حکیم خالد لاہوری گلی نمبر 100 ذیلدار روڈ اچھرہ لاہور سے حکیم قاضی ایم اے خالد المعروف حکیم خالد ،خالد خاندانی دواخانہ 32 ذیلدار روڈ اچھرہ لاہور کا کوئی تعلق نہیں۔احباب اور تمام ادارے مطلع رہیں
بزنس آن لائن ڈاٹ پی کےbusinessonline.pk سائٹ پرحکیم قاضی ایم اے خالد کا جو ایڈریس شو ہو رہا ہے Shop 2, 148-B, Ferozpur Rd, Ichhra More, Ichhra, Lahore اس ایڈریس سے حکیم قاضی ایم اے خالد کا کوئی تعلق نہیں احباب مطلع رہیں
ذیابیطس ‘بلڈ پریشر’کینسر’لیوکیمیااور اینٹی کینسر نیز کیمیو تھراپی کے مضر اثرات میں بھی کلونجی فائدہ مند ہے
تحریر:حکیم قاضی ایم اے خالد
لاہور:طب نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم )اوریونانی (ہربل ) سسٹم آف میڈیسن میں صدیوں سے استعمال ہونے والی دوا کلونجی پردنیا بھر میں ہزاروں مطالعے اور لاکھوں کلینکل ٹرائلزجاری ہیں ۔کلونجی کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ‘’اس میں موت کے سوا ہر بیماری سے شفا ہے’‘یہ بات جدید تحقیقات نے بھی ثابت کردی ہے ۔اب تک کی گئی تحقیق کے مطابق کلونجی کے بیج ‘ایچ آئی وی ایڈز ‘کینسر’لیوکیمیا’ذیا بیطس’بلڈ پریشر’ہائپر کولیسٹرول ایمیا اورمیٹا بولک ڈیزیززکے علاج میں انتہائی موثر پائے گئے ہیں۔
فلو ریڈا میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق کلونجی کینسر اور لیوکیمیا میں بھی مفیدہے نیز اینٹی کینسرکیمیو تھراپی کے مضمرات کے ازالہ میں بھی فائدہ مند ثابت ہوئی ہے۔علاوہ ازیں کلونجی کے استعمال سے مریضوں کی قوت مدافعت میں زبردست اضافہ دیکھا گیا۔جن سنگ’ جنکوبلوبااور کلونجی کے مرکب کے استعمال سے ایڈزکے مریضوں میں ایمیون سسٹم(مدافعتی نظام) کی کارکردگی میں انتہائی بہتری پیدا ہوجاتی ہے تحقیق کرنے والے سائنس دانوں کے مطابق کلونجی کے حوصلہ بخش نتائج سے ایڈز کے خاتمے میں یقینی پیش رفت ہوئی ہے۔یاد رہے کہ کلونجی پر آغا خان یونیورسٹی کراچی میں بھی تحقیق ہو رہی ہے اورکلینکل ٹرائلز واسٹڈی نمبر NCT00327054 کے مطابق کلونجی کوذیا بیطس’بلڈ پریشر’ہائپر کولیسٹرول ایمیا اورمیٹا بولک ڈیزیززمیں فائدہ مند قرار دیا گیا ہے۔ ٭…٭…٭
لاہور – کولا مشروبات کا استعمال، سگریٹ نوشی، وٹامن ڈی اور کیلشیم کی کمی آسٹیو پروسس کی مرض کی اہم وجوہات ہیں، اس مرض کیلئے منقہ انتہائی مفید ہے۔ ان خیالات کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے ورلڈ آسٹیو پروسس ڈے کے حوالے سے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ جو خواتین برقعہ پہنتی ہیں یا دھوپ میں کم نکلتی ہیں ،ان میں وٹامن ڈی کی کمی ہڈیوں کے بھربھرے پن کی ایک وجہ بن سکتی ہے لہٰذا ایسی باپردہ خواتین دن میں دو بار 10 منٹ کے لئے دھوپ میں بیٹھیں اور وٹامن ڈی والی خوراک مثلاً مکھن، دیسی گھی، گوشت، مچھلی، انڈے، دالیں خصوصاً سویابین اور منقہ کا مناسب استعمال کریں۔
حضرت جگر مراد آبادی کے کندھوں پر ان کے بھتیجے سوار تھے۔۔۔۔۔۔بولے۔۔۔۔تایا ابا میں آپ سے لمبا ہوں۔۔۔۔۔۔تو جگر مراد آبادی نے فرمایا کہ۔۔۔بھتیجے یہ مت بھولو کہ تمھاری اس لمبائی میں میری لمبائی بھی شامل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بعینہ ۔۔۔۔۔۔تین سوسال سے زائد عرصہ پہلے سر اسحاق نیوٹن نے کہا کہ ہر نئی تحقیق پرانی ابتدائی تحقیق کے کندھوں پر کھڑی ہے۔۔۔۔۔
اسی بات کے مصداق۔۔۔۔طب یونانی تمام طبوں کی ماں ہے۔۔۔۔اس کے کندھوں پر ایلو پیتھک سمیت بیشمار طبیں کھڑی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔تاہم انہیں یاد رکھنا چاہئیے کہ ان کے قد کی لمبائی میں طب یونانی کی لمبائی بھی شامل ہے۔۔۔۔۔۔۔حکیم قاضی ایم اے خالد۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی بھی مرض کی شدت میں مریض کو ہسپتال منتقل کیا جانا چاہئے بعض اوقات مرض کی حالت ایسی ہو جاتی ہے کہ بذریعہ دہن کوئی بھی دوا نہیں دی جا سکتی یا اگر دوا دی بھی جائے تو وہ معدے میں نہیں ٹھہرتی ایسی صورت میں ہسپتال میں ادویات بذریعہ انجکشن یا ڈرپ دے کر مریض کی جان بچائی جا سکتی ہے۔
