چین اور پاکستان کی مشترکہ طب یونانی ریسرچ لیب کا قیام

چین، پاکستان اور او آئی سی کی کامسٹیک (OIC-COMSTECH) نے مشترکہ طور پر ہربل میڈیسن یعنی جڑی بوٹیوں کے علاج پر تحقیق کے لیے ایک جدید ترین لیبارٹری قائم کی ہے۔ اس کا باقاعدہ افتتاح جون 2026 میں چین کے شہر ننگبو (Ningbo) میں روایتی چینی ادویات اور طبِ یونانی کے باہمی تعاون کے حوالے سے منعقدہ ایک بین الاقوامی سمپوزیم کے دوران کیا گیا۔
اس ریسرچ لیب کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

1۔ شراکت دار ادارے (Collaborating Institutions)

  • یہ لیبارٹری چین کی ننگبو یونیورسٹی (Ningbo University) اور اسلامی تعاون تنظیم کی سائنسی و تکنیکی تعاون کی کمیٹی (COMSTECH) کے اشتراک سے بنائی گئی ہے۔
  • پاکستان کی طرف سے اس میں جامعہ کراچی کا انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز (ICCBS) اور یونیورسٹی آف لاہور بطور شراکت دار شامل ہیں۔

2۔ لیبارٹری کا بنیادی مقصد (Core Objective)

  • اس لیبارٹری کا مقصد روایتی چینی طریقہ علاج (TCM) اور طبِ یونانی (Unani Medicine) کے مابین مشترکہ سائنسی تحقیق اور جدت کو فروغ دینا ہے۔
  • اس میں جڑی بوٹیوں سے نئی ادویات کی تیاری، کلینیکل اور پری کلینیکل ٹرائلز، اور روایتی ادویات کی عالمی سطح پر رجسٹریشن پر کام کیا جائے گا۔

3۔ انتظامی قیادت (Leadership)

  • چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کی ممبر پروفیسر ژاؤ یوفین اس کی تعلیمی کمیٹی کی سربراہ ہیں۔
  • چین کی طرف سے پروفیسر لیو شن من اور پاکستان کی طرف سے نامور سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری اس ریسرچ لیب کے ڈائریکٹرز مقرر کیے گئے ہیں۔

4۔ ماہرین کی ٹیم (Research Team)

  • اس لیب میں 50 محققین پر مشتمل ایک کثیر الشعبہ (Multidisciplinary) ٹیم کام کر رہی ہے، جس میں 30 چینی اور 20 بین الاقوامی ماہرین شامل ہیں۔
  • یہ ماہرین فارمیسی، بائیولوجی، کیمسٹری، میڈیسن کے ساتھ ساتھ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور ریگولیٹری سائنسز جیسے شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

یہ اقدام پاکستان، چین اور دیگر اسلامی ممالک (OIC) کے درمیان روایتی جڑی بوٹیوں کے علاج کو سائنسی بنیادوں پر جدید اور مستند بنانے کے لیے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

حکیم قاضی ایم اے خالد

مہا شکتی: طبِ یونانی اور نینو ٹیکنالوجی کا انقلابی شاہکار

بڑھتی ہوئی عمر، غیر متوازن طرزِ زندگی اور ذہنی و جسمانی دباؤ کے باعث اعصابی کمزوری اور جوڑوں کے درد آج کے دور کا ایک نہایت عام اور تکلیف دہ مسئلہ بن چکے ہیں۔ ان پیچیدہ اور ضدی امراض کے مستقل اور محفوظ علاج کے لیے، طب و مائنڈ سائنس کی روشنی میں حکیم قاضی ایم اے خالد نے اپنی طویل تحقیق اور تجربے سے ایک بے مثال نسخہ وضع کیا ہے۔
"مہا شکتی” (نقرئی گولیاں) طبِ یونانی کی صدیوں پرانی مستند حکمت اور جدید ترین نینو ٹیکنالوجی کا ایک ایسا حسین امتزاج ہیں جو آپ کو دردوں سے نجات دلا کر ایک فعال، چست اور صحت مند زندگی کی طرف لوٹاتی ہیں۔

نینو ٹیکنالوجی اور نقرئی گولیوں کا کمال

جدید نینو ٹیکنالوجی کے استعمال سے ان گولیوں میں شامل خالص چاندی (نقرہ) اور دیگر قیمتی نباتاتی اجزاء کو انتہائی باریک ذرات (Nano-particles) میں تبدیل کیا گیا ہے۔ اس جدید عمل کی بدولت یہ دوا معدے پر بوجھ ڈالے بغیر خون میں فوری جذب ہوتی ہے اور براہِ راست متاثرہ خلیات، جوڑوں اور کمزور اعصاب تک پہنچتی ہے۔ نینو ٹیکنالوجی کی وجہ سے دوا کی تاثیر اور افادیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے اور مریض کو فوری ریلیف ملتا ہے۔

مہا شکتی کے حیرت انگیز فوائد

یہ گولیاں مندرجہ ذیل امراض کا مستقل اور شافی علاج ہیں:

