ذیابیطس کے مریض اور موٹاپا

آج کے تیز رفتار دور میں غیر متوازن طرزِ زندگی اور غیر صحت بخش غذاؤں کے باعث ذیابیطس (Diabetes) اور موٹاپا (Obesity) دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والے دو بڑے صحت کے مسائل بن چکے ہیں۔ خاص طور پر ٹائپ 2 ذیابیطس اور موٹاپے کا آپس میں اتنا گہرا تعلق ہے کہ طبی ماہرین اب اسے ایک ساتھ ‘ڈائبیسٹی’ (Diabesity) کا نام بھی دینے لگے ہیں۔
اگر آپ ذیابیطس کے مریض ہیں اور آپ کا وزن بھی زیادہ ہے، تو یہ بلاگ پوسٹ آپ کے لیے ہے تاکہ آپ اس تعلق کو سمجھ سکیں اور اپنی صحت کو بہتر بنانے کے لیے عملی قدم اٹھا سکیں۔

موٹاپا اور ذیابیطس کا آپس میں کیا تعلق ہے؟

موٹاپا، خاص طور پر پیٹ کے گرد جمع ہونے والی چربی (Visceral Fat)، جسم میں انسولین کی مزاحمت (Insulin Resistance) کا سب سے بڑا سبب ہے۔
جب جسم میں چربی بڑھتی ہے تو خلیات (Cells) انسولین کے خلاف مزاحمت شروع کر دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں لبلبہ (Pancreas) زیادہ انسولین بناتا ہے، لیکن خلیات اس کا صحیح استعمال نہیں کر پاتے، جس کی وجہ سے خون میں شوگر (گلوکوز) کی سطح خطرناک حد تک بڑھنے لگتی ہے۔

ذیابیطس کے مریضوں میں موٹاپے کے خطرات

اگر ذیابیطس کا مریض موٹاپے کا شکار بھی ہو، تو پیچیدگیوں کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے، جن میں شامل ہیں:

  • دل کی بیماریاں: ہارٹ اٹیک اور فالج کے امکانات میں اضافہ۔
  • ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول: خون کی شریانوں پر دباؤ اور خراب کولیسٹرول کی زیادتی۔
  • گردوں کے امراض: گردوں کے فیل ہونے کا خطرہ (Diabetic Nephropathy)۔
  • اعصابی اور آنکھوں کے مسائل: نسوں کا کمزور ہونا اور بینائی پر اثر پڑنا۔
  • جوڑوں کا درد: زیادہ وزن کی وجہ سے گھٹنوں اور جوڑوں پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔

وزن کم کرنے اور شوگر کو کنٹرول کرنے کے عملی طریقے

اچھی خبر یہ ہے کہ اگر آپ اپنے جسمانی وزن کا صرف 5 سے 10 فیصد بھی کم کر لیں، تو آپ کی شوگر کی سطح نمایاں طور پر بہتر ہو سکتی ہے اور ادویات پر انحصار کم ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے درج ذیل تجاویز پر عمل کریں:
1. متوازن غذا کا انتخاب (Dietary Changes)

  • فائبر کا زیادہ استعمال: اپنی خوراک میں سبزیاں، پھل (جو ڈاکٹر نے تجویز کیے ہوں)، جو اور ثابت اناج شامل کریں۔ فائبر خون میں شوگر کو تیزی سے بڑھنے سے روکتا ہے۔
  • ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس سے پرہیز: سفید آٹا، چینی، بیکری کی اشیاء اور میٹھے مشروبات سے مکمل پرہیز کریں۔
  • پورشن کنٹرول: پلیٹ میں کھانا کم نکالیں اور پیٹ بھرنے سے تھوڑا پہلے کھانا چھوڑ دیں۔ چھوٹی پلیٹوں کا استعمال ایک بہترین نفسیاتی طریقہ ہے۔
    2. باقاعدہ جسمانی سرگرمی (Physical Activity)
    ورزش انسولین کی مزاحمت کو کم کرنے کا بہترین قدرتی طریقہ ہے۔
  • روزانہ کم از کم 30 سے 45 منٹ درمیانی رفتار سے چہل قدمی (Brisk Walk) کریں۔
  • ہلکی پھلکی ورزش یا یوگا کو اپنے معمول کا حصہ بنائیں۔
    3. ادویات کا صحیح استعمال (Medication Management)
    بعض ذیابیطس کی ادویات (جیسے انسولین یا سلفونیل یوریا) وزن بڑھانے کا سبب بن سکتی ہیں۔ اپنے ماہرِ ذیابیطس (Endocrinologist) سے مشورہ کریں، آج کل ایسی جدید ادویات دستیاب ہیں جو شوگر کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ وزن کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
    4. نیند اور تناؤ پر قابو (Sleep and Stress Management)
  • نامکمل نیند اور ذہنی تناؤ (Stress) جسم میں ‘کارٹیسول’ ہارمون کی سطح بڑھاتے ہیں، جو نہ صرف وزن میں اضافے کا باعث بنتا ہے بلکہ شوگر بھی بڑھاتا ہے۔
  • روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی پرسکون نیند لیں۔

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے موٹاپا ایک خاموش قاتل کی طرح ہے، لیکن مستقل مزاجی اور مثبت سوچ کے ساتھ اس پر قابو پانا بالکل ممکن ہے۔ آج ہی سے ایک صحت مند طرزِ زندگی کا آغاز کریں، روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں آپ کی مجموعی صحت پر بہت بڑے اور مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔

حکیم قاضی ایم اے خالد

شائع کردہ ازHakeem Qazi M.A Khalid

Khandani Tabeeb, Unani Medical Officer, Secretary General Council of Herbal Physicians Pakistan, Journalist, Article Writer Daily NawaiWaqt, Daily Dunya, Blogger.

جواب دیں

Design a site like this with WordPress.com
شروع کریں