طب یونانی اور نینو ٹیکنالوجی

طب یونانی اور نینو ٹیکنالوجی کا ملاپ قدیم یونانی حکمت کو جدید ترین سائنس سے جوڑنے کا نام  ہے۔ طب یونانی ہزاروں سال پرانا طریقہ علاج ہے جو قدرتی جڑی بوٹیوں اور معدنیات پر مبنی ہے، جبکہ نینو ٹیکنالوجی مادے کو ایٹمی اور سالمی سطح (1 سے 100 نینو میٹر) پر کنٹرول کرنے کا نام ہے۔

طب یونانی اور نینو ٹیکنالوجی کے باہمی تعلق کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:

  • ادویات کی بہتر فراہمی (Targeted Drug Delivery): طب یونانی کی ادویات، خاص طور پر مرکبات، میں نینو ٹیکنالوجی کے اصول صدیوں سے غیر شعوری طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ جدید نینو ٹیکنالوجی ان ادویات کو جسم کے مخصوص حصے (جیسے کینسر زدہ خلیات) تک براہ راست پہنچانے میں مدد دیتی ہے، جس سے دوا کی افادیت بڑھ جاتی ہے۔
  • یونانی دوا سازی اور نینو پارٹیکلز: قدیم اطباء دھاتوں اور معدنیات کو مار کر "خاص مرکب” تیار کرتے تھے۔ جدید تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ یہ خاص مرکبات دراصل نینو پارٹیکلز کی ایک شکل ہیں۔ مثال کے طور پر چاندی مرکب میں چاندی کے نینو پارٹیکلز پائے جاتے ہیں جن میں قدرتی طور پر جراثیم کش خصوصیات ہوتی ہیں۔
  • بایو اویلیبلٹی (Bioavailability) میں اضافہ: بعض یونانی جڑی بوٹیوں کے اجزاء جسم میں آسانی سے جذب نہیں ہوتے۔ نینو ٹیکنالوجی کے ذریعے ان اجزاء کو نینو سائز میں تبدیل کر کے ان کے جذب ہونے کی صلاحیت اور اثر پذیری کو کئی گنا بڑھایا جا سکتا ہے۔خالد خاندانی دواخانہ میں طب یونانی کی ادویات کو مہینوں کھرل کے ذریعے  نینو سائز میں تبدیل کیا جاتا ہے۔
  • مضر اثرات میں کمی: جب یونانی نینو دوا براہ راست متاثرہ حصے پر اثر کرتی ہے، تو جسم کے دوسرے تندرست اعضاء اس کے منفی اثرات سے محفوظ رہتے ہیں۔

خلاصہ:
خالد خاندانی دواخانہ میں معروف معالج حکیم قاضی ایم اے خالد کی زیر نگرانی طب یونانی میں نینو ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے اس قدیم علم کو جدید سائنسی بنیادوں پر استوار کیا جا رہا ہے، جس سے قدرتی ادویات زیادہ محفوظ اور موثر بن رہی ہیں۔

طب یونانی اور نینو ٹیکنالوجی کے حوالے سے مزید معلومات کےلئے حکیم قاضی ایم اے خالد کی کتاب "یونانی ٹریس میٹلز ” کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے جو سائبر ورلڈ پر موجود ہے ۔

شائع کردہ ازHakeem Qazi M.A Khalid

Khandani Tabeeb, Unani Medical Officer, Secretary General Council of Herbal Physicians Pakistan, Medical Journalist, Article Writer Daily NawaiWaqt, Daily Dunya, Blogger.

تبصرہ کریں

Design a site like this with WordPress.com
شروع کریں