  • اعصابی کمزوری کا خاتمہ: یہ اعصاب کو نئی توانائی بخشتی ہیں، دائمی تھکاوٹ، سستی اور کمزوری کو دور کر کے پورے جسم کو طاقت اور پھرتی فراہم کرتی ہیں۔
  • وجع المفاصل (جوڑوں کا درد): گھٹنوں، کندھوں اور دیگر جوڑوں کی سوزش، اکڑن اور درد میں فوری اور دیرپا آرام فراہم کرتی ہیں۔
  • نقرس اور گنٹھیا (Gout & Rheumatism): خون میں یورک ایسڈ کی زیادتی اور جوڑوں میں جمے ہوئے فاسد مادوں کو تحلیل کر کے نقرس اور گنٹھیا کے مریضوں کو مستقل شفا دیتی ہیں۔
  • جسمانی، اعصابی اور ریحی درد: پٹھوں کے کھچاؤ، مہروں کے درد، اور جسم میں گیس (ریح) کے رکنے کی وجہ سے ہونے والے شدید دردوں کو جڑ سے ختم کرتی ہیں۔

یہ دوا کیوں مختلف ہے؟

بازار میں دستیاب عام درد کش (Painkillers) ادویات وقتی آرام تو دیتی ہیں لیکن طویل المدتی استعمال سے معدے، جگر اور گردوں کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس کے برعکس، "مہا شکتی” ایک مکمل قدرتی، بے ضرر اور تحقیق شدہ یونانی دوا ہے جو مرض کی علامات کو دبانے کے بجائے اس کے اصل اسباب پر حملہ آور ہوتی ہے اور جوڑوں کی قدرتی لبریکیشن کو بحال کرتی ہے۔
مہا شکتی — درد سے پاک اور بھرپور زندگی کی ضمانت!
تحقیق و تجویز:
حکیم قاضی ایم اے خالد
(ماہرِ طب یونانی و مائنڈ سائنس، رجسٹرڈ NCT حکومتِ پاکستان، تمغہِ خدمتِ طب)
دستیاب بمقام:
خالد خاندانی دواخانہ
32 ذیلدار روڈ، اچھرہ، لاہور۔
رابطہ: 4125007-0303

03334222129

اوقاتِ مطب ؛ دوپہر تین بجے سے رات دس بجے تک

(مہا شکتی صرف اللہ پاک کی ذات اقدس ہے ۔ اسی سے التجاء ہے کہ یہ دوا اللہ پاک کے وصف مہا شکتی سے مستفیض ہوتے ہوئے بغیر کسی ضرر کے عوام الناس کےلئے نفع کا باعث ہو ۔آمین یا رب العالمین)

پانچ غذائیں بطور دوا

🌿 **پانچ غذائیں بطور دوا: صحت کا قدرتی راز** 🌿
طبِ یونانی اور قدرتی طریقہ علاج کا ایک سنہری اور بنیادی اصول یہ ہے کہ ہماری **خوراک** ہی ہماری بہترین دوا ہے۔ اگر ہم اپنی روزمرہ کی غذا کا درست انتخاب کریں، تو نہ صرف ہم بہت سی پیچیدہ بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں، بلکہ یہ ہمارے جسم اور دماغ (Mind-Body) کے تعلق کو بھی انتہائی مضبوط اور متوازن بناتا ہے۔
آج ہم ان 5 عام لیکن طاقتور قدرتی غذاؤں کا ذکر کریں گے جو بہترین دوا کا درجہ رکھتی ہیں:
**۱. شہد (Honey)**
شہد قدرت کا تیار کردہ بہترین اینٹی بائیوٹک اور ملٹی وٹامن ہے۔ نہار منہ نیم گرم پانی میں خالص شہد کا استعمال آپ کے مدافعتی نظام (Immune System) کو مضبوط بناتا ہے، اعصاب کو طاقت دیتا ہے اور معدے کے قدرتی افعال کو بحال کرتا ہے۔
**۲. کلونجی (Black Seed)**
طبِ روایتی میں کلونجی کی افادیت مسلّم ہے۔ یہ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہے۔ روزانہ چٹکی بھر کلونجی کا استعمال جسم سے فاسد مادوں (Toxins) کو خارج کرتا ہے اور موسمی بیماریوں کے خلاف جسم میں قدرتی ڈھال کا کام کرتا ہے۔
**۳. ادرک (Ginger)**
ادرک بہترین سوزش کش (Anti-inflammatory) خصوصیات رکھتا ہے۔ جوڑوں کے درد، پٹھوں کے کھچاؤ اور خاص طور پر ہاضمے کی خرابی میں ادرک کا قہوہ یا کھانے میں اس کا درست استعمال ایک فوری اور موثر دوا کا کام کرتا ہے۔
**۴. لہسن (Garlic)**
لہسن دل اور شریانوں کی صحت کے لیے ایک قدرتی تحفہ ہے۔ یہ خون کو پتلا رکھنے، کولیسٹرول کی سطح کو کنٹرول کرنے اور ہائی بلڈ پریشر کو قدرتی انداز میں متوازن رکھنے کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔
**۵. پودینہ (Mint)**
معدے کی تیزابیت، گیس اور ہاضمے کے مسائل کا یہ سب سے بہترین اور فوری حل ہے۔ اپنی روزمرہ **خوراک** میں تازہ پودینے کا استعمال یا ‘آبِ پودینہ’ کا شربت آپ کے جگر، معدے اور آنتوں کو ٹھنڈک اور زبردست تقویت بخشتا ہے۔
**حرفِ آخر:**
یاد رکھیں! علاج اور ادویات کی اپنی جگہ بے حد اہمیت ہے، لیکن اگر انسان کی **خوراک** درست نہ ہو تو بہترین سے بہترین دوا بھی اپنا مکمل اثر نہیں دکھاتی۔ اپنے طرزِ زندگی کو فطرت کے قریب لائیں اور قدرتی غذاؤں سے شفا یاب ہوں۔
**بقلم:** حکیم قاضی ایم اے خالد (تمغہ خدمتِ طب، رجسٹرڈ این سی ٹی)
**خالد خاندانی دواخانہ**
32 ذیلدار روڈ، اچھرہ، لاہور
**رابطہ:** 03034125007

