
طبِ یونانی (Unani Medicine) میں دمہ، جسے ‘ربو’ بھی کہا جاتا ہے، ایک بلغمی مرض تصور کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ علاج کی بنیاد اخلاط اربعہ (خون، بلغم، صفرا اور سودا) کے توازن پر ہے، اور دمہ اس وقت ہوتا ہے جب پھیپھڑوں اور سانس کی نالیوں میں غیر طبعی بلغم کی زیادتی ہو جائے۔
طبِ یونانی کے مطابق دمہ کی وجوہات اور کیفیت
- بلغم کا اجتماع: پھیپھڑوں کی باریک نالیوں میں گاڑھا اور لیس دار بلغم جمع ہو جاتا ہے جو سانس کی آمد و رفت میں رکاوٹ بنتا ہے۔
- مزاجی کیفیت: دمہ کے مریض کا مزاج عموماً سرد اور تر (Cold & Moist) ہو جاتا ہے، جس سے جسم میں رطوبتیں بڑھ جاتی ہیں۔
- محرکات: نزلہ، زکام، کھانسی کا پرانا ہونا، اور ہاضمے کی خرابی، بارش میں بھیگنا،روم کولر یا اے سی کا بہت زیادہ استعمال دمہ کے حملے کو تیز کر سکتے ہیں۔
یونانی طریقہ علاج کے بنیادی اصول
یونانی اطباء دمہ کا علاج تین سطحوں پر کرتے ہیں:
- اخراجِ بلغم (Expectoration): ایسی ادویات اور غذائیں استعمال کرائی جاتی ہیں جو پھیپھڑوں میں جمے ہوئے بلغم کو پتلا کر کے خارج کریں۔
- تنقیہ (Purification): جسم سے فاسد مادوں کو نکال کر خون کی صفائی کی جاتی ہے تاکہ سوزش کم ہو۔
- غذا اور پرہیز (Dietary Control):
- پرہیز: دودھ، مکھن، کیلا، گھی، اور چکنائی والی اشیاء سے پرہیز کروایا جاتا ہے کیونکہ یہ بلغم میں اضافہ کرتی ہیں۔
- مفید غذائیں: شہد، ادرک، لہسن، اور گرم تاثیر والی جڑی بوٹیاں سانس کی نالیوں کو کھولنے میں مدد دیتی ہیں۔
عام یونانی ادویہ اور جڑی بوٹیاں
- حکیم خالد کا آب پودینہ: دمہ کسی بھی قسم کا ہو آب پودینہ کا ایک چمچ انہیلر کا کام دیتا ہے اور سانس کی روانی کو فوراً بحال کرتا ہے۔
- یونانی دوا لعوق کتاں اور لعوق خیارشنبر بھی فائدہ مند ہیں۔
- جڑی بوٹیاں: ملٹھی، زوفا، اور السی جیسے قدرتی اجزاء پھیپھڑوں کی سوجن دور کرنے اور سانس کی روانی بحال کرنے کے لیے معروف ہیں۔
حکیم قاضی ایم اے خالد

