جوڑوں کے درد کی بڑی وجہ یورک ایسڈ ہے

جوڑوں کا دردعام طورپر عمر رسیدہ افراد میں ہوتا ہے لیکن آج کل کم عمر افراد بھی مبتلاہو رہے ہیں

یورک ایسڈ کو قدرتی غذاؤں کے مسلسل استعمال سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے

تحریر:حکیم قاضی ایم اے خالد

Twitter:qazimakhalid

جوڑوں کا دردایک تکلیف دہ مرض ہے جو عموماً عمر رسیدہ افراد میں ہوتا ہے لیکن آج کل یہ کم عمر افراد میں بھی پایا جا رہا ہے۔طب جدید کے مطابق جوڑوں کے درد کی بڑی وجہ یورک ایسڈ ہے ۔یورک ایسڈ ایک تیزابی مادہ ہے جو ہر انسان کے اندر پایا جاتا ہے۔ اس کا اصل کام انسانی جسم میں حرارت پیدا کرنا ہے۔
جو غذائیں جسم میں پیورین purineپیدا کرتی ہیںوہ یورک ایسڈ بناتی ہیں۔ جیسے سرخ گوشت اورسبز پتوں والی ترکاریاں’ اس کے علاوہ بہت زیادہ گرم ادویات کا استعمال، گردوں میں سوزش اور پتھریاں بھی جسم میں یورک ایسڈ کی مقدار بڑھانے کا سبب بنتی ہیں۔
جب یورک ایسڈ پیشاب کے ذریعے معمول کے مطابق باہر نہ نکلے تو یہ جسم کے اندر چھوٹے چھوٹے کرسٹل کی شکل میں جوڑوں میں جمع ہونے لگتا ہے۔ اس کی وجہ سے جوڑ درد کرنے لگتے ہیں اور انسان کا چلنا پھرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

یورک ایسڈ کو کیسے کم کریں

سب سے پہلے تو ایسی غذائیں چھوڑنی پڑیں گی جن میں پیورین کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے۔ کیونکہ یہ غذائیں ہضم ہونے کے بعد جسم میں یورک ایسڈ کی مقدار کو بڑھا دیتی ہیں۔ جیسے بیف ،مٹن، گوبھی، مٹر، ساگ ‘پالک ‘ پھلیاں’ کھمبیاں اور دالیں شامل ہیں۔
اس کے بعد ہمیں اپنی روز مرہ زندگی میں ایسی مفید غذائیں استعمال کرنی چاہیں جس سے یورک ایسڈ کنٹرول ہوجائے جو درج ذیل ہیں۔

سیب کا سرکہ
اس میں میلک ایسڈ ہوتا ہے جو جسم سے یورک ایسڈ کو توڑنے اور نکالنے میں مدد کرتا ہے۔ ایک چائے کا چمچ سیب کا سرکہ اور ایک چٹکی نمک ایک گلاس پانی میں ملا کر پینا مفید ہے۔ دن میں صرف ایک بار استعمال کیا جائے۔ہائی بلڈ پریشر والے افراد بغیر نمک کے استعمال کریں۔ایک ماہ کے استعمال کے بعد یورک ایسڈ کاٹیسٹ کروا لیں انشاء اللہ نارمل ہو جائے گا۔
لیموں
لیموں کے رس میں سٹرک ایسڈ پایا جاتا ہے۔ اس میں موجود وٹامن سی یورک ایسڈ کو فوری کنٹرول کرتا ہے۔آدھا لیموں ایک گلاس نیم گرم پانی میں ملا کر نہار منہ استعمال کریں ۔
اجوائن
اجوائن میں اومیگا 6 فیٹی ایسڈ پایا جاتا ہے جو ہمارے جسم کی صحت کے لیے انتہائی مفید ہیں یہ جہاں نظام انہضام کی صفائی کرتے ہیں وہاں یہ جسم کو یورک ایسڈ سے پاک کرنے میں اکسیر کا درجہ رکھتے ہیں۔آدھی چمچی اجوائن پاؤڈر صبح و شام استعمال کریں۔
ادرک
ادرک کے اندر ایسی خصوصیات موجود ہیں جو جوڑوں کے مسائل کے خاتمے کے لئے بہترین ہیں۔ ادرک کو پیس کے سفوف کی شکل میں آدھی چمچی صبح و شام استعمال کریں یا گرم پانی میں ابال کرچائے کی صورت میںدن میں دو سے تین بار پئیں ۔ اس سے جوڑوں کے در د میں خاطر خواہ کمی آئی گی ۔
ہلدی
ہلدی کسی بھی درد میں ایک دوا کے طور پرکام کرتی ہے۔ جوڑوں کے درد کے مریض اگر500ملی گرام یا چوتھائی چمچی ہلدی کا روزانہ صبح و شام استعمال کریں تو جوڑوں کے درد سے جان چھڑا سکتے ہیں ۔
سبز چائے
دن میں تین کپ سبز چائے آپکے بڑھے ہوے وزن کو بھی کم کر دے گی اور جوڑوں کے درد جیسے مسائل سے بھی چھٹکارا دلا دے گی ۔سبز چائے میں موجود پولی فینول نامی اینٹی آکسائیڈنٹس پٹھوں کی سوجن ختم کرنے کے لئے بھی نہایت موثر ہیں۔
کشمش
کشمش کے ذریعے جوڑوں کے درد کا علاج گزشتہ 20سال سے زور پکڑ رہا ہے کشمش میں شامل سلفائیڈز جوڑوں کے درد کا قدرتی اور آسان علاج ہے۔
دیگر مفیدغذائیں
تازہ پھلوں و سبزیوں، گندم ‘جو اور دیگر اجناس، زیتون کا تیل، خشک میوہ جات کو اپنی غذا کا حصہ بنائیں یہ غذائیں جوڑوں کے درد میں کمی لاتی ہیں۔
پرہیز
ہر قسم کا گوشت پالک، اچار۔ٹماٹر، انڈے،چنے کی دال،چاول۔ ان تمام چیزوں کا سختی سے پرہیز کریں، کیونکہ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔
٭…٭…٭

عناصر اربعہ


▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ ►
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے انہی اجزاء کا پریشاں ہونا
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ ►