قرابادین کے مستند نسخے اور معیاری دواخانہ: صحت اور شفا کا حقیقی ضامن

از قلم: حکیم قاضی ایم اے خالد (تمغہ خدمتِ طب، رجسٹرڈ این سی ٹی، حکومت پاکستان)


طبِ یونانی محض چند جڑی بوٹیوں کے ملاپ کا نام نہیں، بلکہ یہ انسانی جسم، دماغ اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کا ایک باقاعدہ سائنسی اور تجرباتی علم ہے۔ آج کے اس دور میں جہاں نت نئی بیماریاں اور ادویات کے مضر اثرات (Side effects) ایک عالمی مسئلہ بن چکے ہیں، وہاں عوام کا رجحان دوبارہ قدرتی طریقہ علاج کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس تبدیلی کے پیشِ نظر یہ سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ علاج میں قرابادین کے مستند نسخوں اور ایک معیاری دواخانہ کا کیا کردار ہے۔

قرابادین کیا ہے اور اس کی اہمیت کیا ہے؟

طب کی اصطلاح میں ‘قرابادین’ (Pharmacopoeia) اس مستند کتاب یا ضابطے کو کہتے ہیں جس میں مرکب ادویات کی تیاری، ان کے اجزائے ترکیبی، اوزان اور طریقہ تیاری کو ایک معیاری اصول کے تحت درج کیا جاتا ہے۔ جیسے قرابادینِ مجیدی طبِ یونانی کا ایک ایسا ہی سنہری اور مستند حوالہ ہے۔
مستند قرابادین کے نسخوں کی اہمیت درج ذیل وجوہات کی بنا پر مسلّم ہے:

  • اجزاء کا درست تناسب: ایک بوٹی دوا بھی ہو سکتی ہے اور زہر بھی۔ قرابادین یہ طے کرتی ہے کہ کس جڑی بوٹی کو کس دوسری بوٹی کے ساتھ کتنی مقدار میں ملانا ہے تاکہ اس کے فوائد میں اضافہ اور نقصانات کا خاتمہ ہو۔
  • طریقہِ تدبیر (Detoxification): کئی قدرتی اجزاء کو استعمال سے قبل خاص طریقے سے مصفّی (صاف) اور مدبّر کرنا پڑتا ہے۔ قرابادین کے نسخے اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ دوا مکمل طور پر محفوظ ہے۔
  • امراض کی جڑ پر وار: یہ نسخے صرف علامات کو نہیں دباتے، بلکہ مرض کے اسباب (مثلاً خون کی خرابی، معدے کی تیزابیت، یا اعصابی تناؤ) کو جڑ سے ختم کرتے ہیں۔

ایک معیاری ‘دواخانہ’ کی پہچان

بازار میں ملنے والی عام ہربل پراڈکٹس اور ایک باقاعدہ اور مستند دواخانہ کی ادویات میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ ایک معیاری دواخانہ چند بنیادی اصولوں پر استوار ہوتا ہے:

