لوکاٹ ایک صحت بخش مزیدار پھل

لوکاٹ ایک ذائقہ دار پھل ہونے کے ساتھ ساتھ صحت کے لیے انتہائی مفید ہے۔ اس میں وٹامن اے، سی، فولیٹ اور اینٹی آکسیڈینٹس وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔
لوکاٹ کے چند بڑے طبی فوائد درج ذیل ہیں:

1. وزن میں کمی

لوکاٹ میں فائبر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو پیٹ کو دیر تک بھرا رکھتا ہے اور میٹابولزم کو تیز کر کے وزن کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

2. دل کی صحت

لوکاٹ پوٹاشیم اور میگنیشیم کا اچھا مجموعہ ہے، جو بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھتا ہے اور شریانوں کی سوزش کو کم کر کے دل کی بیماریوں سے بچاتا ہے۔

3. نظامِ ہضم کی بہتری

اس میں موجود پیکٹن (فائبر کی ایک قسم) قبض کو دور کرنے اور آنتوں کی صفائی کے لیے بہترین ہے۔

4. بصارت (آنکھوں) کے لیے مفید

لوکاٹ میں وٹامن اے کی موجودگی کی وجہ سے یہ آنکھوں کی روشنی کو تیز کرتا ہے اور موتیے جیسے امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔

5. قوتِ مدافعت میں اضافہ

لوکاٹ میں موجود وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈینٹس جسم کو وائرل انفیکشنز اور موسمی بیماریوں سے لڑنے کی طاقت فراہم کرتے ہیں۔

6. ذیابطیس کا کنٹرول

تحقیق کے مطابق لوکاٹ کے پتے اور پھل خون میں شوگر کی سطح کو متوازن رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

7. ہڈیوں کی مضبوطی

یہ ہڈیوں کو پہنچنے والے نقصان کو روکنے اور انہیں مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

لوکاٹ کے پتوں کا قہوہ شوگر، نزلہ، زکام اور جگر کے امراض کے لیے مفید مانا جاتا ہے۔

حکیم قاضی ایم اے خالد

لوکاٹ کے حوالے سے حکیم قاضی ایم اے خالد کا تفصیلی فل پیج آرٹیکل سنڈے میگزین روزنامہ نوائے وقت میں آن لائن پڑھنے کے لیے درج ذیل تصویر پر کلک کریں ۔

تھکن: دور حاضر کا اہم ترین مسئلہ

جسمانی اور ذہنی تھکن دور کرنے کے لیے طرز زندگی اور غذا میں چند تبدیلیوں کے ذریعے توانائی بحال کی جا سکتی ہے:

1. بہترین غذائیں اور مشروبات

  • پانی کا استعمال: تھکن کی ایک بڑی وجہ پانی کی کمی (Dehydration) ہوتی ہے۔ دن بھر وافر مقدار میں پانی پئیں۔
  • گری دار میوے: اخروٹ، بادام اور چیا کے بیج میگنیشیم اور صحت مند چکنائی سے بھرپور ہوتے ہیں جو توانائی کی سطح کو مستحکم رکھتے ہیں۔
  • پھل: کیلے (پوٹاشیم اور کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور) اور بیریاں (وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹس کا مجموعہ) تھکاوٹ دور کرنے میں بہت مددگار ہیں۔
  • توانائی بخش دودھ: دودھ میں بادام، پستہ، الائچی اور زعفران ڈال کر پینا جسمانی طاقت بڑھاتا ہے نیز تھکاوٹ دور کرتا ہے

2. طرز زندگی میں تبدیلیاں

  • مناسب آرام اور نیند: صرف سونا ہی کافی نہیں بلکہ دن میں ایسا وقت نکالیں جہاں آپ وہ کام کریں جو آپ کی توانائی بڑھائیں۔ ناقص نیند تھکن کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
  • متوازن غذا: ناشتہ کبھی نہ چھوڑیں اور اپنی خوراک میں پروٹین (انڈے، چکن، دالیں) اور سالم اناج (Whole grains) شامل کریں۔
  • مختصر ورزش: اگرچہ تھکن میں ورزش مشکل لگتی ہے، لیکن ہلکی چہل قدمی آپ کے مزاج اور توانائی پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔

3. گھریلو نسخے

  • اشوگندھا اور دودھ: ایک چمچ اشوگندھا پاؤڈر گرم دودھ میں ملا کر سونے سے پہلے پینا سردیوں میں تھکاوٹ کا ایک مؤثر علاج ہے۔
  • ہربل چائے: تلسی کی چائے تناؤ سے متعلق تھکن کم کرنے میں مدد دیتی ہے، جبکہ زیرہ، دھنیا اور سونف کی چائے جسم کو ڈیٹوکس کرتی ہے۔ جس سے تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے۔

حکیم قاضی ایم اے خالد

تھکن کے موضوع پر حکیم قاضی ایم اے خالد کا تفصیلی فل پیج مضمون سنڈے میگزین روزنامہ نوائے وقت میں آن لائن پڑھنے کے لئے درج ذیل تصویر پر کلک کریں ۔

اسٹرابیری ۔ محبت کی علامت اور صحت کی ضامن

اسٹرابیری ایک ذائقہ دار پھل ہونے کے ساتھ ساتھ صحت کے لیے انتہائی مفید ہے۔ اس میں وٹامن سی، فائبر، اور اینٹی آکسیڈنٹس وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں جو جسم کو مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔
اسٹرابیری کے چند اہم طبی فوائد درج ذیل ہیں:

  • قوتِ مدافعت میں اضافہ: اسٹرابیری وٹامن سی کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے، جو جسم کے دفاعی نظام کو مضبوط بنا کر انفیکشن اور بیماریوں سے لڑنے میں مدد دیتا ہے۔
  • دل کی صحت: طبی: اسٹرابیری کا باقاعدہ استعمال کولیسٹرول کی سطح اور بلڈ پریشر کو کم کرتا ہے، جس سے ہارٹ اٹیک اور دل کے دیگر امراض کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
  • خون کی افزائش: یہ جسم میں خون کی کمی کو پورا کرنے اور رگوں میں خون کی گردش کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
  • جلد کی خوبصورتی: اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس بڑھاپے کے اثرات کو روکتے ہیں اور جلد کو تروتازہ رکھتے ہیں۔ اسٹرابیری کا پیسٹ چہرے پر لگانے سے رنگت نکھرتی ہے۔
  • دماغی صحت: اسٹرابیری کا استعمال یادداشت کو بہتر بنانے اور بڑھاپے میں بھولنے کی بیماری (نسیان) سے بچانے میں مددگار ہے۔
  • وزن میں کمی اور شوگر کنٹرول: فائبر سے بھرپور ہونے کی وجہ سے یہ وزن کم کرنے میں مدد دیتی ہے اور خون میں شوگر کی سطح کو مستحکم رکھتی ہے۔
  • جوڑوں کے درد میں مفید: اسٹرابیری میں سوزش کے خلاف خصوصیات پائی جاتی ہیں جو جوڑوں کے درد کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں۔

حکیم قاضی ایم اے خالد

اسٹرابیری پر حکیم قاضی ایم اے خالد کا تحریر کردہ تفصیلی فل پیج مضمون سنڈے میگزین روزنامہ نوائے وقت میں آن لائن پڑھنے کے لئے درج ذیل تصویر پر کلک کریں۔

امراض گردہ اور خربوزہ

خربوزہ گردوں کی صحت کے لیے ایک مفید پھل تصور کیا جاتا ہے، خاص طور پر گردوں کی دی ٹاکسنگ اور پیشاب کی نالی کے مسائل میں خربوزہ فائدہ مند ہے۔


خربوزے کے گردوں کے لیے اہم فوائد:

  • گردوں کی صفائی: خربوزہ قدرتی طور پر "ڈی ٹاکس” (Detox) کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو گردوں سے زہریلے مادوں کے اخراج میں مدد دیتا ہے۔
  • پیشاب آور خصوصیات: یہ پیشاب کی مقدار بڑھاتا ہے، جس سے گردوں اور مثانے کی نالیوں میں رکاوٹ یا سوزش کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
  • چھلکے اور بیج کا استعمال: طبی ماہرین کے مطابق، خربوزے کے چھلکے ابال کر ان کا پانی پینا اور اس کے بیجوں کا استعمال بھی گردوں کی صفائی کے لیے مؤثر سمجھا جاتا ہے۔
  • غذائی اجزاء: خربوزے میں فاسفورس، کیلشیم اور پوٹاشیم جیسے اجزاء پائے جاتے ہیں جو جسمانی صحت کے لیے ضروری ہیں۔