حکماۓ تقدم زمانی کے نظریات کے مطابق ارکان بسیط ہی انسانی جسم کے بنیادی اجزاء ہوا کرتے ہیں اور انکو اسی وجہ سے حکماء نے اجزاء اولیہ بھی کہا ہے۔مرض اور صحت انہی پر منحصر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ طب یونانی طب مشرقی و اسلامی کے یہ عناصر چار ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آگ (النار) — گرم و خشک ہے۔ جدید سائنس کی تشریح کے
مطابق اسکو خلیات میں بننے والی توانائی "اے ٹی پی” تصور کیا جاسکتا ہے۔
ہوا — گرم و تر ہے۔ جدید تحقیقات کے مطابق اسکو عمل تنفس میں تبادلہ پانے والی ہوائیں تصور کیا جاسکتا ہے۔
پانی (الماء) — سرد و تر ہے۔ جدید تحقیقات کے مطابق خون کا پلازمہ، بین الخلیاتی مائع اور لمف تصور کیا جاسکتا ہے۔
مٹی (الارض) — سرد و خشک ہے۔ جدید تحقیقات میں اس کا کوئی تصور نہیں، لیکن اگر حیاتی کیمیاء کے تحت دیکھا جاۓ تو اسکو معدنیات کا متبادل کہا جاسکتا ہے

عناصر اربعہ قدیم طبی نظریہ تھا جسے اجتہاد طب سے سلجھایا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جدید طبی تحقیقات کے مطابق ایلیمنٹس یعنی عناصر کی تعداد ایک سو اٹھارہ تک پہنچ چکی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔عصر حاضر کے اطباء کے مطابق عناصر کا قدیم نظریہ درست ہے لیکن یہ تقسیم عددی نہیں بلکہ صفاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی عناصر کی تعداد خواہ کتنی ہی کیوں نہ ہو با لحاظ صفات انہیں مندرجہ بالا چار اجناس میں ہی تقسیم کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حکیم قاضی ایم اے خالد

ہم 21دسمبر کو طب یونانی کا قومی دن کیوں مناتے ہیں

ملک بھر میں ہر سال طب یونانی کا قومی دن اکیس دسمبر کو طبی جوش و جذبہ کے ساتھ منایا جاتا ہے۔اس موقع پر سیمینارز’نمائشوں اور فری طبی کیمپس کاانعقاد کیا جاتا ہے۔کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد کی کاوشوں سے یہ دن قومی طبی کونسل وفاقی وزارت صحت حکومت پاکستان نے باقاعدہ طور پر منظور کیا۔

طب یونانی کے قومی دن اکیس دسمبر کی تاریخی حیثیت

21۔دسمبر 1978ء کا دن اطبائے پاکستان اور طب یونانی اسلامی نیز اس سے تعلق رکھنے والے ہر فردکےلئے انتہائی اہم اور تاریخ ساز دن تھااس دن محسنِ طب اسلامی صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نےآل پاکستان طبی کانفرنس بلوا کرطب اسلامی کو باقاعدہ سرکاری طور پر تسلیم کیا اور اس سلسلے میں مراعات و سرکاری طبی اداروں اور عہدوں کا قیام عمل میں لایا گیا ۔فیڈرل گورنمنٹ میں طب کی وزارت قائم کی گئی۔مشیر طب کی تقرری کا فیصلہ کیا گیا اوریہ عہدہ شہید پاکستان حکیم محمد سعید کو تفویض کیا گیا ۔
یہ دن تجدید عہد کے دن کے طور پر ہر سال منایا جاتا ہے۔یہ بات بھی درست ہے کہ موجودہ صدی طب یونانی کی صدی ہے اور اس کا ہر سال طب یونانی کا سال ہے ۔

اسطوخودوس ذہنی امراض میں انتہائی مفید ہے:حکیم قاضی ایم اے خالد

 پاکستان میں چونتیس فیصد افراد ذہنی مریض ہیں 

لاہور:وطن عزیز میں چونتیس فیصد افراد مختلف ذہنی امراض میں مبتلاء ہیں۔ اسطوخودوس جسے انگلش میں لیونڈر کہا جاتا ہے ‘کی خوشبو سونگھنے سے اعصاب کو سکون حاصل ہوکرڈیپریشن( ذہنی تناؤ) کم کرنے میں مدد ملتی ہے علاوہ ازیں اسطوخودوس دیگر ذہنی امراض میں بھی فائدہ مند ہے اس امر کا اظہارمرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے ورلڈ مینٹل ڈے کے حوالہ سے الیکٹرانک وپرنٹ میڈیا سے گفتگو کے دوران کیاانہوں نے کہا کہ جاپان کی کاگوشیما یونیورسٹی کے ماہرین کی جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بنفشی رنگت کی اس جادوئی بوٹی کی خوشبو کو نیند کی گولیوں کی جگہ استعمال کرسکتے ہیں اور اس کے کوئی منفی اثرات بھی نہیں ہوتے۔ اسی بنا پر دن میں ایک سے دو مرتبہ لیونڈر سونگھنے سے موڈ بہتر رہتا ہے۔سرجری کے بعد درد سے کراہتے مریضوں کی تکلیف بھی اس کی خوشبو سونگھنے سے کم ہوجاتی ہے۔ لیونڈر کے اہم مرکب لینا لول کی خوشبو کواس تحقیق میں چوہوں پر آزمایا اور اسے بہت مفید پایا ہے۔ دنیا بھر کے بیشتر ممالک میں ایک عرصے سے یہ خوشبو قدرتی سکون آور
Natural Tranquilizer 
 تصور کی جاتی ہے ۔لیونڈر کی خوشبو سونگھنے سے بہت فائدہ ہوتا ہے اور کچھ دیر میں دماغ ہلکا ہوجاتا ہے۔ اسی لیے سوتے وقت بھی لیونڈر کی خوشبو سونگھنا بہت مفید ہے جس سے بے چینی، الجھن اور ذہنی تناؤ رفع ہوتا ہے۔اسطوخودوس کی ہربل ٹی درد سر’شقیقہ (مائیگرین)اور دیگر دماغی امراض میں صدیوں سے طب یونانی طریق علاج میں مستعمل ہے ۔جس کی جدید سائنس نے بھی تصدیق کر دی ہے۔
 ٭…٭…٭

سیب:ایک کرشماتی صحت بخش پھل

ایک سیب روزانہ‘ رکھے تندرست و توانا

دماغی کام کرنے والوں کیلئے سیب ایک موثر غذائی ٹانک ہے

حکیم قاضی ایم اے خالد
Gmail:qazimakhalid
Twitter:qazimakhalid

ایک مشہور انگریزی کہاوت ہے کہ An apple a day keeps the doctor away یعنی روزانہ کا ایک سیب آپ کو ڈاکٹر سے دور رکھتا ہے۔ اس کہاوت سے سیب کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔ سیب کی تمام خصوصیات کے حصول کیلئے اسے آہستہ آہستہ چبانا چاہئے۔ایسا اس لئے ضروری ہے کیونکہ یہ پھل ہمارے گیسٹرک گلینڈز کو سرگرم کرتا ہے جس سے ہاضمے کا نظام آسان ہو جاتاہے۔ اس میں موجود سیلولوز کی وجہ سے یہ آنتوں کے عمل کو مضبوط بنانے میں معاون ہوتا ہے چونکہ اس میں ٹینن زیادہ مقدار میں ہوتا ہے۔ اس لئے یہ امراض امعاء میں فائدہ دیتا ہے۔ وافر فائبر کی بدولت چھاتی ‘قولون اور ہمہ اقسام کے کینسرسے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