  1. خالص اور معیاری اجزاء کا انتخاب:
    دواخانے کا پہلا اصول یہ ہے کہ اس میں استعمال ہونے والی جڑی بوٹیاں، معدنیات اور دیگر اجزاء 100 فیصد خالص ہوں۔ اگر اجزاء میں ملاوٹ ہو، تو قرابادین کا بہترین سے بہترین نسخہ بھی بے اثر ہو جاتا ہے۔
  2. سائنسی اور روایتی تیاری کا امتزاج:
    ایک معیاری دواخانے میں ادویات کی تیاری کے لیے روایتی اصولوں کو جدید ہائیجین (Hygiene) اور سائنسی تقاضوں کے مطابق اپنایا جاتا ہے۔ درجہ حرارت کا خیال، صفائی کا معیار اور ادویات کو محفوظ رکھنے کا درست طریقہ علاج کی کامیابی کے لیے شرط ہے۔
  3. مریض کی انفرادی تشخیص (مائنڈ باڈی کنکشن):
    انسان کا جسم اور دماغ آپس میں جڑے ہوئے ہیں (Mind Science)۔ ایک قابل طبیب محض نسخہ نہیں لکھتا، بلکہ مریض کی ذہنی کیفیت، اس کے لائف سٹائل اور مزاج کا بغور جائزہ لے کر دوا تجویز کرتا ہے۔
  4. دوا کے ساتھ درست ‘خوراک’ کی اہمیت:
    طبِ یونانی کا ایک سنہری اصول ہے کہ اگر مریض کی خوراک درست نہیں تو دوا اثر نہیں کرتی، اور اگر خوراک درست ہو تو دوا کی ضرورت نہیں رہتی۔ اسی لیے دورانِ علاج اور بعد از علاج مریضوں کی غذائیں نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔ ایک معیاری دواخانے کا کام صرف دوا دینا نہیں، بلکہ صحت بخش غذا اور طرزِ زندگی کی مکمل رہنمائی فراہم کرنا بھی ہے۔

صحت اللہ تعالیٰ کی بہترین نعمت ہے۔ اس کی حفاظت کے لیے تجرباتی اور بازاری نسخوں پر انحصار کرنے کے بجائے مستند طریقہ علاج کو ترجیح دینی چاہیے۔ قرابادین کے اصولوں پر تیار کی گئی ادویات اور ایک مستند طبیب کی زیرِ نگرانی چلنے والا معیاری دواخانہ ہی آپ کو بیماریوں سے مستقل نجات اور ایک صحت مند زندگی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

حکیم قاضی ایم اے خالد
خالد خاندانی دواخانہ
32 ذیلدار روڈ، اچھرہ، لاہور

جگر کےلئے مفید 5 غذائیں

جگر ہمارے جسم کا ایک انتہائی اہم عضو ہے جو زہریلے مادوں کی صفائی اور ہاضمے کے نظام کو درست رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ جگر کو صحت مند اور فعال رکھنے کے لیے درج ذیل 5 غذائیں بے حد مفید ثابت ہوتی ہیں:
### 1. لہسن (Garlic)
لہسن میں ایسے سلفر مرکبات پائے جاتے ہیں جو جگر کے انزائمز (Enzymes) کو متحرک کرتے ہیں۔ یہ انزائمز جسم سے فاسد اور زہریلے مادوں کو خارج کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ لہسن میں موجود الیسن (Allicin) اور سیلینیم (Selenium) جگر کو اندرونی نقصان سے محفوظ رکھتے ہیں۔
### 2. سبز چائے (Green Tea)
سبز چائے پودوں پر مبنی اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہے، جنہیں "کیٹیچنز” (Catechins) کہا جاتا ہے۔ یہ اینٹی آکسیڈنٹس جگر کی کارکردگی کو بڑھاتے ہیں اور جگر پر چربی جمع ہونے (Fatty Liver) کے امکانات کو نمایاں طور پر کم کرتے ہیں۔
### 3. زیتون کا تیل (Olive Oil)
کھانے پینے میں زیتون کے تیل کا استعمال جگر کے لیے انتہائی سودمند ہے۔ جدید طبی ابحاث کے مطابق یہ جگر میں چربی کے ذخیرے کو کم کرنے، اچھے انزائمز کی سطح کو برقرار رکھنے اور خون کی گردش کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔
### 4. سیب (Apple)
سیب میں "پیکٹن” (Pectin) نامی خاص فائبر پایا جاتا ہے۔ یہ فائبر نظامِ ہاضمہ اور خون سے زہریلے عناصر کو بائنڈ کر کے جسم سے باہر نکالتا ہے۔ جب آنتوں کی صفائی بروقت ہو جائے تو جگر پر فلٹریشن کا اضافی بوجھ نہیں پڑتا۔
### 5. اخروٹ اور مغزیات (Nuts)
مغزیات، خصوصاً اخروٹ، اومیگا-3 فیٹی ایسڈز اور امینو ایسڈز سے بھرپور ہوتے ہیں۔ یہ جگر کو قدرتی طور پر صاف کرنے اور وہاں موجود سوزش (Inflammation) کو کم کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

**اہم نکتہ:** جگر کو طویل عرصے تک متحرک رکھنے کے لیے متوازن غذا کے ساتھ ساتھ وافر مقدار میں پانی پینا اور بازاری و پروسیسڈ غذاؤں سے پرہیز کرنا لازمی ہے۔

