مائنڈ سائنس اور جنسی زندگی

مائنڈ سائنس (Mind Science) اور جنسی زندگی (Sex) کا آپس میں گہرا اور براہِ راست تعلق ہے کیونکہ انسان کا سب سے بڑا اور اہم جنسی عضو اس کا دماغ ہے۔ انسانی جسم میں شہوت، اٹریکشن اور جنسی تسکین کا پورا عمل اعصابی نظام (Nervous System) اور ذہنی حالت کے تابع ہوتا ہے۔ مائنڈ سائنس کے اصولوں کے مطابق، جب تک انسان ذہنی طور پر پرسکون اور متحرک نہ ہو، وہ ایک صحت مند جنسی زندگی نہیں گزار سکتا۔
جنسی صحت اور کارکردگی پر مائنڈ سائنس درج ذیل طریقوں سے اثر انداز ہوتی ہے:

دماغ بطور مرکزی کنٹرول روم

  • ہارمونز کا اخراج: جنسی ملاپ کی خواہش پیدا ہوتے ہی دماغ کا حصہ ہائپوتھیلیمس (Hypothalamus) متحرک ہوتا ہے۔ یہ جسم میں  ٹیسٹوسٹیرون جیسے ضروری ہارمونز خارج کرتا ہے۔
  • جذبات کا توازن: اگر دماغ میں خوف، اداسی یا غصہ موجود ہو، تو جنسی کارکردگی کو بڑھانے والے سگنلز بلاک ہو جاتے ہیں۔

ذہنی تناؤ (Stress) اور اضطراب (Anxiety) کا اثر

  • پرفارمنس اینگزائٹی: بہت سے مردوں اور عورتوں میں جنسی ملاپ کے دوران "ناکام ہونے کا خوف” پایا جاتا ہے۔ مائنڈ سائنس کے مطابق یہ سوچ کارکردگی کو مزید خراب کر دیتی ہے۔
  • کورٹیسول ہارمون: ذہنی تناؤ کے باعث جسم میں کورٹیسول (Cortisol) ہارمون بڑھ جاتا ہے، جو جنسی خواہش (Libido) کو فوری طور پر کم کر دیتا ہے۔

لاشعور (Subconscious Mind) کا کردار

  • بچپن کے اثرات اور خوف: جنسی مسائل (جیسے عورتوں میں ویجینسمس یا مردوں میں جلدی فارغ ہو جانا) کی جڑیں اکثر لاشعور میں چھپے کسی ماضی کے صدمے یا غلط معلومات پر مبنی ہوتی ہیں۔
  • عقائد اور شرمندگی: اگر کسی فرد نے سیکس کو صرف ایک گناہ یا گندی چیز سمجھا ہو، تو شادی کے بعد بھی اس کا لاشعور اسے اس عمل کا کھل کر لطف اٹھانے نہیں دیتا۔ یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ نکاح جنسی عمل کو پاک کر دیتا ہے نکاح کے بعد اس فعل میں شرمندگی نہیں ہونی چاہئے کہ اخلاق، قانون، مذہب اور معاشرہ جنسی فعل کی مکمل اجازت دیتا ہے۔

مائنڈ سائنس کے ذریعے جنسی زندگی میں بہتری

مائنڈ سائنس کے ماہرین جنسی صحت کو بہتر بنانے کے لیے درج ذیل طریقے تجویز کرتے ہیں:

  • مائنڈفلنس (Mindfulness): جنسی ملاپ کے دوران ماضی یا مستقبل کے خیالات میں گم ہونے کے بجائے مکمل طور پر اس لمحے کے احساسات اور اپنے ساتھی پر توجہ مرکوز کرنا۔
  • میڈیٹیشن (Meditation): روزانہ مراقبہ کرنے سے دماغ پرسکون ہوتا ہے، جس سے جنسی اعضاء کی طرف خون کا بہاؤ بہتر ہوتا ہے۔
  • مثبت خود کلامی (Positive Self-Talk): اپنے جسم اور صلاحیتوں کے بارے میں منفی خیالات کو ختم کر کے خود اعتمادی پیدا کرنا۔
  • تخیل کی طاقت (Visualization): ذہن میں مثبت اور خوشگوار جنسی تجربات کا تصور کرنا، جس سے اعصابی نظام حقیقی زندگی میں بہتر ردعمل دیتا ہے۔

حکیم قاضی ایم اے خالد

شائع کردہ ازHakeem Qazi M.A Khalid

Khandani Tabeeb, Unani Medical Officer, Secretary General Council of Herbal Physicians Pakistan, Journalist, Article Writer Daily NawaiWaqt, Daily Dunya, Blogger.

تبصرہ کریں

Design a site like this with WordPress.com
شروع کریں