غذائی حقیقت(Nutrition Facts)
سیب میں پائے جانے والے اہم غذائی اجزامیں گھلنے والے فائبر(پیکٹن)کرومیم اور گلوسیٹول شامل ہیں۔ ان میں پولی فنولز (اینٹی بیکٹیریل)اور گلوٹاتھیون (اینٹی رسٹ اور اینٹی کرسنوجینک)موجود ہیں۔ علاوہ ازیں وٹا من اے ‘وٹامن سی ‘کیلشیم ‘آئرن ‘گلوکوز اور فروکٹور کی اعلیٰ مقدار کی وجہ سے سیب توانائی کا بہترین ذریعہ ہے۔

فوائد
٭دماغی طاقت کیلئے :دماغی کام کرنے والوں کیلئے سیب ایک موثر غذائی ٹانک ہے کیونکہ اس سے قوت حافظہ بڑہتی ہے۔یہ طلبہ اور دماغی کام کرنے والوں کیلئے ایک لا جواب تحفہ ہے۔سیب دماغی مرض الزائمر سے بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔

٭سرطان خصوصاً پھیپھڑوں کے سرطان سے تحفظ کیلئے :سیب کا استعمال پھیپھڑوں کے سرطان سے محفوظ رکھتا ہے۔ اسے زیادہ مقدار میں استعمال کرنے والے مرد اور خواتین سیب نہ کھانے والوں کے مقابلے میں پھیپھڑوں کے سرطان سے پچاس فیصد زیادہ محفوظ پائے گئے۔سیب میں موجود اس جز کی بھی حال ہی میں شناخت ہو گئی ہے جس نے پھیپھڑوں کے سرطان سے تحفظ فراہم کیا’یہ جزو ایک فلیوونائیڈہے جسے کوئریسی ٹین (Quercetin)کانام دیا گیا ہے۔اس میں مانع تکسیدصلاحیت خوب ترہوتی ہے۔سرطان سے دلچسپی رکھنے والے معالج اور افراد یہ بات تو جانتے ہی ہوں گے کہ مانع تکسید اجزا جسم کو امراض پیدا کرنے والے مضرفری ریڈیکلز سے محفوظ رکھتے ہیں۔
٭انسٹیٹوٹ آف فوڈ ریسرچ کی تحقیق کے مطابق سیب اور گرین ٹی میں ایسے قدرتی کیمیکلز موجود ہوتے ہیں جو جسم کو سنگین طبی مسائل جیسے امراض قلب اور کینسر وغیرہ سے تحفظ دیتے ہیں۔ جب ان دونوں کو اکھٹے استعمال کیا جاتا ہے تو ان میں موجود قدرتی اینٹی آکسائیڈنٹس وی ای جی ایف نامی مالیکیول کو بلاک کرتے ہیں جو خون کی شریانوں میں چربی کو جمع نہ ہونے دینے والے عمل کو بڑھاتا ہے ، خیال رہے کہ شریانوں میں چربی جمنے سے دل کے دورے یا فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں غذائیں خون میں نائٹرک آکسائیڈ کی مقدار بھی بڑھا دیتی ہیں جس سے شریانوں کو پھیلنے میں مدد ملتی ہے اور اس کو ہونے والے نقصان کی روک تھام ہوجاتی ہے۔
٭دمہ اور امراض تنفس کیلئے :ہفتہ میں پانچ سیب کھانے والے سانس کی بیماریوں اور دمہ سے محفوظ رہتے ہیں۔
٭کھانسی کیلئے:ایک پکا ہوا سیب کوٹ لیں یا اسکا رس نکال لیں۔کوٹے ہوئے سیب کا رس نکال کر مصری ملائیں اور صبح ناشتے سے پہلے مریض کو پلائیں ان شاء اللہ کھانسی ختم ہو جائے گی۔
٭ صحت مند دل کیلئے :ایک وسیع تحقیق کے مطابق سیب اعلیٰ فائبرپر مشتمل ہے ۔ اعلیٰ فائبر کا زیادہ استعمال کولیسٹرول کو کم کرتا ہے دل کی شریانوں کی بیماری میں مبتلا ہونے سے روکتا ہے۔سیب میں فینولک کمپاؤنڈ پایا جاتا ہے ۔ جو برے کولیسٹرول کو بڑھنے سے روکتا ہے۔
٭گردے اور پتے کی پتھری کیلئے :سیب گردے اور پتے کی پتھری کے اخراج میں معاون ہے۔
٭وزن کم کرنے کیلئے :برازیل میں کئے گئے ایک مطالعہ کے مطابق کھانے سے قبل سیب کا استعمال خواتین میں وزن کم کرنے کا باعث بنتا ہے ایک سیب میں پچاس سے اسی کیلوریز پائی جاتی ہیں ۔
٭ورم قولون (کولائٹس) کے لئے : ایک گلاس سیب کے جو س کو آدھا گلاس گاجر کے جوس کے ساتھ مکس کر کے اس کا استعمال کریں۔
٭ قبض کے لئے : ایک سیب رات کو اور ایک صبح نہار کھایا جائے ۔