حکیم قاضی ایم اے خالد

یورک ایسڈ کا یونانی علاج

طبِ یونانی (Unani Medicine) میں یورک ایسڈ کی زیادتی کا علاج جسم سے فاسد مادوں کے اخراج، خون کی صفائی، اور جگر و گردوں کی اصلاح سے کیا جاتا ہے۔ یونانی معالجین اس مسئلے کو عام طور پر سوداوی مادوں یا خلطِ غلیظ کے جمع ہونے سے جوڑتے ہیں۔
یہاں یورک ایسڈ کو کنٹرول کرنے کے لیے سب سے مؤثر یونانی جڑی بوٹیاں، نسخے اور غذائی تدابیر درج ہیں:

مؤثر یونانی جڑی بوٹیاں اور نسخے

  • سورنجان شیریں: یہ یورک ایسڈ اور جوڑوں کے درد (گاؤٹ) کے لیے سب سے مشہور یونانی بوٹی ہے۔ اس کا سفوف یا عرق جوڑوں کی سوزش اور درد کو فوری کم کرتا ہے۔
  • اسگند ناگوری (Ashwagandha): یہ بوٹی جسم میں سوزش (inflammation) کے خلاف کام کرتی ہے اور مدافعتی نظام کو بہتر بناتی ہے۔
  • عرقِ مکو اور عرقِ کاسنی: یہ دونوں عرق جگر اور گردوں کے افعال کو درست کرتے ہیں۔ روزانہ صبح اور شام چوتھائی کپ مکس کر کے پینے سے یورک ایسڈ پیشاب کے ذریعے خارج ہو جاتا ہے۔
  • زنجبیل (ادرک): یونانی طب میں ادرک کو ہاضمے اور سوزش کے لیے بہترین مانا جاتا ہے۔ ادرک کا قہوہ یورک ایسڈ کے کرسٹلز کو پگھلانے میں مدد دیتا ہے۔
  • اجوائن دیسی: آدھا چمچ اجوائن روزانہ چبا کر پانی کے ساتھ لینے سے گردوں کی صفائی ہوتی ہے اور یورک ایسڈ قابو میں رہتا ہے۔

آسان گھریلو یونانی نسخہ

ایک بہترین اور متوازن سفوف بنانے کا طریقہ درج ذیل ہے:

  1. اجزاء: سورنجان شیریں (50 گرام)، اسگند ناگوری (50 گرام)، اور سونٹھ/خشک ادرک (50 گرام)۔
  2. طریقہ: ان تمام جڑی بوٹیوں کو اچھی طرح پیس کر باریک سفوف (پاؤڈر) بنا لیں۔
  3. استعمال: آدھا چائے کا چمچ صبح اور شام، کھانے کے بعد نیم گرم پانی کے ساتھ لیں۔

غذائی پرہیز اور تدابیر

یونانی علاج تب ہی اثر دکھاتا ہے جب سخت پرہیز کیا جائے:

  • ان چیزوں سے پرہیز کریں: بڑا گوشت (سرخ گوشت)، کلیجی، پائے، پالک، گوبھی، لوبیا، دالیں، اور کولڈ ڈرنکس یا میٹھے مشروبات بالکل بند کر دیں۔
  • پانی کا زیادہ استعمال: دن میں کم از کم 10 سے 12 گلاس پانی پئیں تاکہ یورک ایسڈ فلٹر ہو کر نکل جائے۔
  • لیموں پانی اور سیب کا سرکہ: صبح خالی پیٹ نیم گرم پانی میں لیموں کا رس یا ایک چمچ سیب کا سرکہ ملا کر پینے سے جسم کا تیزابی مادہ ختم ہوتا ہے۔

حکیم قاضی ایم اے خالد

پین مینجمنٹ اور طب یونانی

طب یونانی میں درد کا علاج (Pain Management) کسی عارضی مسکن (Painkiller) کے بجائے درد کی اصل وجہ، اخلاط کے عدم توازن (Humoral Imbalance) اور مزاج کی خرابی کو درست کر کے کیا جاتا ہے۔ یونانی فلسفے کے مطابق درد جسم میں غیر طبعی مادوں کے جمع ہونے یا سردی/گرمی کے غلبے سے پیدا ہوتا ہے۔
یونانی طریقہ علاج میں درد کو دور کرنے کے لیے بنیادی طور پر چار طریقے اختیار کیے جاتے ہیں:

علاج بالتدبیر

(Regimenal Therapy)

یہ وہ جسمانی طریقے ہیں جو بغیر دوا کے خون کی گردش کو بڑھانے اور فاسد مادوں کو خارج کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں:

  • حجامہ (Cupping Therapy): درد والے حصے پر کپ لگا کر گندا خون نکالا جاتا ہے، جو جوڑوں اور پٹھوں کے درد کے لیے انتہائی مفید ہے۔
  • دلک (Massage/مالش): مختلف یونانی تیلوں (جیسے روغنِ بابونہ یا روغنِ زیتون) سے مالش کر کے پٹھوں کی سختی اور درد کو کم کیا جاتا ہے۔
  • تکمید (Fomentation/سکائی): گرم یا سرد اشیاء سے سکائی کر کے سوجن اور درد کا خاتمہ کیا جاتا ہے۔
  • نطول (Irrigation): جڑی بوٹیوں کے جوشاندے کو دھار بنا کر درد یا سوزش والی جگہ پر گرایا جاتا ہے۔