آج سے پینتالیس سال بیشتر جب میں صرف دس سال کا تھا موچیدروازہ لاہور کے ایک ہال میں والد محترم حکیم قاضی محمد خورشید عالم کے ہمراہ ایک طبی سیمینار میں شریک ہوا تو وہاں ایک یونانی فارمیسی نے ہربل انجیکشن متعارف کروائے تھے جن میں سے ایک شائد نیم سے تیار شدہ تھا جبکہ دل اور درد سے متعلقہ بھی تھے لیکن بعد ازاں قوانین بنتے گئے اور اطباء کو بذریعہ انجکشن دوا کے استعمال کی اجازت نہ رہی
اب جبکہ یہ اجازت صرف ایلوپیتھک طبی ماہرین کو ہی حاصل ہے تو مریض کی جان بچانے کےلیے انہیں ہسپتال ریفر کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرنا چاہیے اور جب مریض کو ایمرجنسی ٹریٹمنٹ دیا جا چکے نیز وہ بذریعہ دہن دوا کھانے کے قابل ہو جائے اور یونانی علاج کو جاری رکھنا ضروری ہو تو اسے جاری رکھا جائے۔کئی ہمسایہ ممالک میں یہ روایت موجود ہے کہ جہاں طبیب کا علاج ضروری ہے تو طبیب کے پاس اور ڈاکٹر کا علاج ضروری ہو تو ڈاکٹر کے پاس مریض ریفر کر دیا جاتا ہے
تاہم جہاں ڈاکٹر یا ہسپتال موجود نہیں وہاں مشہور طبی مرکب آب شفا ، قلزم یا امرت دھارا جیسی بے ضرر صدیوں سے آزمودہ ادویات سے مدد لی جا سکتی ہے جو کہ پیٹ پر صرف ملنے سے ہی جذب ہو جاتی ہیں اور چند قطرے منہ کے ذریعے بھی دئیے جا سکتے ہیں جس کے استعمال سے مریض اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ بذریعہ دہن بھی ادویہ استعمال کر سکے ۔
عام افراد کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ علاج معالجہ صرف مستند معالجین کا ہی کام ہے خود علاجی کسی طور مناسب نہیں انٹرنیٹ پر جتنی بھی معلومات ہیں وہ کسی طور بھی مستند معالج کا متبادل نہیں ۔
فیس بک ‘ یو ٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پر بےشمار نسخوں میں انتہائی خطرناک زہر اور نقصان دہ ادویہ شامل ہیں جو از خود استعمال کرکے بیشمار لوگ راہی ملک عدم ہو چکے ہیں یا خطرناک امراض کا شکار ہیں علاوہ ازیں مختلف یونانی اور ایلوپیتھک فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی سربند دوائیں بغیر معالج کے مشورے کے ازخود استعمال کرکے معدہ و جگر اور گردوں کے پچیدہ امراض کا شکار ہو چکے ہیں لہذا عام افراد خود علاجی سے بچیں اور اپنی صحت کے تحفظ کےلئے مستند طریق علاج کے مستند معالجین سے علاج کروائیں
اونٹ کا گوشت عام طور پر شاذونادر ہی ملتا ہے لیکن عید قربان پر یہ گوشت بھی وافر مقدار میں ہوتا ہے اور جنہیں یہ گوشت میسر آجائے وہ بہت سی امراض سے بچ سکتے ہیں ۔ اونٹ کا گوشت نمکین ہوتا ہے اس لئے ہائی بلڈ پریشر کی انتہائی پچیدگی میں اس کا استعمال مناسب نہیں۔افادہ ِعام کیلئے مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے اونٹ کے گوشت کے فوائد سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اونٹ کا گوشت پرانے بخار ‘عرق النساء (شیا ٹیکا ) سیاہ یرقان ‘ہیپاٹائٹس سی اور پیشاب کی جلن میں مفید ہے اعضائے رئیسہ کی طاقت اور تقویت باہ کیلئے بھی مستعمل ہے ۔اعصابی کمزوری اور جسمانی کمزوری میں فائدہ مند ہے۔
مذکورہ بالا فوائد حاصل کرنے کیلئے اس کی مقدار خوراک ایک سو گرام ہے۔بواسیر کیلئے اونٹ کی چربی کا لیپ انتہائی مفید ہے نیز یہ چربی جوڑوں کے درد میں بھی فائدہ مند ہے۔اس حوالے سے دنیا بھر میں متعدد تحقیقات ریسرچ جرنلز کی زینت بن چکی ہیں خصوصاً قاہرہ کے نیشنل ریسرچ سینٹر میں ایک تحقیق کے مطابق اونٹ کے گوشت کو امراض قلب میں مفید اور انسانی جسم کیلئے کم چکنائی والا‘تمام ضروری معدنیات وحیاتین سے بھرپور ‘پروٹین کا موثر ذریعہ قرار دیا ہے۔لہٰذاعید الا ضحی پر اگر یہ گوشت مل جائے تو اس سے استفادہ حاصل کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے۔۔۔۔روزنامہ جنگ ۔۔۔۔