسے ہارمونز پیدا کرتا ہے جو آپ کو خوش رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں اور جب یہ مسکراہٹ سچی ہو تو آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس کے انسانی جسم پر کیا مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں

مسکراہٹ چہرے کے تمام عضلات کو حرکت میں لے آتی ہے ۔ ایسے افراد جو بالکل نہیں مسکراتے یا کم مسکراتے ہیں ان کے چہرے کے عضلات حرکت نہ کرنے کے باعث اکڑ جاتے ہیں۔ایسے افراد کا چہرہ بالکل سپاٹ ہو جا تا ہے اور اس پر کوئی تاثر نہیں آتا۔مسکراہٹ چہرے کے عضلات کو آرام بھی پہنچاتی ہے۔
اس کے برعکس تیوری چڑھانا یا غصہ کے تاثرات میں چہرہ بے آرام رہتا ہے اور تکلیف محسوس کرتا ہے لہٰذا مسکرانے کی عادت ڈالیں تاکہ آپ کے عضلات حرکت میں رہیں اور آپ کا چہرہ بے جان‘سپاٹ یا بے تاثر نہ دکھائی دے۔

مسکراہٹ متعدی مرض کی طرح ایک سے دوسرے شخص کو لگتی ہے یعنی جب کوئی شخص مسکراتا ہے تو اسے دیکھ کر دوسرے فرد کیلئے بھی اپنی مسکراہٹ کو روکنا بہت مشکل ہوتا ہے اور یوں مسکراہٹ ایک سے دوسرے فرد تک منتقل ہوجاتی ہے۔
جب ایک شخص دل سے مسکراتا ہے تو اِس سے اس کے احساسات کا پتہ چلتا ہے جیسے کہ خوشی، اِطمینان اور سکون۔ ایک تحقیق کے مطابق چند دن کے بچے بھی دوسروں کے چہرے کے تاثرات سے ان کے احساسات کا بڑی اچھی طرح اندازہ لگا سکتے ہیں۔اِس کے علاوہ یہ بھی کہ ایک شخص کی مسکراہٹ سے دوسرے نہ صرف اس کے احساسات کا اندازہ لگا سکتے ہیں بلکہ یہ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ انہیں اس شخص کے ساتھ کیسے پیش آنا چاہئے۔جدیدسائنس نے اس بات کو ثابت کردیا ہے کہ کسی دوست، رشتے دار بلکہ کسی اجنبی کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنے سے بھی ہمارے دل اور دماغ میں ایسی خوشی کی لہر پیدا ہوتی ہے جو چاکلیٹ کھانے یا پیسوں کے حصول وغیرہ سے بھی زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔

جو لوگ زیادہ خوش رہتے ہیں ان کی شادیاں بھی زیادہ کامیاب ہوتی ہیں ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جن خواتین کی مسکراہٹ نمایاں ہوتی ہے وہ اپنی ازدواجی زندگی سے زیادہ مطمئن بھی ہوتی ہیں، جبکہ جتنا زیادہ کوئی خاتون خوش رہتی ہے اس کی شادی بھی طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ ہنسنے مسکرانے اور خوش رہنے کے عادی ہوتے ہیں وہ زیادہ پرامید اور جذباتی طور پربھی مستحکم ہوتے ہیں اور یہ خوبیاں صحت مندازدواجی رشتے کا سبب بنتی ہیں۔
خوش رہناایک پاورفل شخصیت کا اسلوب ہو تا ہے۔ اس لئے آپ خوش رہیں اور ہمیشہ مسکراتے رہیں۔ زندگی ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹنے کا نام ہے زندگی یہ ہے کہ آپ کا نام سنتے ہی کتنے دوستوں کے چہروں پر مسکراہٹ آتی ہے ۔آپ کے دوست احباب آپ کے اچھے کام دیکھ کر کتنے خوش ہوتے ہیںاور یہ تبھی ممکن ہے جب آپ بھی انہیں خوش رکھنے کی بھرپور کوشش کرتے ہوں۔لہٰذا ضرورمسکرائیے! مسکراہٹ ایک ایسا تحفہ ہے جس پر کوئی لاگت نہیں آتی آپ کی مسکراہٹ کے بدلے میں آپ کو بھی مسکراہٹ کا تحفہ فوراً ہی مل سکتا ہے اور آپ بھی خوش رہ سکتے ہیں۔

امریکہ کی ییل یونیورسٹی میں علم نفسیات اور علم ادراک کی پروفیسر لوری سینٹوس کا کہنا ہے کہ سائنس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ خوش رہنے کے لیے دانستہ کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔پروفیسر سینٹوس کہتی ہیں کہ خوش رہنا یونہی نہیں آتا اس کیلئے مشق کرنی ہوتی ہے۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے موسیقار اور ایتھلیٹ اپنے آپ کو بہتر کرنے اور کامیاب ہونے کے لیے مسلسل ریاض اور مشق کرتے ہیں۔پروفیسر سینٹوس خوش رہنے کے بارے میں تعلیم دیتے ہوئے شکر اور احسان مندی پر زور دیتی ہیں‘ زیادہ اور بہتر طریقے سے نیند کا مشورہ دیتی ہیں وہ کہتی ہیں کہ روزانہ 10منٹ مراقبہ کریں۔زیادہ وقت اہل خانہ کے ساتھ گزاریں اور حقیقی روابط کو بڑھائیں۔