٭ ڈائیریا کے لئے : ایک پکے ہوئے سیب کو کدو کش کریں اور ماحولیاتی درجہ حرارت میں اس وقت تک چھوڑ دیں جب تک یہپوری طرح گہرے رنگ کا نہ ہو جائے اس کے بعد استعمال کریں۔سیب آکسیڈائزڈپیکٹن ڈائیریا سے نجات دلاتا ہے۔
٭ منہ کے چھالوں سے تحفظ کیلئے: کھانے کے بعد سبز سیب کے 2یا3ٹکڑے بچوں کو دیں جن سے منہ کے چھالوںکا امکان کم ہوتا ہے۔
٭ورم مثانہ کے لئے : ایک سیب چھیلیں اس میں سے بیج نکال دیں اور اسے گول سلائس میں کاٹیں ۔ انہیں آدھا لٹر پانی میں 20منٹ کے لئے پکائیں، پھر اس پانی کو فلٹر کریں، اس میں ایک چمچ شہد اور تھوڑا سا چھانا ہوا گودا ملائیں روزانہ 2کپ کا استعمال کریں۔
٭ گنٹھیا، ہاضمے کے نظام اور قبض کے لئے سیب کا پانی:ایک بڑے سیب کو چھیل کر پتلے سلائس میں کاٹیں ۔ 10گرا م پودینے کے پتے ، آدھا کپ لیموں کا رس اور چٹکی بھر دار چینی اس میں ملائیں۔ اس میں 2چمچ شہد اور آدھا لٹر ابلا ہوا پانی ڈالیں۔ فلٹر کر کے اس محلول کا روزانہ کھانے کے بعد استعمال کریں۔ اس میں پیکٹین کی بھر پور مقدار ہوتی ہے۔ اس لئے یہ کولیسٹرول کی سطح کم کرنے میں معاون ہوتا ہے۔
٭مسوڑھوں کی امراض کیلئے :صبح ناشتے سے پہلے ایک سیب کا استعمال کرنے سے آپ کے دانتوں اور مسوڑھوں کو طاقت ملتی ہے۔ اگر آپ کے مسوڑھوں سے خون بہہ رہا ہو تو 1.05اونس بار لے فلور میں چٹکی بھر نمک اور سیب کا جوس ملا ئیں۔ دن میں ایک بار اس مکسچر سے اپنے دانتوں پر برش ضرور رکریں۔
٭سیب ایک بہترین ڈی ٹاکسن (مضر اثرات دور کرنے والا):ہم مستقل طور پر زہر کھا رہے ہیں جنک فوڈ اور کولڈرنکس کی شکل میں، ہمارا جگر اس کا ذمہ دار ہے کہ جسم سے مضرات کا اخراج کرے ۔ سیب آپ کے جگر کیلئے تمام زہریلے مادوں سے پاک رکھنے میں ایک بہترین معاون کے طور پر کام کرتا ہے۔
٭دوپہر کی بے وقت بھوک کی روک تھام کے لیے کھانے کے بعد ایک سیب کھالیں، سیب میں فائبر موجود ہوتا ہے جو جسم میں پانی کو اپنی جانب کھینچ کر ایک جیل تشکیل دیتا ہے جو غذا کے ہضم ہونے کا عمل سست کردیتا ہے، اس سے آپ کو زیادہ دیر تک پیٹ بھرے رہنے کا احساس ہوتا ہے اور بلڈ شوگر لیول میں مستحکم جبکہ انسولین کی حساسیت بہتر ہوتی ہے جبکہ موٹاپے میں بھی فائدہ ہوتا ہے۔
٭بلڈ شوگر کنٹرول کرنے کیلئے:سیب کا سرکہ بلڈ شوگر لیول کو متوازن رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مریضوں پر ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق دو چائے کے چمچ سیب کا سرکہ سونے سے قبل ایک گلاس پانی میں ملا کر پینے سے صبح گلوکوز کی سطح میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
٭سیب کا سرکہ کولیسٹرول متوازن رکھنے میں بہترین ہے۔اس کے استعمال کا طریق کار یہ ہے کہ ڈیڑھ چمچ سرکہ سیب ڈیڑھ لیٹر پانی میں ملا لیں اور تمام دن یہی پانی پئیں ایک ماہ بعد لیپڈ پروفائل کروا لیں ان شا ء اللہ خاطر خواہ فائدہ ہو گا۔

ترکیب مربہ سیب
پانچ کلو سیب لے کر پانی میں ہلکا سا جوش دیں۔نیم پختہ ہونے پرکانٹے سے چوک لیں پھر پانچ کلو چینی کی چاشنی ڈال کر تھوڑی دیر کے لیے آگ پر پکائیں۔قوام گاڑھا ہونے پر آگ سے اتار کرمیں محفوظ کر لیں۔بطور ناشتہ سنہری ورق میں لپیٹ کر استعمال کریں۔سیب کا مربہ دل و دماغ کی تقویت کیلئے انتہائی مفید ہے ۔گھبراہٹ میں فائدہ مند ہے۔مربہ جات بازار سے لینا ہوں توہمیشہ معیاری دواساز اداروں کے بنے ہوئے استعمال کریںغیر معیاری مربہ جات بجائے فائدہ کے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

دلچسپ حقائق
٭دنیا بھر میں سیب کی 7500مختلف اقسام پائی جاتی ہیں۔
٭چین دنیا میں سیب پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اس کی سالانہ پیداوار27507000ٹن ہے۔
٭سکندر اعظم کے قازقستان کے سفر میں 328 قبل مسیح میں سیب کا ذکر ملتا ہے-

مضرات
٭بعض لوگ سیب کھانے کے بعد ریاح اور تبخیر معدہ محسوس کرتے ہیں۔کالی مرچ یا نمک کے ہمراہ سیب استعمال کرنے سے یہ شکائت جاتی رہتی ہے۔ہائی بلڈ پریشر کے مریض اس مسئلہ کیلئے سفید زیرہ پاؤڈر کے ہمرا ہ سیب استعمال کریں۔
٭سیب کے بیج زیادہ مقدار میں عام افراد کیلئے بالعموم اورحاملہ خواتین کیلئے بالخصوص نقصان دہ ہیںیہ متلی ‘قے‘اینزائٹی‘سر درد اور سر چکرانے کا باعث بن سکتے ہیںزیادہ نقصان دہ تب ہو سکتے ہیں جب انہیں چبایا جائے کم مقدار میں نگلے جانے والے بیج نقصان دہ نہیں۔حاملہ خواتین کیلئے جوس بناتے وقت انہیں لازمی نکال دینا چاہئے۔
انتباہ
اچھی قسم کے بعض سیب کی اقسام پر چمکدار اورانہیں تروتازہ رکھنے کیلئے ’’ویکس پالش‘‘ کی جاتی ہے جو مضر صحت ہے اس کے لئے سیب چھلکہ اتار کر کھانا چاہئے۔

٭…٭…٭

کورونا وائرس ‘اور نباتاتی علاج

حکیم قاضی ایم اے خالد
Twitter:qazimakhalid

دنیا بھر میں کورونا وائرس COVID19 پھیل چکا ہے اوراس سے عوام میں خوف جاگزیں ہے لیکن بعض قدرتی غذائیں اور دوائیں ایسی ہیں جو جسم کے قدرتی دفاعی نظام کو مضبوط بنا کر آپ کوکورونا وائرس COVID19 سے بچاتی ہیں اور قوی امید ہے کہ اس سے جسم میں کورونا وائرس سے لڑنے کیخلاف بھی مزاحمت پیدا ہوسکتی ہے۔جسمانی امیون سسٹم ہمہ وقت کئی امراض اور بیماریوں سے مسلسل لڑتا رہتا ہے۔ اسی مناسبت سے عام دستیاب قدرتی غذائیں خاص طور پر پھل اور سبزیاں جسمانی دفاعی نظام کو طاقتور بنا کر آپ کو تندرست رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔قدرتی پھل ہمارے تمام امیون سسٹم کو طاقت دیتے ہیں۔پھلوں میں موجود وٹامن سی خون کے سفید خلیات کی پیداوار بڑھاتا ہے اور ہر طرح کے انفیکشن سے لڑتا ہے۔ کورونا وائرس کے حملے سے وہ لوگ محفوظ ہوتے ہیں جن کا مدافعتی نظام مضبوط ہے۔
ذیل میں جو نباتاتی نسخہ جات درج کئے جا رہے ہیں وہ عام حالات میں بھی کئی امراض سے محفوظ رکھتے ہیں جن میں خاص طور پرہر قسم کا فلو‘ نزلہ و زکام وغیرہ شامل ہیں۔ یہ تمام قدرتی دوائیں آپ کے جسم کوکرونا وائرس سمیت کسی بھی وائرس کے خلاف طاقتور بناتی ہیں۔