انتباہ:
اگرچہ خربوزہ عام طور پر گردوں کے لیے اچھا ہے، لیکن درج ذیل صورتوں میں احتیاط ضروری ہے:

  • ڈائیلاسز یا گردے فیل ہونے کی صورت میں: دائمی گردے کے مرض (CKD) کے مریضوں کو پوٹاشیم اور فاسفورس کی سطح کو کنٹرول میں رکھنا ہوتا ہے۔ ایسے مریضوں کے لیے خربوزے کا استعمال ان کے ڈاکٹر یا ماہرِ غذائیت کے مشورے کے بغیر نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
  • ذیابیطس (Sugar): چونکہ خربوزہ میٹھا ہوتا ہے، اس لیے شوگر کے مریضوں کو اس کی مقدار کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ یا مغز خربوزہ استعمال کرنا چاہئے۔

حکیم قاضی ایم اے خالد

خربوزہ سے متعلق حکیم قاضی ایم اے خالد کا تحریر کردہ تفصیلی مضمون سنڈے میگزین روزنامہ نوائے وقت میں آن لائن پڑھنے کےلئے درج ذیل تصویر پر کلک کریں۔

عالمی یوم دمہ اور طب یونانی

طبِ یونانی (Unani Medicine) میں دمہ، جسے ‘ربو’ بھی کہا جاتا ہے، ایک بلغمی مرض تصور کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ علاج کی بنیاد اخلاط اربعہ (خون، بلغم، صفرا اور سودا) کے توازن پر ہے، اور دمہ اس وقت ہوتا ہے جب پھیپھڑوں اور سانس کی نالیوں میں غیر طبعی بلغم کی زیادتی ہو جائے۔

طبِ یونانی کے مطابق دمہ کی وجوہات اور کیفیت

  • بلغم کا اجتماع: پھیپھڑوں کی باریک نالیوں میں گاڑھا اور لیس دار بلغم جمع ہو جاتا ہے جو سانس کی آمد و رفت میں رکاوٹ بنتا ہے۔
  • مزاجی کیفیت: دمہ کے مریض کا مزاج عموماً سرد اور تر (Cold & Moist) ہو جاتا ہے، جس سے جسم میں رطوبتیں بڑھ جاتی ہیں۔
  • محرکات: نزلہ، زکام، کھانسی کا پرانا ہونا، اور ہاضمے کی خرابی، بارش میں بھیگنا،روم کولر یا اے سی کا بہت زیادہ استعمال دمہ کے حملے کو تیز کر سکتے ہیں۔

یونانی طریقہ علاج کے بنیادی اصول

یونانی اطباء دمہ کا علاج تین سطحوں پر کرتے ہیں:

  1. اخراجِ بلغم (Expectoration): ایسی ادویات اور غذائیں استعمال کرائی جاتی ہیں جو پھیپھڑوں میں جمے ہوئے بلغم کو پتلا کر کے خارج کریں۔
  2. تنقیہ (Purification): جسم سے فاسد مادوں کو نکال کر خون کی صفائی کی جاتی ہے تاکہ سوزش کم ہو۔
  3. غذا اور پرہیز (Dietary Control):
  • پرہیز: دودھ، مکھن، کیلا، گھی، اور چکنائی والی اشیاء سے پرہیز کروایا جاتا ہے کیونکہ یہ بلغم میں اضافہ کرتی ہیں۔
  • مفید غذائیں: شہد، ادرک، لہسن، اور گرم تاثیر والی جڑی بوٹیاں سانس کی نالیوں کو کھولنے میں مدد دیتی ہیں۔

عام یونانی ادویہ اور جڑی بوٹیاں

  • حکیم خالد کا آب پودینہ: دمہ کسی بھی قسم کا ہو آب پودینہ کا ایک چمچ انہیلر کا کام دیتا ہے اور سانس کی روانی کو فوراً بحال کرتا ہے۔
  • یونانی دوا لعوق کتاں اور لعوق خیارشنبر بھی فائدہ مند ہیں۔
  • جڑی بوٹیاں: ملٹھی، زوفا، اور السی جیسے قدرتی اجزاء پھیپھڑوں کی سوجن دور کرنے اور سانس کی روانی بحال کرنے کے لیے معروف ہیں۔

حکیم قاضی ایم اے خالد

تربوز ۔ نیچرل ویاگرا

تربوز کو دنیا بھر کے طبی ماہرینِ مردانہ صحت کے لیے ایک بہترین قدرتی پھل قرار دیتے ہیں، یہاں تک کہ اسے "نیچرل ویاگرا” بھی کہا جاتا ہے۔