خوش رہنے کی تدابیر:متوازن خوراک اور ورزش کا خیال رکھنا چاہئے۔دوسروں سے اپنی بات شیئر کریں۔اپنا دکھ کسی سے بیان نہ کرنے سے وہ بڑھتارہتا ہے۔خوشی اور غم دونوں صورتوں میں اس کا اظہار لازم ہے کیونکہ ایسا کرنے سے غم کم ہوتاہے اور خوشی بڑھتی ہے۔کھیل کودبھی صحت اور موڈپر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اسلئے اسے بھی اپنے معمول میں لازماًشامل کریں۔خوش رہنے کے لئے ضروری ہے کہ زندگی میں سادگی اور قناعت کوشعاربنایاجائے۔بلاوجہ کی مقابلہ بازی ‘ہوس اور ہنگامہ خیزی سے اجتناب کیاجائے۔اعلیٰ انسانی اور مذہبی اقدارکو اپنایاجائے انسانی رشتوں دوست واحباب اور خاندان کے ساتھ مل جل کر اورمحبت سے رہا جائے۔حسدورقابت کے جذبات کسی طور کسی بھی فرد کو خوش نہیں رکھ سکتے لہٰذا ان سے اجتناب کیا جائے ۔ ہمیں چاہئے کہ دکھ درد میں ایک دوسرے کاسہارابنیں۔زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو ادنیٰ نہ سمجھیں ان سے بھرپور لطف اندوز ہوں ۔

آشوب چشم میں ٹھنڈے پانی کے چھینٹے اور عرق گلاب 🌹 مفید ہے۔حکیم قاضی ایم اے خالد

آشوب چشم ایک موسمی وباء ہے جوہر سال مون سون میں پھیلتی ہے تاہم حبس اور شدید مرطوب گرمی بھی آشوب چشم کی وباء پھیلانے کا اہم سبب ہے اس وائرل مرض کا دورانیہ کم و بیش ایک ہفتہ پر مشتمل ہوتاہے۔جدید تحقیقات اور ایلو پیتھک ماہرین کے مطابق آشوب چشم کا کوئی خاص علاج نہیں لیکن چودہ سوسال قبل (بحوالہ نزہ المجالس جزثانی)طبیب اعظم نبی کریم حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے آشوبِ چشم کا علاج ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارنے سے فرمایا۔ دنیا بھر کے تمام معالجین اس مرض سے نجات کیلئے طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی علاج کا مشورہ دیتے ہیں۔آشوب چشم سے متاثرہ مریضوں کو چاہئے کہ وہ ٹھنڈے و صاف پانی یا عرق گلاب سے آنکھیں بار بار دھوئیں ‘خالص شہد سلائی سے لگانا مفید ہے علاوہ ازیں عرق گلاب سو ملی لیٹرمیں ایک گرام پھٹکری سفید شامل کرکے بطور آئی ڈراپس استعمال کریں یہ نسخہ بارہ سال سے کم عمر بچوں کیلئے نہیں ہے انہیں صرف صاف ٹھنڈے پانی یا عرق گلاب کا استعمال کروائیں۔دھوپ کی عینک کا استعمال اوربرف سے آنکھوں کی ٹکور فائدہ مندثابت ہوتی ہے یاد رہے برف صاف پانی کا ہویا عرق گلاب سے تیار کی گئی ہو۔ ٹھنڈک سے آشوب چشم کاوائرس کمزور پڑ جاتاہے۔ گرمی’حبس اور بارش کے بعد آلودہ پانی کی وجہ سے آشوب چشم کاوائرس زیادہ نشو و نما پاتا ہے اور آنکھوں کو متاثر کرتا ہے۔ جیسے جیسے گرمی کی شدت کم ہوتی ہے یہ وائرس دم توڑ دیتا ہے۔ وائرس سے متاثر ہونے کی وجہ سے آنکھ سرخ ہو جاتی ہے اورتکلیف کی شدت سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آنکھ میں ریت گر گئی ہو۔ ایک آنکھ کے متاثر ہونے کے بعد دوسری آنکھ عموماً 48گھنٹے بعد متاثر ہو جاتی ہے۔ احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرتے ہوئے حکیم خالد نے کہا کہ یہ ایک چھوتدار مرض ہے جومتاثرہ فرد کے زیر استعمال اشیا ء خصوصاًتولئے’رومال یاا لودہ ہاتھ ملانے سے ایک سے دوسرے کو لگتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسے افراد جو آشوب چشم سے متاثر ہوں وہ بار بارصابن یالیکوئڈ سوپ سے ہاتھ دھوئیں۔ آنکھوں سے بہنے والے پانی کو ہاتھ کی بجائے ٹشو پیپر سے صاف کر یں۔ کسی قسم کی پیچیدگی کی صورت میں فوری طور پر معالج سے رجوع کریں۔ آشوب چشم میں مندرجہ بالا بے ضرر گھریلو علاج کے علاوہ طرح طرح کی ادویات ازخود استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ غلط دوا کے استعمال سے قرنیہ متاثر ہونے کا شدید خطرہ ہوتا ہے۔
Design a site like this with WordPress.com
شروع کریں