
انسان روزانہ اوسطاً 70 ہزار خیالات سوچتا ہے۔ بظاہر یہ صرف سوچیں لگتی ہیں، لیکن مائنڈ سائنس اور جدید و قدیم طبی اصول اس بات پر مکمل متفق ہیں کہ ہمارا ہر خیال ہمارے جسم میں ایک باقاعدہ کیمیائی تبدیلی (Chemical reaction) پیدا کرتا ہے۔ سادہ الفاظ میں، ہم جو سوچتے ہیں، ہمارا جسم ویسا ہی محسوس کرنے اور اسی کے مطابق ردِعمل دینے لگتا ہے۔
آئیے مائنڈ سائنس کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ ہمارے مثبت اور منفی خیالات کس طرح ہماری جسمانی صحت، اعصاب اور اندرونی اعضاء کو متاثر کرتے ہیں۔
منفی خیالات اور بیماریاں: ایک خاموش قاتل
جب انسان مسلسل پریشانی، خوف یا منفی خیالات میں گھرا رہتا ہے، تو ہمارا دماغ اسے ایک "خطرے” کے طور پر محسوس کرتا ہے اور فوری طور پر ‘کارٹیسول’ (Cortisol) اور ‘ایڈرینالین’ (Adrenaline) جیسے سٹریس ہارمونز خارج کرنا شروع کر دیتا ہے۔
ان ہارمونز کا مسلسل اخراج جسم میں کئی پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے:
- بلڈ پریشر اور اعصابی تناؤ: شریانیں سکڑنے لگتی ہیں جس سے بلڈ پریشر غیر متوازن ہو جاتا ہے اور اعصاب شدید کھنچاؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
- معدے اور جگر کی کارکردگی پر اثرات: منفی سوچوں کا سب سے زیادہ اور براہِ راست اثر ہمارے نظامِ ہاضمہ اور جگر پر پڑتا ہے۔ سٹریس کی وجہ سے جگر کے افعال سست پڑ جاتے ہیں، فاسد مادوں کے اخراج کا عمل متاثر ہوتا ہے اور معدے میں تیزابیت بڑھ جاتی ہے۔ صحت مند زندگی کے لیے اپنے جگر کا خیال رکھنا اور اسے ذہنی دباؤ کے اثرات سے بچانا بے حد ضروری ہے۔
- جسمانی تھکاوٹ اور درد: مسلز میں مسلسل تناؤ رہنے کی وجہ سے انسان ہر وقت جسمانی تھکاوٹ، کندھوں اور پٹھوں میں درد محسوس کرتا ہے۔
مثبت خیالات اور شفا: جسم کی قدرتی دوا
اس کے برعکس، جب ہم تعمیری، پرامید اور مثبت خیالات سوچتے ہیں تو دماغ میں ایک بالکل مختلف اور شفا بخش کیمیائی عمل شروع ہوتا ہے۔ دماغ ‘ڈوپامین’ (Dopamine) اور ‘سیروٹونن’ (Serotonin) جیسے خوشی اور سکون کے ہارمونز پیدا کرتا ہے۔
یہ کیمیکلز ہمارے جسم کے لیے کسی بہترین اور طاقتور ٹانک سے کم نہیں:
- دلی سکون اور اعصابی مضبوطی: یہ ہارمونز اعصاب کو پرسکون رکھتے ہیں، جس سے بلڈ پریشر قدرتی سطح پر برقرار رہتا ہے اور ذہنی دباؤ ختم ہوتا ہے۔
- قوتِ مدافعت میں اضافہ: پرسکون ذہن جسم کے مدافعتی نظام (Immune System) کو مضبوط بناتا ہے، جس سے جسم بیماریوں کا بہتر اور تیز مقابلہ کر سکتا ہے۔
- قدرتی توانائی (Stamina): مثبت سوچ کی بدولت خلیات کو آکسیجن کی فراہمی بہتر ہوتی ہے، جس سے جسم میں قدرتی توانائی اور سٹیمنا پیدا ہوتا ہے، اور انسان خود کو سارا دن چاق و چوبند محسوس کرتا ہے۔
ذہنی اور جسمانی صحت کا توازن کیسے قائم کریں؟
دن بھر کے ہزاروں خیالات کو روکنا تو ممکن نہیں، لیکن مائنڈ سائنس اور صحت کے قدرتی اصولوں پر عمل کر کے ہم ان کی سمت کو ضرور بہتر بنا سکتے ہیں:
- مائنڈ فلنیس اور مراقبہ: روزانہ کچھ وقت نکال کر گہرے سانس لیں، حال میں جینے کی کوشش کریں اور ذہن کو غیر ضروری اندیشوں سے آزاد کریں۔ اس عمل کا بہترین متبادل پانچ وقت نماز کی ادائیگی ہے۔
- مثبت مصروفیت: ذہن کو تخلیقی کاموں میں مصروف رکھیں تاکہ منفی سوچوں کے لیے جگہ ہی نہ بچے۔
- قدرتی اور ہربل معاونت: اگر اعصابی کھنچاؤ اور ذہنی دباؤ زیادہ محسوس ہو، تو کیمیائی ادویات پر انحصار کرنے کے بجائے خالص قدرتی جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ تحقیق شدہ نسخہ جات کا استعمال کریں، جو اعصاب کو طاقت دینے اور بلڈ پریشر کو نارمل رکھنے میں بہترین مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
آپ کا جسم دراصل آپ کے خیالات کا عکاس ہے۔ اگر آپ اپنی جسمانی صحت کو بہتر بنانا چاہتے ہیں، تو سب سے پہلے اپنی سوچ کی اصلاح کریں۔ تعمیری سوچیں، پرسکون رہیں اور یاد رکھیں کہ ایک صحت مند جسم کی بنیاد ایک صحت مند اور مثبت ذہن میں پوشیدہ ہے۔
حکیم قاضی ایم اے خالد