اس کی اہم وجوہات درج ذیل ہیں:

  • سائٹرولین (Citrulline): تربوز میں "سائٹرولین” نامی امینو ایسڈ پایا جاتا ہے جو جسم میں جا کر خون کی نالیوں کو آرام پہنچاتا اور انہیں کھولتا ہے۔ اس سے دورانِ خون میں بہتری آتی ہے، جو عضوِ تناسل میں ایستادگی (erection) کے مسائل حل کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
  • ٹیسٹوسٹیرون میں اضافہ: تربوز ٹیسٹوسٹیرون (مردانہ ہارمون) کی سطح کو بہتر بنانے میں بھی مدد دیتا ہے، جس سے جنسی خواہش اور توانائی میں اضافہ ہوتا ہے۔
  • لائکوپین اور پروسٹیٹ صحت: اس میں موجود لائکوپین پروسٹیٹ کی صحت کے لیے مفید ہے، جو بالواسطہ مردانہ تولیدی صحت کو بہتر بناتا ہے۔
  • تربوز کے بیج: تحقیق کے مطابق تربوز  کے بیج مردانہ کمزوری کے علاج میں خاص طور پر مفید سمجھے جاتے ہیں۔ عرب اسٹیٹس میں اسے بھون کر ڈرائی فروٹ کی طرح کھایا جاتا ہے۔

حکیم قاضی ایم اے خالد

آب پودینہ (پیپر منٹ واٹر ) کے فوائد

آب پودینہ نظامِ ہاضمہ کے لیے ایک بہترین قدرتی علاج  ہے، جو نہ صرف پیٹ کے مسائل بلکہ ہائی بلڈ پریشر سمیت جلد اور عام صحت کے لیے بھی بے حد مفید ہے۔ 
## ہاضمے اور معدے کے فوائد

* بدہضمی اور گیس سے نجات: آب پودینہ پیٹ میں گیس، ریاح (bloating) اور بدہضمی کو ختم کرنے میں بہت مؤثر ہے۔
* متلی اور قے: آب پودینہ سفر کے دوران ہونے والی متلی یا پیٹ کی خرابی کی وجہ سے ہونے والی قے کو روکنے میں مدد دیتا ہے۔
* دردِ شکم:آب پودینہ پیٹ کے مروڑ اور عام درد میں آرام پہنچاتا ہے۔
* بھوک کی کمی: آب پودینہ کا استعمال معدے کو تقویت دیتا ہے جس سے بھوک میں اضافہ ہوتا ہے۔

## جلد اور خوبصورتی کے لیے فوائد

* رنگت نکھارنا: آب پودینہ جلد کی رنگت صاف کرنے اور اسے تروتازہ رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
* ایکنی اور داغ دھبے: آب پودینہ میں موجود اینٹی بیکٹیریل خصوصیات کیل مہاسوں اور ان کے نشانات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
* سیاہ حلقے: آنکھوں کے گرد سیاہ حلقوں (dark circles) کو کم کرنے کے لیے بھی اس کا استعمال مفید   ہے۔ 

## دیگر طبی فوائد

* سانس کی بیماریاں: آب پودینہ دمے کے مریضوں اور عملِ تنفس کے مسائل میں ریلیف فراہم کرتا ہے۔
* جراثیم کش: آب پودینہ میں اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں جو جسم کو جراثیم سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔
* سر درد: آب پودینہ کی خوشبو سر درد میں سکون فراہم کرتی ہے۔ 

حکیم قاضی ایم اے خالد

آب پودینہ حکیم قاضی ایم اے خالد کے مطب خالد خاندانی دواخانہ 32 ذیلدار روڈ اچھرہ لاہور پاکستان سے دوپہر تین بجے سے رات دس بجے تک حاصل کیا جا سکتا ہے سیل نمبر 03034125007

روز واٹر کے فائدے

حکیم خالد کا روز واٹر جلد اور صحت کے لیے بے شمار فوائد رکھتا ہے۔ اس کے اہم فوائد درج ذیل ہیں:

