
یہ جملہ "یونانی میڈیسن: کل بھی، آج بھی اور کل بھی” اس قدیم اور بااعتماد طریقہ علاج (حکمت) کی ابدیت اور افادیت کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔ طبِ یونانی نے تاریخ کے ہر دور میں انسانی صحت کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دیا ہے اور آج کے جدید دور میں بھی یہ اپنی افادیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
اس فلسفے کو تینوں زمانوں کے تناظر میں اس طرح سمجھا جا سکتا ہے:
1۔ کل بھی (شاندار ماضی)
- تاریخی بنیاد: اس نظام کا آغاز قدیم یونان میں بقراط (Hippocrates) اور جالینوس کے نظریات سے ہوا۔
- سنہرا دور: مسلم اطباء جیسے ابنِ سینا (جن کی کتاب ‘القانون فی الطب’ صدیوں تک یورپ میں پڑھائی گئی) اور الرازی نے اسے سائنسی بنیادوں پر ترقی دی۔
- بنیادی نظریہ: یہ علاج چار اخلاط (خون، بلغم، صفرا، سودا) کے توازن اور انسانی مزاج پر مبنی ہے۔
2۔ آج بھی (موجودہ دور کی ضرورت)
- قدرتی شفا: کیمیاوی ادویات (Allopathy) کے مضر اثرات (Side effects) سے بچنے کے لیے دنیا بھر میں لوگ دوبارہ قدرتی جڑی بوٹیوں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔
- متبادل نظام: پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں یہ ‘طبِ مشرق’ یا ‘حکمت’ کے نام سے صحت کے ایک اہم متبادل نظام کے طور پر تسلیم شدہ ہے۔
- دائمی امراض کا علاج: جوڑوں کے درد، معدے کی خرابی، جگر کے مسائل اور اعصابی کمزوری جیسے پیچیدہ امراض میں آج بھی لوگ یونانی ادویات پر مکمل بھروسہ کرتے ہیں۔
3۔ اور کل بھی (مستقبل کی امید)
- ہولیسٹک اپروچ: مستقبل کی دنیا ‘ہولیسٹک ہیلتھ کیئر’ (مجموعی طرزِ زندگی کی بہتری) کی طرف بڑھ رہی ہے، جو طبِ یونانی کا اصل خاصہ ہے۔
- جدید ریسرچ: عالمی ادارہ صحت (WHO) اور مختلف تحقیقی ادارے اب یونانی جڑی بوٹیوں پر جدید سائنسی تحقیق کر رہے ہیں تاکہ نئی محفوظ ادویات بنائی جا سکیں۔
- پائیدار صحت: مستقبل میں بیماریوں سے بچاؤ (Prevention) اور مدافعتی نظام (Immunity) کو مضبوط بنانے کے لیے یونانی اصولِ صحت اور غذا کے ذریعے علاج کو کلیدی اہمیت حاصل رہے گی۔
یقیناً، یونانی طریقہ علاج صرف بیماری کو دبانے کا نام نہیں، بلکہ جسم کو قدرتی طور پر صحت یاب کرنے کا ایک لافانی فلسفہ ہے۔
حکیم قاضی ایم اے خالد