قدرتی غذاؤں اور نیچرل ہربزپر مشتمل نباتاتی نسخہ جات

کورونا وائرس سے بچاؤ وعلاج کیلئے قدرتی غذاؤں اور ہربزپر مشتمل ‘مجربات حکیم خالد کے چندنباتاتی نسخہ جات قارئین کیلئے درج ذیل ہیں۔انکی شفایابی کی سائنسی توضیحات دینے سے قاصر ہوں ظاہر ہے یہ فرد واحد کاکام نہیں اداروں کا کام ہے جوحکومت( بلکہ حکومتوں) کی سرپرستی کے بغیر کیسے ممکن العمل ہو سکتا ہے تاہم سالہا سال سے اپنی ’’پریکٹس‘‘ میں کئے گئے کلینیکل ٹرائلز میں انہیںوائرل ڈیزیزخصوصاً کرونا وائرس میںمبتلا مریضوں میں انتہائی شفا بخش پایا ہے۔
٭فلوکرونایا کسی بھی وائرس سے ہو ادرک اورمیتھی کے بیج یعنی میتھرے کی ہربل ٹی انتہائی فائدہ مندہے کئی غیرملکی احباب بھی اس کی افادیت کے قائل ہیں اس کے تیار کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ میتھرے ایک کھانے کا چمچ ایک گلاس پانی میں جوش دیںجب پانی ایک تہائی رہ جائے اتار کر چھان لیں اب اس میںتازہ ادرک کا رس ایک چمچ چائے والااور شہد ایک بڑاچمچ شامل کرلیں یہ ہربل ٹی پینے سے خوب پسینہ آتا ہے’ بخار ٹوٹ جاتا ہے دردیں ختم ہو جاتی ہیں‘سانس کی تنگی دور ہو کرجکڑی ہوئی چھاتی کھل جاتی ہے اور فلو و نمونیہ میں افاقہ ہو جاتا ہے۔
٭ کالی مرچ پاڈرایک چٹکی’دارچینی پاؤڈرتین چٹکی اور شہد ایک بڑاچمچ ملا کر ہربل ٹی بنائیں ۔یہ ٹی بھی نزلہ و زکام ‘گلے کی خراش ‘ملیریا’نمونیااورہرقسم کے فلونیزوائرل ڈیزیز میں بہت فائدہ مند ہے۔

٭ کورونا وائرس ایک وائرل مرض ہے اورطب یونانی کے مطابق اس میں وہ دوائیں استعمال کی جاتی ہیں جن سے جسم میں قوت مدافعت کو بڑھایا جاسکے اور کسی بھی قسم کے جراثیم یا وائرسز کوپنپنے نہ دے آئندہ آنے والی جدید سائنس اسے ’’ہوسٹ ڈائریکٹڈتھراپی ‘‘کا نام دے رہی ہے۔ طب یونانی میں اسی اصول کے مطابق ہر وائرل ڈیزیز کا علاج موجودہے۔ہربل اسلامک سسٹم آف میڈیسن(طب یونانی) میں صدیوں سے استعمال ہونے والی دوا کلونجی پردنیا بھر میں ہزاروں مطالعے اور لاکھوں کلینکل ٹرائلزجاری ہیں۔ کلونجی کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان ہے کہ اس میں موت کے سوا ہر بیماری سے شفا ہے یہ بات جدید تحقیقات نے بھی ثابت کردی ہے۔ ابتک کی گئی تحقیق کے مطابق کلونجی اینٹی وائرل’اینٹی بیکٹیریل’ڈائیریٹک ‘اینل جیسک’برونکوڈائی لیٹر ثابت ہوئی ہے اور کینسر، لیوکیمیا، ایچ آئی وی ایڈز، ذیا بیطس، بلڈ پریشر ہائپر کولیسٹرول ایمیا ‘میٹا بولک ڈیزیززاور جدید وائرل ڈیزیززخاص طور پر کورونا وائرس کے علاج میں انتہائی موثر پائی گئی ہے۔ کورونا وائرسCovid-19کے علاج و حفظ ماتقدم کے حوالہ سے کلونجی ‘دارچینی ہر ایک دوگرام ایک کپ پانی میں جوش دیکرہربل چائے بنا ئیں اورایک چمچ شہد ملا کر صبح د وپہرشام استعمال کریں( صرف کلونجی کی ہربل چائے بھی یہی فوائد رکھتی ہے)۔غذا میں ایک سیب روزانہ نہار منہ کھائیں جبکہ مٹر کا سوپ ہلدی اور کالی مرچ ڈال کر استعمال کریں یہ کورونا وائرس میں مبتلا افرادکے ساتھ ساتھ حفظ ماتقدم کے طور پر بھی فائدہ مند ہے ۔یہ علاج دنیا کے بیشتر مسلم ممالک میں کیا جارہا ہے اور اس کے انتہائی حوصلہ بخش نتائج مل رہے ہیں. فلوریڈا میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق کلونجی کینسر اور لیوکیمیا میں بھی مفیدہے نیز اینٹی کینسرکیمیو تھراپی کے مضراثرات و مضمرات کے ازالہ میں بھی فائدہ مند ثابت ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں کلونجی کے استعمال سے مریضوں کی قوت مدافعت میں زبردست اضافہ دیکھا گیاکلونجی کے مرکب کے استعمال سے ایمیون سسٹم کی کارکردگی میں انتہائی بہتری پیدا ہوجاتی ہے اسی وجہ سے یہ کورونا وائرس میں بھی مفید ثابت ہو رہی ہے ۔ اس حوالہ سے کلونجی پر تازہ ترین تحقیق فیکلٹی آف ٹیکنالوجی’یونیورسٹی آف سائدہ ‘الجیریا میں کی گئی ہے۔عربی میگزین الاثنو الدوائی کیمطابق کلونجی کے تیل سے انسانی دفاعی نظام میں بہتری اورسرطانی زہریلے اثرات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ النباتات الطبی نامی عربی جریدے کیمطابق کلونجی کے تیل کی تاثیر سے متعلق اور خون کے سفید گلوب پر ثیموکینون(وائٹ بلڈ سیلز)کے مجموعہ کے اثرات پر کامیاب تجربہ کیا گیاہے۔جرنل آف مولیکولر بیالوجی رپورٹس میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ کلونجی کورونا وائرس Covid-19میں مفید ثابت ہوئی ہے۔