جلد کے لیے فوائد

  • قدرتی ٹونر: یہ جلد کے مساموں کو صاف کرتا ہے اور اضافی چکنائی کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سے چہرہ تروتازہ نظر آتا ہے۔
  • جلد کی نمی (Hydration): خشک جلد کے لیے یہ ایک بہترین موئسچرائزر ہے جو جلد میں نمی کو برقرار رکھتا ہے۔
  • داغ دھبوں اور دانوں کا خاتمہ: اس میں موجود اینٹی بیکٹیریل خصوصیات کیل مہاسوں اور داغ دھبوں کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
  • اینٹی ایجنگ: حکیم خالد کا روز واٹر چھائیوں کو ختم کرنے اور جلد کو جوان رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
  • جلد کی سرخی اور سوزش: یہ حساس جلد پر ہونے والی سرخی اور جلن کو کم کرنے کے لیے انتہائی مفید ہے۔

دیگر طبی فوائد

  • آنکھوں کی ٹھنڈک: تھکی ہوئی آنکھوں میں روز واٹر ڈالنے سے جلن کم ہوتی ہے اور سکون ملتا ہے۔
  • گلے کی خراش: روز واٹر گلے کی سوزش اور خراش کو کم کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
  • ذہنی سکون: روز واٹر کی خوشبو تناؤ کو کم کرنے اور موڈ کو خوشگوار بنانے میں مدد دیتی ہے۔

حکیم خالد کا روز واٹر ان کے مطب خالد خاندانی دواخانہ 32 ذیلدار روڈ اچھرہ لاہور پاکستان سے دوپہر تین بجے سے رات دس بجے تک حاصل کیا جا سکتا ہے

موسم گرما کے امراض کا یونانی علاج

طبِ یونانی (Unani Medicine) میں گرمی سے ہونے والے امراض کو جسم میں "صفرا” (Yellow Bile) کی زیادتی یا خون کی حدت سے منسوب کیا جاتا ہے۔ ان امراض میں معدے کی تیزابیت، ہاتھ پاؤں کی جلن، لو لگنا، گرمی کا بخار، اور جگر و مثانے کی گرمی اور یرقان وغیرہ شامل ہیں۔ 
ذیل میں گرمی کے امراض کے لیے عام استعمال ہونے والے گھریلو یونانی طریقے درج ہیں:


## مشروبات اور غذا (Dietary Measures)

* ستو کا شربت: جو (Barley) کے ستو گرمی کے توڑ کے لیے بہترین سمجھے جاتے ہیں۔
* شربتِ بزوری: یہ جگر اور مثانے کی گرمی دور کرنے اور پیشاب کی جلن اور یرقان اصفر کے لیے یونانی دواخانوں کا مشہور نسخہ ہے۔
* تخم بالنگو اور اسپغول: انہیں پانی یا دودھ میں بھگو کر استعمال کرنے سے معدے کی گرمی اور جلن کم ہوتی ہے۔
* صندل کا شربت: صندل اپنی ٹھنڈی تاثیر کی وجہ سے دل اور دماغ کو سکون دیتا ہے اور جسمانی حدت کم کرتا ہے۔

## قدرتی جڑی بوٹیاں (Herbal Remedies)

* عرقِ گلاب: یہ پینے اور آنکھوں میں ڈالنے، دونوں صورتوں میں گرمی کی شدت کم کرتا ہے۔
* خشخاش اور دھنیا: خشک دھنیا اور خشخاش کا ٹھنڈا مشروب (سردائی) بنا کر پینے سے دماغی گرمی اور بے خوابی کا علاج ہوتا ہے۔
* کچی لسی: دودھ میں پانی ملا کر پینا (کچی لسی) جسم کو فوری ٹھنڈک پہنچاتا ہے اور نمکیات کی کمی دور کرتا ہے۔

## علامتی علاج (Symptomatic Treatment)

* ہاتھ پاؤں کی جلن: مہندی کے پتوں کا لیپ پیروں کے تلوؤں پر کرنے سے جلن میں افاقہ ہوتا ہے۔
* گرمی کا بخار: یونانی طبیب اکثر "خاکسی” یا "نیلوفر” کے پھولوں کا جوشاندہ استعمال کرواتے ہیں تاکہ جسم کا درجہ حرارت کم ہو سکے۔

## احتیاطی تدابیر

* مسالے دار کھانوں سے پرہیز: گرمی میں مرچ مصالحوں اور تلی ہوئی چیزوں سے بچیں کیونکہ یہ صفرا میں اضافہ کرتے ہیں۔
* پانی کا زیادہ استعمال: دن بھر وقفے وقفے سے سادہ پانی پینا ہائیڈریشن کے لیے لازمی ہے۔

