
آج کل سوشل میڈیا پر یا روایتی ٹوٹکوں کے نام پر ہرمل (اسپند) کو مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے کھانے کا مشورہ دیا جا رہا ہے، جو کہ انتہائی خطرناک ہے۔
طبی ماہرین اور جدید ریسرچ کے مطابق ہرمل کے بیجوں میں ایسے زہریلے کیمیکلز (Alkaloids) پائے جاتے ہیں جو سیدھے ہمارے اعصابی نظام اور دل پر حملہ کرتے ہیں۔ اسے منہ کے ذریعے پھانکنے یا کھانے سے درج ذیل شدید نقصانات ہو سکتے ہیں:
🧠 1۔ اعصابی اور دماغی نقصانات:
- توہمات (Hallucinations): اسے کھانے سے انسان کو ایسی چیزیں نظر یا سنائی دینے لگتی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
- جسمانی توازن کا بگڑنا (Ataxia): چلنے پھرنے میں شدید دشواری ہوتی ہے اور ہاتھ پاؤں کانپنے لگتے ہیں۔
- بے ہوشی: زیادہ مقدار لینے سے انسان شدید غنودگی کا شکار ہو کر کوما (Coma) میں جا سکتا ہے۔
🫀 2۔ دل اور خون کی گردش پر اثرات: - دل کی دھڑکن خطرناک حد تک سست یا تیز ہو سکتی ہے۔
- بلڈ پریشر اچانک بہت کم یا بہت زیادہ ہو سکتا ہے جو کہ ہارٹ اٹیک یا برین ہیمرج کا باعث بن سکتا ہے۔
🤰 3۔ حاملہ خواتین کے لیے شدید خطرہ: - حاملہ خواتین کے لیے ہرمل کا ایک دانہ بھی زہر ہے۔ یہ رحم میں شدید مروڑ پیدا کر کے حمل ضائع (Abortion) کر دیتا ہے۔
🤢 4۔ معدے، جگر اور گردوں کی خرابی: - اسے کھاتے ہی شدید الٹیاں، متلی اور پیٹ میں درد شروع ہو جاتا ہے۔ جگر کے اینزائمز بگڑ جاتے ہیں اور گردے فیل ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
💊 5۔ ادویات کے ساتھ خطرناک ردِعمل: - اگر آپ ڈپریشن، بلڈ پریشر یا کھانسی کی کوئی دوا استعمال کر رہے ہیں، تو ہرمل کھانے سے وہ دوائیں جسم میں زہر بن جاتی ہیں۔
💡 اہم اور مخلصانہ مشورہ:
ہرمل (اسپند) کو روایتی طور پر صرف گھر میں دھونی دینے (جراثیم اور مچھر بھگانے) یا تیل میں ملا کر صرف جلد پر لگانے کے لیے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ اسے کبھی بھی کسی کے کہنے پر کھائیں یا پھانکیں نہیں۔
⚠️ ایمرجنسی کی صورت میں:
اگر خدانخواستہ آپ نے یا کسی اور نے اسے کھا لیا ہے اور طبیعت خراب ہو رہی ہے، تو گھریلو ٹوٹکوں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے فوراً قریبی ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ سے رجوع کریں۔
اس معلوماتی تحریر کو صدقہ جاریہ سمجھ کر اپنے دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ لازمی شیئر کریں تاکہ کسی کا نقصان نہ ہو۔
حکیم قاضی ایم اے خالد