علاج بالدواء

(Pharmacotherapy)

طب یونانی میں جڑی بوٹیوں کو ان کی خصوصیات کے لحاظ سے درد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جنہیں تین بڑی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے:

  • محللِ اورام (سوزش کم کرنے والی ادویات): یہ ادویات درد والی جگہ سے فاسد مادوں کو تحلیل کرتی ہیں۔
  • مثالیں: سرنجان شیریں (جوڑوں کے درد کے لیے سب سے مشہور)، اسگند ناگوری، اور بابونہ۔
  • مسکنات (درد کو پرسکون کرنے والی ادویات): یہ اعصاب کو سکون دے کر درد کا احساس کم کرتی ہیں۔
  • مثالیں: ہلدی (Curcumin)، زنجبیل (ادرک)، اور اجوائن۔
  • مخدرات (بے حس کرنے والی ادویات): شدید درد کی صورت میں عارضی طور پر اعصابی سگنلز کو روکنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
  • مثالیں: تخمِ کاہو یا افیون (صرف معالج کی سخت نگرانی میں)۔

مشہور یونانی مرکبات: حبِ سرنجان، معجون سرنجان، اور مختلف اقسام کے ہربل پین ریلیف یا روغنِ قسط۔

علاج بالغذاء

(Dietotherapy)

درد کے مریضوں کے لیے ایسی غذاؤں کا انتخاب کیا جاتا ہے جو جسم میں سوزش (Inflammation) کو کم کریں:

  • سرد مزاج کے درد (جیسے گٹھیا): ان میں ادرک، لہسن، کالی مرچ اور گرم مصالحہ جات کا استعمال بڑھایا جاتا ہے اور بادی اشیاء (آلو، گوبھی، چاول) سے پرہیز کروایا جاتا ہے۔
  • گرم مزاج کے درد: ان میں ہلکی اور زود ہضم غذا جیسے کدو، ٹینڈے اور مونگ کی دال کا استعمال مفید ہوتا ہے۔

اصلاحِ طرزِ زندگی

(Lifestyle Modification)

مریض کو مناسب آرام، ہلکی ورزش (طبیعی اعضاء کی حرکت) اور ذہنی تناؤ کو کم کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے تاکہ جسم کی قدرتی مدافعت (طبیعتِ مدبرۂ بدن) خود درد کو ٹھیک کر سکے۔


حکیم قاضی ایم اے خالد

ترپھلہ : صحت کےلئے ایک قدیم مرکب

ترپھلہ (Triphala) تین جڑی بوٹیوں کے خشک پھلوں کا ایک قدیم اور مشہور سفوف (مرکب) ہے، جو صدیوں سے طبِ یونانی اور آیوروید میں نظامِ ہاضمہ کی درستی اور مجموعی صحت کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ لفظ "ترپھلہ” کا مطلب ہی "تین پھل” ہے۔
اس کے اجزا، اہم فوائد اور استعمال کا طریقہ نیچے تفصیل سے درج ہے:

ترپھلہ کے تین بنیادی اجزا

یہ مرکب درج ذیل تین پھلوں کو ہم وزن (یا مخصوص تناسب میں) پیس کر تیار کیا جاتا ہے:

  1. آملہ (Amla / Emblica officinalis): وٹامن سی سے بھرپور ہوتا ہے جو قوتِ مدافعت بڑھاتا ہے اور معدے کے لیے مفید ہے۔
  2. ہریڑ یا ہلیلہ (Haritaki / Terminalia chebula): دماغ، اعصاب اور آنکھوں کو طاقت دیتی ہے اور قبض کشا ہے۔
  3. بہیڑہ یا بلیلہ (Bibhitaki / Terminalia bellirica): پھیپھڑوں اور سانس کے نظام کو درست رکھتا ہے اور جسم سے زہریلے مادے نکالتا ہے۔

ترپھلہ کے اہم ترین فوائد

  • ہاضمے کی اصلاح اور قبض کا خاتمہ: یہ آنتوں کی صفائی کرتا ہے، دائمی قبض کو دور کرتا ہے اور گیس و تیزابیت سے نجات دلاتا ہے۔
  • وزن میں کمی: یہ جسم کے میٹابولزم کو تیز کرتا ہے اور فالتو چربی پگھلا کر وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
  • دماغ اور آنکھوں کے لیے مفید: یہ نظر کو تیز کرنے، سر کے چکر اور اعصابی کمزوری کو دور کرنے کے لیے بہترین ہے۔
  • قوتِ مدافعت میں اضافہ: اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہونے کی وجہ سے یہ جسم کو بیماریوں اور انفیکشن سے محفوظ رکھتا ہے۔
  • جسم کی ڈی ٹوکسفیکیشن: یہ خون کو صاف کرتا ہے اور جگر و آنتوں سے زہریلے مادوں (Toxins) کو خارج کرتا ہے۔

