پین مینجمنٹ اور طب یونانی

طب یونانی میں درد کا علاج (Pain Management) کسی عارضی مسکن (Painkiller) کے بجائے درد کی اصل وجہ، اخلاط کے عدم توازن (Humoral Imbalance) اور مزاج کی خرابی کو درست کر کے کیا جاتا ہے۔ یونانی فلسفے کے مطابق درد جسم میں غیر طبعی مادوں کے جمع ہونے یا سردی/گرمی کے غلبے سے پیدا ہوتا ہے۔
یونانی طریقہ علاج میں درد کو دور کرنے کے لیے بنیادی طور پر چار طریقے اختیار کیے جاتے ہیں:

علاج بالتدبیر

(Regimenal Therapy)

یہ وہ جسمانی طریقے ہیں جو بغیر دوا کے خون کی گردش کو بڑھانے اور فاسد مادوں کو خارج کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں:

  • حجامہ (Cupping Therapy): درد والے حصے پر کپ لگا کر گندا خون نکالا جاتا ہے، جو جوڑوں اور پٹھوں کے درد کے لیے انتہائی مفید ہے۔
  • دلک (Massage/مالش): مختلف یونانی تیلوں (جیسے روغنِ بابونہ یا روغنِ زیتون) سے مالش کر کے پٹھوں کی سختی اور درد کو کم کیا جاتا ہے۔
  • تکمید (Fomentation/سکائی): گرم یا سرد اشیاء سے سکائی کر کے سوجن اور درد کا خاتمہ کیا جاتا ہے۔
  • نطول (Irrigation): جڑی بوٹیوں کے جوشاندے کو دھار بنا کر درد یا سوزش والی جگہ پر گرایا جاتا ہے۔

علاج بالدواء

(Pharmacotherapy)

طب یونانی میں جڑی بوٹیوں کو ان کی خصوصیات کے لحاظ سے درد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جنہیں تین بڑی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے:

  • محللِ اورام (سوزش کم کرنے والی ادویات): یہ ادویات درد والی جگہ سے فاسد مادوں کو تحلیل کرتی ہیں۔
  • مثالیں: سرنجان شیریں (جوڑوں کے درد کے لیے سب سے مشہور)، اسگند ناگوری، اور بابونہ۔
  • مسکنات (درد کو پرسکون کرنے والی ادویات): یہ اعصاب کو سکون دے کر درد کا احساس کم کرتی ہیں۔
  • مثالیں: ہلدی (Curcumin)، زنجبیل (ادرک)، اور اجوائن۔
  • مخدرات (بے حس کرنے والی ادویات): شدید درد کی صورت میں عارضی طور پر اعصابی سگنلز کو روکنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
  • مثالیں: تخمِ کاہو یا افیون (صرف معالج کی سخت نگرانی میں)۔

مشہور یونانی مرکبات: حبِ سرنجان، معجون سرنجان، اور مختلف اقسام کے ہربل پین ریلیف یا روغنِ قسط۔

علاج بالغذاء

(Dietotherapy)

درد کے مریضوں کے لیے ایسی غذاؤں کا انتخاب کیا جاتا ہے جو جسم میں سوزش (Inflammation) کو کم کریں:

  • سرد مزاج کے درد (جیسے گٹھیا): ان میں ادرک، لہسن، کالی مرچ اور گرم مصالحہ جات کا استعمال بڑھایا جاتا ہے اور بادی اشیاء (آلو، گوبھی، چاول) سے پرہیز کروایا جاتا ہے۔
  • گرم مزاج کے درد: ان میں ہلکی اور زود ہضم غذا جیسے کدو، ٹینڈے اور مونگ کی دال کا استعمال مفید ہوتا ہے۔

اصلاحِ طرزِ زندگی

(Lifestyle Modification)

مریض کو مناسب آرام، ہلکی ورزش (طبیعی اعضاء کی حرکت) اور ذہنی تناؤ کو کم کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے تاکہ جسم کی قدرتی مدافعت (طبیعتِ مدبرۂ بدن) خود درد کو ٹھیک کر سکے۔


حکیم قاضی ایم اے خالد

شائع کردہ ازHakeem Qazi M.A Khalid

Khandani Tabeeb, Unani Medical Officer, Secretary General Council of Herbal Physicians Pakistan, Journalist, Article Writer Daily NawaiWaqt, Daily Dunya, Blogger.

تبصرہ کریں

Design a site like this with WordPress.com
شروع کریں