٭یہ نسخہ بھی مجرب المجرب ہے جو کئی وباؤں میں مفید ثابت ہوا ہے اسے بطور ہربل ٹی صبح و شام استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ بہدانہ تین گرام ‘عناب 7عدد’ سپستاں’گلو’برگ گازبان اورخاکسی ہر ایک 7گرام۔ مرض کی شدت کے پیش نظر افسنتین پاؤڈر کے ڈبل زیرو سائز کیپسول کااضافہ کیا جاسکتا ہے ۔یہ نسخہ انتہائی فائدہ مند ہے کیونکہ اس میں شامل دوائیں تعدیہ کو روکنے والی اور قوت مدافعت کو بڑھانے والی ہیں ۔
٭ہرقسم کے فلو وبخارکے مریض کوتمباکونوشی’کھٹی اشیاء’اچار وغیرہ اور تمام ٹھوس غذاؤں سے حتی الامکان پرہیز لازم ہے۔پھلوں کے جوسز’سبزیوں کے سوپ اور دیگر سیال غذائیں و دوائیں جوشاندہ وغیرہ زیادہ مفید ہیں۔
٭ورزش سے ہمارا مدافعتی نظام خود کو منظم کرکے نئی قوت حاصل کرتا ہے اور کسی بھی مرض میں زیادہ موثر مزاحمت کرتا ہے۔جبکہ وضو‘ نماز’مراقبہ’استغراق یا ذہنی ارتکازسے بھی اعصابی تناؤاور ذہنی دباؤ دور کر کے مدافعتی نظام کوصحتمند و متحرک کیا جا سکتا ہے۔جس سے کورونا وائرس سمیت ہر قسم کی وائرل ڈیزیز سے بچاؤ کیا جا سکتا ہے۔
٭…٭…٭

صحت کی ضامن ‘محبت کی علامت ،اسٹرابیری

حکیم قاضی ایم اے خالد
Twitter:qazimakhalid
امراض نسواں‘ امراض قلب و دیگر امراض میں مفید ہے
ہائی بلڈ پریشر میں اسٹرابیری فائدہ مند ہے
اسٹرابیری دماغ کو طاقت دیکر الزائمر کی مرض دور کرتی ہے

اسڑابیری ایک خوبصورت مگر نازک پھل ہے۔ دیگر پھلوں کے بر عکس اس پھل کا گودا اند ر کی جانب اور بیج باہر کی طرف ہوتا ہے۔ شگفتہ سرخ رنگت اور سر پر سبزپتوں کا تاج لئے‘ دل کی شکل سے مشابہ اسٹرابیری گلاب کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے اسے محبت کی علامت اور صحت کی ضمانت بھی کہا جاتا ہے چھ سو سے زائد اقسام کی اسٹابیریزپاکستان سمیت دنیا بھرمیں آئسکریم، ملک شیک ودیگرمشروبات، میٹھے پکوان اور سلاد کی جان ہے ۔فروری سے جولائی کے دوران تازہ اسٹرابیریز کا بھرپور مزہ لیا جا سکتا ہے۔94فیصد امریکیوں کے ساتھ ساتھ اب( پاکستان میں اس کی وافر کاشت کی وجہ سے )پاکستانیوں کی بھی کثیر تعداد اسٹرابیری استعمال کررہی ہے۔

اٹھارھویں صدی میں پہلی مرتبہ فرانس میں کاشت ہونے والا پھل تقریبا دو صدیوں کے بعد پاکستان میں آیا۔ اور اسے لاہور سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں کاشت کرنے کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔اس وقت پنجاب، خیبر پختون خوا اور سندھ کے متعدد علاقوں میں اس بدیشی پھل کی کاشت کی جاتی ہے۔ اسٹرا بیری کے پودے کی پنیری خیبر پختون خواہ کے ضلع سوات میں تیار کی جاتی ہے۔ پاکستان میں کاشت ہونے والی اقسام میں شینڈلیر (صراحی)، کورونا(گولہ)اور اسٹف ہیں۔ جن کی کئی دہائیوں سے کاشت کی جاتی ہے۔
دریائے راوی پار کرکے شرقپور روڈ پر 10کلومیٹر طے کرنے کے بعد لاہور کے مضافات میں اسٹرابیری کے کھیت نظر آنے شروع ہوجاتے تھے۔ لاہور کے نواح میں پیدا ہونے والی اسٹرابیری کراچی اور اسلام آباد تک جاتی ہے۔

جدید طبی تحقیقات کے مطابق اسٹرابیری کا روزانہ استعمال انسانی جسم کی قوت مدافعت بڑھانے اور صحتمند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔اس میں وٹامن سی کی وافر مقدار پائی جاتی ہے جس سے قوت مدافعت مضبوط ہوتی ہے۔اسٹرابیریز میں موجود مختلف وٹامنز، معدنیات اور زود ہضم ریشے جلد کی شادابی،خلیوں اور مدافعتی نظام کی بہتری کے ساتھ ساتھ دل اور کینسر کی صورت میں مرض کی شدت کم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔اسٹرابیری میں موجود اینٹی آکسیڈینٹس(مانع تکسید اجزا) انسانی جسم میں پائے جانے والے فری ریڈیکلز(مجموعہ ایٹم) کو ختم کرتے ہیںنیزوٹامن سی ‘فولیٹ اور مانع تکسید اجزاسرطان اور رسولی کے خلیات سے لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیںاسی وجہ سے اسٹرابیری کھانے والا کینسر جیسے مہلک مرض کا شکار نہیں ہوتا۔یاد رہے کہ فری ریڈیکلز جسم میں موجود کارآمد سیلز کو ختم کرتے ہیں اور کینسر کا سبب بنتے ہیں۔
اسٹرابیری عارضہ قلب کے مریضوں کے لیے انتہائی مفید پھل ہے اسٹرابیری میں دل کی شریانوں کووسیع کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔اس کے استعمال سے دل کی بیماریوں کے خطرات میںکمی ہوجاتی ہے۔جو دل کی بیماریوں سے بچنا چاہتے ہیں،انھیں چاہیئے کہ وہ اسٹرابری استعمال کریں۔جدید تحقیقات کے مطابق اسٹرابیری ایک ایسا پھل ہے جس میں ایسے قدرتی اجزا پائے جاتے ہیں جو عارضہ قلب و دیگر امراض میں انتہائی مفید ہیں۔

