
آج کے دور میں موٹاپا (Obesity) صرف ظاہری جسامت کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ بے شمار پیچیدہ اور خطرناک بیماریوں کی جڑ بن چکا ہے۔ پاکستان میں یہ مسئلہ تیزی سے پھیل رہا ہے، اور بچے، جوان، اور بوڑھے سبھی اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ صحت مند اعضاء، خاص طور پر جگر کی کارکردگی پر اس کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے جسم کا قدرتی نظام متاثر ہوتا ہے۔
ایک صحت مند معاشرے کی اور متوازن زندگی کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس خاموش مرض کی وجوہات کو سمجھیں اور بروقت اس کا سدباب کریں۔
موٹاپے کی اہم وجوہات
- غیر متوازن اور غیر صحت بخش غذا: ہماری روزمرہ کی خوراک میں تلی ہوئی اشیاء، بیکری مصنوعات، اور مصنوعی میٹھے کا بے دریغ استعمال موٹاپے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ مریضوں کی غذاؤں کا درست انتخاب نہ ہونا اور قدرتی خوارک (دیسی جڑی بوٹیوں، پھلوں اور سبزیوں) سے دوری جسم میں فاسد مادوں اور چربی بڑھانے کا سبب بنتی ہے۔
- جسمانی سرگرمی کا فقدان (Sedentary Lifestyle): جدید دور کی سہولیات نے جسمانی مشقت کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔ دفتری کاموں میں گھنٹوں بیٹھے رہنا، پیدل چلنے اور ورزش کی عادت نہ ہونے کے باعث غذا توانائی میں تبدیل ہونے کے بجائے چربی کی صورت میں جمع ہونے لگتی ہے۔
- ذہنی دباؤ اور نفسیاتی عوامل (Stress & Emotional Eating): مائنڈ سائنسز اور نفسیات کے نقطہ نظر سے، ذہنی دباؤ، بے چینی، اور ڈپریشن انسان کے کھانے کی عادات کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ جذباتی دباؤ کو کم کرنے کے لیے بے وقت اور غیر صحت بخش غذاؤں کا سہارا لیتے ہیں، جو براہ راست وزن میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔
- نیند کی کمی اور بے ضابطگی: مناسب اور پرسکون نیند نہ لینے سے جسم میں ہارمونز کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ نیند کی کمی سے بھوک بڑھانے والے ہارمونز متحرک ہو جاتے ہیں، جس سے انسان ضرورت سے زیادہ کھا لیتا ہے۔
- موروثی اور ہارمونل مسائل: کچھ افراد میں موٹاپا خاندانی ہوتا ہے، جبکہ تھائیرائیڈ (Thyroid) کی خرابی یا دیگر ہارمونل تبدیلیاں بھی وزن بڑھنے کی وجہ بن سکتی ہیں۔
طب اور مائنڈ سائنسز کی روشنی میں قدرتی حل
موٹاپے سے مستقل نجات کے لیے صرف فاقہ کشی یا کریش ڈائٹنگ کافی نہیں، بلکہ جسم اور ذہن دونوں کی ہم آہنگی اور علاج ضروری ہے:
- مثبت سوچ اور لاشعوری تبدیلی: مائنڈ پروگرامنگ (NLP) اور مثبت سوچ کے ذریعے اپنے لاشعور کو صحت مند طرزِ زندگی کے لیے تیار کریں۔ وزن کم کرنے کے سفر میں ارادے کی پختگی اور ذہنی یکسوئی سب سے اہم ہتھیار ہے۔
- غذا میں اعتدال اور تبدیلی: اپنی خوراک کو فطرت کے قریب لائیں۔ ایسی غذائیں استعمال کریں جو معدے اور جگر کے لیے افادیت رکھتی ہوں۔ تلی ہوئی اور ثقیل غذاؤں کی جگہ متوازن اور زود ہضم کھانوں کا انتخاب کریں۔
- صاف پانی کا استعمال: صاف پانی زندگی ہے۔ دن بھر مناسب مقدار میں پانی پینے سے جسم کے زہریلے مادے خارج ہوتے ہیں اور میٹابولزم تیز ہوتا ہے۔
- مسلسل جسمانی سرگرمی: روزانہ کم از کم 30 سے 40 منٹ کی واک یا ہلکی ورزش کو اپنی روٹین کا لازمی حصہ بنائیں۔
تحریر و پیشکش:
حکیم قاضی ایم اے خالد
ماہرِ طبِ یونانی و مائنڈ سائنسز (تمغہ خدمات طب)
خالد خاندانی دواخانہ (قائم شدہ : 1888)
32 ذیلدار روڈ، اچھرا، لاہور
رابطہ نمبرز: 03034125007 | 03334222129