استعمال کرنے کا طریقہ

  • عام صحت اور قبض کے لیے: آدھا سے ایک چائے کا چمچ سفوفِ ترپھلہ رات کو سوتے وقت نیم گرم پانی یا دودھ کے ساتھ لیں۔
  • وزن کم کرنے کے لیے: آدھا چمچ سفوف کو پانی میں ابال کر، چھان لیں اور اس میں ایک چمچ شہد ملا کر صبح نہار منہ پییں۔

حکیم قاضی ایم اے خالد

مردانہ طاقت کے آیورویدک نسخے

آیوروید (Ayurveda) میں مردانہ صحت، طاقت اور توانائی (Vigor and Vitality) کو برقرار رکھنے کے لیے ایک مکمل شاخ موجود ہے جسے "واجیکرنا” (Vajikarana)کہا جاتا ہے۔ اس میں جڑی بوٹیوں، صحیح خوراک اور طرزِ زندگی کے اصولوں کے ذریعے جسمانی کمزوری کو دور کیا جاتا ہے۔
مردانہ طاقت اور جسمانی توانائی بڑھانے کے لیے چند مشہور اور مؤثر آیورویدک نسخے اور جڑی بوٹیاں درج ذیل ہیں:
اہم آیورویدک جڑی بوٹیاں (Herbs)
اشوگندھا (Ashwagandha):یہ آیوروید کی سب سے طاقتور جڑی بوٹی مانی جاتی ہے۔ یہ ذہنی تناؤ (Stress) کو کم کرتی ہے، ٹیسٹوسٹیرون (Testosterone) کے لیول کو بہتر بناتی ہے اور جسمانی طاقت و پٹھوں کو مضبوط کرتی ہے۔
سفید موصلی (Safed Musli): اسے قدرتی "ویاگرا” بھی کہا جاتا ہے۔ یہ مردانہ کمزوری، اسپرم کاؤنٹ (Sperm Count) کو بڑھانے اور جسمانی تھکن کو دور کرنے کے لیے بہترین ہے۔
شلاجیت (Shilajit): ہمالیہ کے پہاڑوں سے حاصل ہونے والا یہ مادہ معدنیات (Minerals) سے بھرپور ہوتا ہے۔ یہ فوری توانائی فراہم کرتا ہے، خون کی گردش کو بہتر بناتا ہے اور بڑھتی عمر کے اثرات کو روکتا ہے۔
ستاور (Shatavari): عام طور پر اسے خواتین کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ مردوں میں بھی طاقت، اسٹیمنا اور منی کی کیفیت کو بہتر بنانے میں مددگار ہے۔
کونچ کے بیج (Kaunch Beej / Kapikachhu): یہ سفید اور سیاہ دوقسم کے ہوتے ہیں اس کی دونوں اقسام کے بیج اعصابی نظام کو طاقت دیتے ہیں اور مردانہ ہارمونز کو متحرک کرتے ہیں۔
گھر پر تیار کیے جانے والے نسخے
نسخہ نمبر 1: اشوگندھا اور دودھ
**طریقہ:** آدھا چائے کا چمچ اشوگندھا کا پاؤڈر لیں۔ اسے ایک گلاس نیم گرم دودھ میں ملائیں۔
**استعمال:** رات کو سونے سے پہلے روزانہ پئیں۔ ذائقے کے لیے آپ اس میں تھوڑی سی مصری یا شہد ملا سکتے ہیں۔

نسخہ نمبر 2: شاہی آیورویدک سفوف
اگر آپ زیادہ بہتر نتائج چاہتے ہیں، تو درج ذیل جڑی بوٹیوں کا مرکب بنا سکتے ہیں:
**اجزاء:** اشوگندھا پاؤڈر (50 گرام)، سفید موصلی پاؤڈر (50 گرام)، ستاور پاؤڈر (50 گرام)۔
**طریقہ:** ان تینوں پاؤڈرز کو اچھی طرح مکس کر کے ایک ائیر ٹائیٹ جار میں رکھ لیں۔
**استعمال:** روزانہ صبح اور شام، آدھا چائے کا چمچ یہ سفوف نیم گرم دودھ کے ساتھ لیں۔
نسخہ نمبر 3: کھجور اور بادام کا شیک
**طریقہ:** 3 سے 4 عدد کھجوریں اور 11 عدد بادام رات کو پانی یا دودھ میں بھگو دیں۔ صبح کھجور کے بیج نکال کر انہیں دودھ کے ساتھ بلینڈ کر لیں۔
**فائدہ:** یہ قدرتی نسخہ جسم میں فوری خون پیدا کرتا ہے اور اسٹیمنا بڑھاتا ہے۔

حکیم قاضی ایم اے خالد کے تحقیق شدہ مرکب آیورویدک نسخہ جات میں "مہاشکتی” بہت معروف ہے۔جس کے چالیس روزہ کورس سے مردانہ طاقت بحال ہوجاتی ہے۔اس نسخے کے حصول کے لئے خالد خاندانی دواخانہ 32 ذیلدار روڈ اچھرہ لاہور پاکستان سے دوپہر تین بجے سے رات دس بجے تک رجوع کیا جاسکتا ہے (سیل نمبر 03034125007)


