پاک چین دوستی اور روائتی یونانی طب

پاک چین دوستی کے 75 سال مکمل ہونے پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طب (Traditional Medicine) کا شعبہ باہمی تعاون کا ایک اہم ستون بن کر ابھرا ہے۔ اس تعاون کا مقصد روایتی چینی ادویات (TCM) اور پاکستان کی روایتی یونانی طب (TUM) کو جدید سائنسی بنیادوں پر یکجا کرنا ہے۔
اس شراکت داری کے چند نمایاں پہلو درج ذیل ہیں:


## 1. باہمی تحقیقی مراکز کا قیام

* سینو-پاک تعاون مرکز برائے روایتی چینی طب (SPCCTCM): یہ مرکز کراچی یونیورسٹی کے انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز (ICCBS) اور چین کی ہونان یونیورسٹی آف میڈیسن کے اشتراک سے 2021 میں قائم کیا گیا۔
* پاک چین روایتی طبی اتحاد: 2022 میں جینان، چین میں اس اتحاد کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ جڑی بوٹیوں کے علاج اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو مشترکہ طور پر فروغ دیا جا سکے۔


## 2. ادویات کے کلینیکل ٹرائلز اور کامیابی

* کورونا وائرس (COVID-19): پاکستان میں چینی جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ دوا ‘جنہوا کینگن گرینولز’ (Jinhua Qinggan Granules) کے کامیاب کلینیکل ٹرائلز کیے گئے، جو بیرون ملک کسی سائنسی بنیاد پر تصدیق شدہ پہلی چینی دوا بنی۔
* برونکائٹس کا علاج: سینے کے امراض کے لیے ‘ین ہوانگ کینگ فی’ (Yinhuang Qingfei) نامی کیپسول کے ٹرائلز بھی کامیاب رہے، جو کہ مغربی ادویات کے مقابلے میں انتہائی سستی اور مؤثر ثابت ہوئی ہے۔

اس کے علاؤہ کینسر کی متعدد اقسام اور دیگر پیچیدہ امراض کےلئے جڑی بوٹیوں پر مشتمل جدید تحقیقی ادویات پر مشترکہ کلینیکل ٹرائلز جاری ہیں

## 3. تعلیم اور تربیت

* ڈاکٹروں کی تربیت: حکومت سندھ کے تعاون سے پاکستانی ڈاکٹروں کا پہلا وفد 2025 میں ہونان یونیورسٹی (چین) روانہ ہوا تاکہ وہ روایتی چینی طب میں مہارت حاصل کر سکیں۔
* تعلیمی پروگرام: وطن عزیز کی متعدد یونیورسٹیز میں روایتی طب سے متعلق ڈگری پروگرامز کئی سالوں سے شروع ہیں اور ان پروگرامز کو عالمی معیار کے مطابق بنانے پر اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ 

## 4. خلائی ادویات میں تعاون (Space Medicine)
ایک دلچسپ تجربے کے تحت، پاکستانی جڑی بوٹیوں کے بیج چینی خلائی اسٹیشن پر بھیجے گئے تاکہ زمین اور خلا میں ان کی نشوونما اور طبی اثرات کے فرق کا مطالعہ کیا جا سکے۔ 


## 5. سماجی خدمات


اسلام آباد میں قائم چی ہوانگ ٹریڈیشنل چائنیز میڈیسن سینٹر جیسے مراکز نہ صرف جڑی بوٹیوں پر مشتمل روائتی علاج فراہم کر رہے ہیں بلکہ مفت طبی کیمپوں کے ذریعے پاک چین دوستی کو عوامی سطح پر بھی مضبوط بنا رہے ہیں۔ 

حکیم قاضی ایم اے خالد زمانہ طالب علمی میں چائنہ کے پہلے مطالعاتی دورے پر کاشغر چین میں 1985

وطن عزیز کے بعض بیوروکریٹس اور بزرجمہر طب یونانی کے شروع سے ہی دشمن ہیں اس حوالے سے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا میں نیم حکیموں کو پروموٹ کرنے میں بھی انہی لوگوں کا ہاتھ ہے تاکہ لوگ طب یونانی سے متنفر ہو جائیں تاہم جدید ییلو جرنلزم کے ان ہتھکنڈوں کی وجہ سے دنیا بھر کے اداروں و افراد میں طب یونانی کے جڑی بوٹیوں سے علاج میں دلچسپی پیدا ہوئی متعدد ممالک میں ہربل میڈیسن کے حوالے سے نئے نئے ادارے وجود میں آرہے ہیں۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بھی روایتی چینی ادویات (TCM) اور پاکستان کی روایتی یونانی طب (TUM) کو باقاعدہ تسلیم کیا اور اس حوالے سے (TUM) کی اپ گریڈیشن کا عمل جاری وساری ہے علاوہ ازیں نئے قوانین بھی تشکیل دئیے جا رہے ہیں۔

یہ بات باعث مسرت ہے کہ پاکستان اور چین میں مشترکہ طبی تحقیقی مراکز بھی قائم کئے جا رہے ہیں جہاں ہربل میڈیسنز سے انسانیت کی فلاح و بہبود اور صحت کےلئے ہربل ادویات تیار کی جائیں گی ۔

حکیم قاضی ایم اے خالد

حکیم قاضی ایم اے خالد کی طبی اور صحافتی خدمات کے اعتراف میں انٹرنیشنل طبی سیمینار میں گولڈ میڈل ایوارڈ بدست ڈاکٹر  ژی ژوانگ (چائنہ) 1992

شائع کردہ ازHakeem Qazi M.A Khalid

Khandani Tabeeb, Unani Medical Officer, Secretary General Council of Herbal Physicians Pakistan, Medical Journalist, Article Writer Daily NawaiWaqt, Daily Dunya, Blogger.

تبصرہ کریں

Design a site like this with WordPress.com
شروع کریں