اسٹرابیری میں فائبر( غذائی ریشہ)سیلی کون ،پوٹاشیم،میگنیشیم ،جست ، آئیو ڈین ‘فولک ایسڈ، فلیوونائڈز،فائیٹو کیمیکلز‘وٹامن بی ۲،بی۵،بی۶اورمیگنیزکی کافی مقدار پائی جاتی ہے۔اسٹرابیری جوڑوں کے درد اورگنٹھیا کے مرض میں فائدہ مند ہے۔ امراض چشم میں انتہائی مفید ہے ‘بینائی کے نقائص‘بصری اعصاب کی تقویت ‘آنکھوں کی انفیکشن میںکارآمد ہے ۔اس میں بیس مختلف اجزااینٹی ایجنگ صلاحیت رکھتے ہیں جس کے باعث یہ جھریوںاور بڑھاپے سے بچا کر انسانی جسم کو جوان رکھتی ہے۔اسٹرابیری میں موجود فائٹوکیمیکلزکولیسٹرول لیول کونارمل رکھتے ہیں جبکہ یہ پوٹاشیم اور میگنیشیم کی بدولت ہائی بلڈ پریشرمیں فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔اسٹرابیر ی کھانے سے قوت مدافعت بحال رہتی ہے جس کی وجہ سے نزلہ زکام سمیت بیشتر اقسام کی انفیکشینزسے بدن انسانی محفوظ رہتا ہے۔اسٹرابیری میں موجود فائٹونیوٹرنٹس ‘سوجن یعنی ورم کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیںاسٹرابیری میں ایک معدنی جز بورون پایا جاتا ہے جو خواتین کے جسم میں زنانہ ہارمونز کی سطح بڑھا دیتا ہے جس سے یہ بیشتر نسوانی امراض میں بھی فائدہ مند ہے اس میں موجودفلیونائڈزمزمن امراض ‘سرطان،بلند فشار خون ‘دانتوں کے امراض اور ہڈیوں کی کمزوری میںفائدہ مند ہیں۔اسٹرابیری کھانے سے پیاس کم لگتی ہے اسٹرابیری کا بیرونی استعمال رنگت میں نکھارکے علاوہ ایکنی وچھائیوں کودور کرکے چہرہ خوبصورت بناتاہے۔
تازہ ترین طبی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اسٹرابیری نسیان کے مرض(الزائمر)اور دل کی بیماریاں دور کرنے کے لیے فائدہ مند ہے۔علاوہ ازیں اسٹرابیری کا سرخ رنگ چکنائی کو جلانے کی خاصیت رکھتا ہے۔ تحقیق کے دوران جب حیوانوں کے ایک گروپ کوزیادہ چکنائی کے ساتھ اسٹرابیری دی گئی تو ان کا وزن 24فیصد کم ہوگیا ، لیکن جن حیوانات کو صرف چکنائی کھلائی گئی ، ان کا وزن کم نہیں ہوا۔ اس سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ وہ افراد جواپنا وزن کم کرنا چاہتے ہیں ، انھیں اسٹرابیری کھانی چاہئے۔ اسٹرابیری یادداشت میں اضافہ کرتی ہے جس کی بنا پراس کے استعمال سے یا دداشت میں آٹھ ہفتوں میں اضافہ ممکن ہے۔
اسٹرابیری کھانے سے ہائی بلڈ پریشر اور سوزش ختم ہوجاتی ہے۔ تجربے کے طور پر خواتین کے ایک گروپ کو جب ہر ہفتے 16 یا اس سے کچھ زیادہ اسٹرابیریاں کھلائی گئیں تو ان کا ہائی بلڈپریشر 14فیصد ختم ہوگیا اور سوزش بھی جاتی رہیں۔
طبی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ اگر اسٹرابیری کے خشک ، مگر ٹھنڈے سفوف کو کھایا جائے تو غذائی نالی کا سرطان ختم ہوجاتا ہے۔
اسٹرابیری میںبایوٹن نامی ایک حیاتین بھی ہوتی ہے ، جو بالوں اور ناخنوں کو مضبوط بناتی ہے۔ اس میں مانع تکسیداجزا ANTIOXIDANTS بھی ہوتے ہیں ، جن سے ہماری جلد کھچی رہتی ہے ، ہم جلد بوڑھے نہیں ہوتے اور ہمارے چہرے پر جلد جھریاں بھی نہیں پڑتیں۔ اسٹرابیری میں حیاتین الف ، ج اور ھ (وٹامنز اے ، سی اور ای )ہوتی ہیں ، جن سے وہ خلیے مضبوط ہوجاتے ہیں ، جن کے کم زور ہونے پر جلد بڑھاپا آجاتا ہے۔ اس مسلسل کھانے سے خون میں شامل شکر بھی قابو میں رہتی ہے۔

دن میں تقریبا تین باراسٹرابیری کھانے سے ضعف بصارت کا خطرہ بھی ختم ہوجاتا ہے۔ اسٹرابیری کا رس پینے سے سینے کی جلن ختم ہوجاتی ہے اور شریانوں میں خون کے تھکے نہیں بنتے ‘عموما خراب کولیسٹرول کی وجہ سے تھکے بنتے ہیں۔امریکا کی ٹفٹ یونیورسٹی کی سائنس داں باربرانے تحقیق کرنے کے بعد بتایا ہے کہ اسٹرابیری کھانے سے دماغ پر مثبت اثر پڑتا ہے۔
حالیہ طبی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اسٹرابیری الزائمر( نسیان )کے خلاف ایک اچھا ہتھیار ہے۔ چوں کہ اسٹرابیری سے نئے دماغی خلیے بنتے ہیں ، اس لیے دماغ کو تقویت دیتی ہے۔ اس کے علاوہ دماغ کے زہریلے مادوں کو بھی ختم کرتی ہے۔ایک تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ وہ افراد جن کی عمر 68برس یا اس سے زیادہ ہوتی ہے ،جب وہ اسٹرابیری کا ٹھنڈا سفوف 16ہفتوں تک روزانہ کھاتے ہیں توان کے دماغ میں چستی پیدا ہوجاتی ہے اور ان کی دماغی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔
سخت،چمکدار،گہری سرخ رنگت، درمیانہ سائز اور سر پر پتوں کا تاج تازہ اسٹرابیریز کی نشانیاں ہیں پیلے دھبوں، ہلکی سرخ یا سبزی مائل رنگت کی اسٹرابیریز خریدنا بہتر فیصلہ نہیں ۔ماہرین کے مطابق استعمال کے وقت ہی اسٹرابیریز کو دھونا چاہیے اسٹرابیریز کو ریفریجریٹر میں احتیاط سے رکھنا ضروری ہے ۔
احتیاط :گردے، پتے اور جگر کے پچیدہ امراض کی صورت میں اسٹرابیریز کھانے سے پرہیز کیا جائے۔
ناشتے میں دودھ اور شہد کے ساتھ بنایا گیا اسٹرابیریز کا جوس صحت کیلئے بہت زیادہ مفید ہوتا ہے سلاد اور دہی کے ساتھ بھی اسٹرابیریز کھائی جا سکتی ہیں جبکہ اس کے دیگر چند استعمالات نذر قارئین ہیں۔