طرزِ زندگی اور احتیاطی تدابیر
آیوروید کے مطابق صرف دوائیں کافی نہیں ہوتیں، بلکہ آپ کا طرزِ زندگی بھی اہم ہے:
**متوازن غذا:** سبز سبزیاں، پھل (خصوصاً انار اور کیلا)، دیسی گھی، اور ڈرائی فروٹس کا استعمال کریں۔
* **تناؤ سے دوری:** ذہنی دباؤ اور نیند کی کمی مردانہ طاقت کی سب سے بڑی دشمن ہیں۔ روزانہ 7-8 گھنٹے کی نیند لیں۔
**ورزش:** روزانہ ہلکی ورزش یا یوگا (جیسے کہ Vajrasana) کریں تاکہ پیلوک ایریا (Pelvic area) میں خون کی گردش بہتر ہو۔
**پرہیز:** زیادہ سگریٹ نوشی، الکحل، اور بہت زیادہ تلی ہوئی یا فاسٹ فوڈ کی اشیاء سے پرہیز کریں۔

حکیم قاضی ایم اے خالد

اونٹ کے گوشت میں متعدد امراض کی شفا ہے۔

اونٹ کا گوشت متعدد پیچیدہ اور مزمن امراض کے لیے ایک بہترین اور قدرتی علاج ہے۔ اونٹ کا گوشت روایتی بڑے گوشت (گائے) کے مقابلے میں کہیں زیادہ مفید اور شفابخش ہے۔

اونٹ کے گوشت کے اہم طبی فوائد درج ذیل ہیں:

خطرناک امراض سے شفا

  • یرقان اور ہیپاٹائٹس: یہ گوشت کالا یرقان اور ہیپاٹائٹس سی جیسے جگر کے امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے انتہائی مفید ہے۔
  • عرق النسا (Sciatica): لنگڑی کے درد یا عرق النسا اور کولہے کے درد کے خاتمے کے لیے یہ گوشت شفابخش اثرات رکھتا ہے۔
  • پرانا بخار: ایسے مریض جو طویل عرصے سے دائمی یا پرانے بخار میں مبتلا ہوں، انہیں اونٹ کا گوشت کھلانے سے افاقہ ہوتا ہے۔
  • پیشاب کی جلن: پیشاب کے نظام کی انفیکشن اور جلن کو دور کرنے میں مددگار ہے۔

جسمانی اور اعصابی طاقت

  • پیٹ کے کیڑے: اس کا باقاعدہ استعمال بچوں اور بڑوں کے پیٹ میں موجود کیڑوں کو تلف کرتا ہے۔
  • ہیموگلوبن کی افزائش: یہ گوشت جسم میں خون (ہیموگلوبن) کی کمی کو تیزی سے پورا کرتا ہے۔
  • معدنیات کا خزانہ: اس میں پوٹاشیم، کیلشیم، فاسفورس اور ضروری حیاتین (وٹامنز) وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں جو ہڈیوں اور پٹھوں کو مضبوط بناتے ہیں۔
  • تقویتِ باہ: مردانہ کمزوری کو دور کرنے اور جسمانی طاقت بڑھانے کے لیے بھی یہ گوشت بہترین ہے۔

جدید طبی و غذائی خصوصیات

  • کم چربی (Low Fat): گائے اور دنبے کے گوشت کے برعکس، اونٹ کے گوشت میں نقصان دہ چربی اور کولیسٹرول کی مقدار انتہائی کم ہوتی ہے۔
  • موٹاپے سے بچاؤ: یہ جسم میں اضافی چربی پیدا نہیں ہونے دیتا، جس کی وجہ سے یہ دل کے مریضوں اور وزن کم کرنے والوں کے لیے بہترین سرخ گوشت (Red Meat) ہے۔

حکیم قاضی ایم اے خالد

*************

حکیم قاضی ایم اے خالد کی یہ خبر انگلش نیوز پیپر ڈیلی بزنس ریکارڈر میں پڑھنے کےلئے بزنس ریکارڈر پر کلک کریں

حکیم قاضی ایم اے خالد کی یہ خبر انگلش نیوز پیپر ڈیلی ڈان میں پڑھنے کےلئے ڈان پر کلک کریں

حکیم قاضی ایم اے خالد کی یہ تحریر جاوید چوہدری ڈاٹ کام پر پڑھنے کےلئے جاوید چوہدری پر کلک کریں۔

حکیم قاضی ایم اے خالد کی یہ خبر روزنامہ نوائے وقت میں پڑھنے کےلئے نوائے وقت پر کلک کریں

روزنامہ جنگ میں حکیم قاضی ایم اے خالد کی خبر
دنیا ٹی وی کے پروگرام حسب حال میں حکیم قاضی ایم اے خالد کی اونٹ کے گوشت کی تحریر کا ذکر
Design a site like this with WordPress.com
شروع کریں