حکیم قاضی ایم اے خالد

موسم گرما کے جملہ امراض کے کامیاب ترین یونانی علاج کےلئے معروف یونانی معالج حکیم قاضی ایم اے خالد سے دوپہر تین بجے سے رات دس بجے تک ان کے مطب خالد خاندانی دواخانہ 32 ذیلدار روڈ اچھرہ لاہور پاکستان سے رجوع فرمائیں. سیل نمبر 03034125007

امراض جگر ، طب یونانی اور نینو ٹیکنالوجی

جگر کے امراض کے لیے طب یونانی اور نینو ٹیکنالوجی کا امتزاج ایک ابھرتا ہوا علمی و طبی شعبہ ہے جو قدیم حکمت کو جدید ترین سائنس سے جوڑتا ہے۔
طب یونانی میں ٹریس میٹلز کا استعمال صدیوں سے رائج ہے، قدیم طب یونانی میں جڑی بوٹیوں اور معدنیات کو مہینوں کھرل کرنے کے بعد مخصوص درجہ حرارت کی آگ دے کر مرکب تیار کئے جاتے تھے جن کی قلیل مقدار جدید تحقیق کے مطابق تیار شدہ ادویات کے ساتھ شامل کرکے استعمال کروانا جدید سائنس میں نینو ٹیکنالوجی کی ایک شکل قرار دیا جاتا ہے۔ جب دھاتوں یا جڑی بوٹیوں کے نینو پارٹیکلز انتہائی عرق ریزی اور مہارت سے اخذ کیے جاتے ہیں، تو ان کے ذرات نینو سائز (بہت ہی چھوٹے پیمانے) تک پہنچ جاتے ہیں، جس سے نہ صرف وہ بے ضرر ہو جاتے ہیں بلکہ ان کی اثر پذیری اور جسم میں جذب ہونے کی صلاحیت بھی کئی سو گنا بڑھ جاتی ہے۔ جس سے پیچیدہ سے پیچیدہ لاعلاج امراض سے ہم کنار افراد بھی شفایاب ہو جاتے ہیں۔
جگر اور نینو ٹیکنالوجی کے حوالے سے اہم نکات درج ذیل ہیں:


## 1. جگر کے امراض اور طب یونانی

* فیٹی لیور (Fatty Liver): طب یونانی میں جگر کی چربی اور ورم کا علاج موثر طریقے سے کیا جاتا ہے، جبکہ طب جدید میں اکثر جگر کی تبدیلی (transplant) ہی آخری حل کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔
* اخلاط کا توازن: یونانی فلسفے کے مطابق جگر جسم میں اخلاط (خون، بلغم، صفرا، سودا) کے توازن کو برقرار رکھنے والا مرکزی عضو ہے۔

## 2. نینو ٹیکنالوجی کا کردار

* ٹارگٹڈ تھراپی (Targeted Therapy): نینو ٹیکنالوجی کے ذریعے ادویات کو براہ راست جگر کے متاثرہ خلیوں تک پہنچایا جا سکتا ہے، جس سے جگر کے کینسر اور ہیپاٹائٹس جیسی بیماریوں کے علاج میں مدد ملتی ہے۔
* ادویات کی تاثیر: یونانی ادویات (جیسے چاندی اور  خبث الحدید وغیرہ) کو نینو ذرات میں تبدیل کرنے سے ان کی جیو دستیابی (bioavailability) بڑھ جاتی ہے، یعنی یہ جگر میں تیزی سے کام کرتی ہیں۔ 

## 3. جدید تحقیق اور طب یونانی
معروف ہیلتھ پروفیشنل حکیم قاضی ایم اے خالد اس بات پر زور دیتے ہیں کہ قدیم یونانی طریقوں کو نینو ٹیکنالوجی کے پیمانے پر پرکھ کر جگر کے لاعلاج امراض کا حل نکالا جا سکتا ہے۔

امراض جگر میں مبتلا افراد طب یونانی اور نینو ٹیکنالوجی سے کامیاب ترین علاج کے لئے حکیم قاضی ایم اے خالد سے دوپہر تین بجے سے رات دس بجے تک ان کے مطب خالد خاندانی دواخانہ 32 ذیلدار روڈ اچھرہ لاہور پاکستان سے رجوع فرمائیں.سیل نمبر 03034125007

Design a site like this with WordPress.com
شروع کریں