مربہ اسٹرابیری

اجزا:
اسٹرابیریز آدھا کلو
چینی آدھا کلو
ترکیب:
اسٹرابیریز کو دھو کر اوپر سے تھوڑا کھرچ لیں۔پھر اسے چینی کے ساتھ رات بھر کے لیے فریج میں رکھ دیں۔اگلے روز اسٹرابیریز کو چولہے پر اتنا پکائیں کہ چینی گھل جائے اور گاڑھا شیرہ بن جائے۔اسٹرابیریز کو ثابت ہی رہنے دیں اور ٹھنڈا کر کے فریز کر لیں۔اسٹرابیری کو محفوظ کرنے کا یہ ایک بہترین طریقہ ہے۔

اسٹرابیری یوگرٹ شیک

اجزا:
دہی ایک کپ
دودھ ایک کپ
اسٹرابیری 8عدد
چینی 3/4 کھانے کے چمچے
برف کٹی ہوئی1/4 کپ
ترکیب:
بلینڈر میں دہی اسٹرابیری دودھ چینی برف ڈال کر بلینڈ کرلیں۔ فریش اسٹرابیری سے گارنشنگ کرکے سرو کریں۔

اسٹرابیری فرنی

اجزا:
پسے ہوئے چاول چار کھانے کے چمچ
دودھ چار کپ
چینی چار کھانے کے چمچ
اسٹرابری آدھا کپ
پسی ہری الائچی آدھا چائے کا چمچ
بادام اور پستے دو کھانے کے چمچ
ترکیب
پسے ہوئے چاولوں کو آدھے گھنٹے کے لیے بھگوئیں اور پھر انھیں تھوڑے پانی کے ساتھ گرائنڈ کر کے پیسٹ بنا لیں۔
اب چار کپ دودھ کو ابال کو اس میں چاولوں کا پیسٹ شامل کر کے پکائیں اور اس دوران چمچہ چلاتے رہیں۔
آمیزہ گاڑھا ہو جائے تو اس میں چار کھانے کے چمچ چینی ڈال کر پانچ منٹ مزید پکائیں اور چولہے سے اتار کر ٹھنڈا کر لیں۔

اسٹرابیری کا ماسک

اسٹرابیری نوش فرمانے کے استعمالات کے ساتھ ساتھ لگانے کابھی ایک نسخہ‘ چلتے چلتے بتاتا چلوں۔وہ خواتین جن کی رنگت سانولی ہو گئی ہو یا چہرے پر چھائیاں موجود ہوںوہ اپنے چہرے پر اسٹرابیری کا ماسک لگائیں تو ان کی رنگت نکھر جائے گی۔ایکنی میں بھی فائدہ مند ہے۔
اجزا:
اسٹرابیری تین عدد
جوکا آٹا ایک چھوٹا چمچ
شہد ایک چھوٹا چمچ
عرق گلاب دو بڑے چمچ
ترکیب:
پہلے اسٹرابری کو کچل لیں پھر اس میں جو کا آٹا‘شہد اور عرق گلاب ملاکر آمیزہ بنائیں۔یہ آمیزہ پندرہ منٹ تک چہرے پر لگا رہنے دیں بعدازاں نیم گرم پانی سے چہرہ دھولیں یہ ماسک ہر تین دن بعد استعمال کیا جا سکتا ہے۔٭ ٭

بالوں کا گرنا’ ایک اہم مسئلہ

بال عطیہ خداوندی ہیں
ان کا خیال کیجئے

 

تحریر:حکیم قاضی ایم اے خالد

موجودہ دور میں بالوں کا گرنا بڑی عمر کے افراد کے ساتھ ساتھ نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کا بھی اہم مسئلہ بن گیا ہے تاہم کچن آئٹم پیاز کے ذریعے نہ صرف گرتے بالوں کو روکا جاسکتا ہے بلکہ انہیں وقت سے پہلے سفید ہونے سے بھی بچایا جاسکتا ہے۔امریکن اکیڈمی آف ڈرمیٹولوجی کے مطابق بالوں کا گرنا موروثی بیماری بھی ہوسکتی ہے جسے اینڈروجینیٹک ایلوپیشیا کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ہارمون کے تبدیل ہونے اورمختلف ایلوپیتھک میڈیسنزکے سائیڈ ایفیکٹس کی وجہ سے بھی بال جھڑتے ہیں، تاہم پیاز کے رس سے بال گرنے کے عمل کو روکا جاسکتا ہے۔برطانوی تحقیقی جریدے جرنل” ڈرمیٹولوجی ”میں شائع شدہ ایک تحقیق کے مطابق پیاز کے رس کو بالوں کی جڑوں پر لگائیے، یہ رس بالوں کو دوبارہ اگانے میں مددگار ثابت ہوگا۔امریکی تحقیق کے مطابق اگر پیاز کا رس دن میں دوبار لگایا جائے تو دوہفتوں کے اندر اندر بال دوبارہ اگنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اس بات کا خیال رکھنا بھی بہت ضروری ہے کہ جن لوگوں کو پیاز سے الرجی ہے وہ اپنے سر پر بالوں کا رس نہ لگائیں۔اگر پیاز کی بو بہت زیادہ محسوس ہو تو اس میں تھوڑا سا لیموں کا رس اور عرق گلاب ڈال لیجیے۔


اس کے علاوہ درج ذیل نسخہ انتہائی فائدہ مند ہے۔ہوالشافی :روغن ناریل 50ملی لیٹرروغن بیدانجیر (کیسٹرآئل )50ملی لیٹر اور پیاز کا رس 50ملی لیٹر ملا کر ہلکی آنچ پر پکائیں پیاز کا رس جل جانے پر اتار لیں ۔اس ہوم میڈ نباتاتی تیل کو انگلیوں کی پوروں پر لگا کر تین دن صرف بالوں کی جڑوں میں لگائیں اور نرمی و آہستگی کے ساتھ مساج کریں۔تین دن کے بعد تمام بالوں پر بھی یہ تیل لگایا جا سکتا ہے۔ان شاء اللہ دو ہفتوں میں بال گرنا کم ہو جائیں گے۔یہ تیل اینٹی فنگس اور اینٹی بیکٹریل بھی ہے اس لئے ڈینڈرف میں بھی فائدہ مند ہے۔تازہ پھل اور سبزیوں کا استعمال بالوں کو مضبوط کرتا ہے۔کیلشیم کے حصول کیلئے روزانہ ایک گلاس دودھ بغیر بالائی کے پئیں۔گیلے بالوں میں کنگھا نہ کریں اگر بہت ضروری ہو تو کھلے دندانوں والا برش کریں نائلون کا برش یا کنگھی کبھی بھی استعمال نہ کریں۔

٭…٭…٭

Design a site like this with WordPress.com
شروع کریں