خواتین ڈپریشن کا زیادہ شکار ہوتی ہیں

زیادہ تر نفسیاتی امراض موروثی ہوتے ہیں

ماحول اور حالات خصوصاً سیاسی حالات و واقعات بھی نفسیاتی امراض کا باعث بنتے ہیں

قدرتی جڑی بوٹیاں ڈپریشن اور نفسیاتی امراض کودور کرنے میں فائدہ مند ہیں

حکیم قاضی ایم اے خالد
Twitter:qazimakhalid

ملکی سیاسی حالات و واقعات کے باعث اراکین نیشنل اسمبلی خصوصاً حکومتی اراکین اور ان کے عزیز واقارب و خیر خواہوں اور حکومتی پارٹی سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں و عام افراد میں ڈپریشن بڑھ رہا ہے۔ ڈپریشن( یاسیت ) افسردگی کو کہتے ہیں۔اگر اداسی چھائی رہتی ہے، روزانہ کے کام کاج میں دل نہیں لگتا، مایوس ہیں اور خود کو بے چینی، گھبراہٹ یا بے بسی کا شکار محسوس کرتے ہیں معمولی سی بات پر جھنجھلاہٹ طاری ہو جاتی ہے وجہ بے وجہ غصہ آجاتا ہے تو یہ سب ڈپریشن میں مبتلا ہونے کی علامات ہیں۔ دیگرعلامات میں بھوک نہ لگنا، ٹھیک سے نیند نہ آنا، وزن میں کمی ہونا، فیصلہ کرنے میں دشواری محسوس کرنا یا توجہ اور یادداشت میں کمی ہونا شامل ہیں۔ ڈپریشن اگر زیادہ مدت تک رہے تو خطرناک صورتحال اختیار کرسکتا ہے بعض اوقات یہ زندگیوں کے خاتمے کا باعث بھی بن جاتا ہے۔


مردوں کے مقابلے میں خواتین ڈپریشن کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ امریکا کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھNIMHکے ماہرین کا کہنا ہے، ڈپریشن مردوں کے مقابلے میں عورتوں کو زیادہ ہوتا ہے، اس کی وجہ خواتین کے مخصوص بائیولوجیکل، ہارمونل اور سماجی پہلو ہیں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ خواتین میں خاص طورپر پیریڈز، حمل کے دوران اور زچگی کے بعد ہارمونز کا اتار چڑھاؤ زیادہ ہوتا ہے جس سے وہ افسردگی کا شکار ہو جاتی ہیں۔
زیادہ تر نفسیاتی بیماریاں جینیٹک( موروثی )ہوتی ہیں جبکہ اینوائرمنٹ یعنی گرد و پیش کے حالات و ماحول بھی نفسیاتی امراض کا باعث بنتا ہے۔ اگر گھر کے کسی فرد یا رشتہ دار میں سے کوئی ڈپریشن کا شکار رہا ہے تو امکان ہے کہ یہ گھر کے دیگر افراد کو بھی ہوجائے۔ اس کے علاوہ مالی سماجی و سیاسی حالات اور اردگرد کا ناساز ماحول بھی ذہنی تناؤ کا باعث بنتا ہے۔ ایسے لوگ بھی ڈپریشن میں مبتلا ہوتے ہیں جو، دل کے امراض یا کسی اور پچیدہ یادائمی بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔جبکہ ڈپریشن بھی دل کے امراض کا باعث بن سکتا ہے ۔ ڈپریشن کی وجہ سے عام معمولات زندگی بھی متاثر ہوتے ہیں۔

ڈپریشن اور گھریلوعلاج
ڈپریشن سے محفوظ رہنے کے کئی گھریلوطریقے موجود ہیں، جن میں تناؤ کو کم کرنا، ورزش، سانس لینے کی مختلف مشقیں کرنا‘پھلوں ‘سبزیوں‘ مشروبات اورمختلف ہربل ٹیز کا استعمال شامل ہیں۔ اگر ڈپریشن کی نوعیت زیادہ نہیں اور آپ بہت زیادہ مسائل کا شکار نہیں ہیں تو ایسی صورت میں خوراک کا خیال رکھ کر، نیند پوری کرکے اور باقاعدگی سے ورزش کے ذریعے اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ تاہم اگر ڈپریشن اتنا شدید ہو جس سے آپ خود سے کوئی فیصلہ نہ لے سکیں اور روزمرہ کے معمولات بھی متاثر ہوجائیں تو اس کے لیے آپ کو باقاعدہ علاج کروانا لازم ہے۔

ڈپریشن دور کرنے کی تدابیر
اخبارات الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا میں صرف موجودہ سیاسی حالات سے ہی آگہی نہ حاصل کریں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ صحت ‘انٹریٹنمنٹ’اسپورٹس اور دیگر مضامین خبروں اور پروگرامز کی طرف بھی متوجہ رہیں

منفی سوچ کو وقت کا زیاں جان کر اپنے حال پر توجہ دیں، ساتھ ہی اپنی سوچ کو منتشر ہونے سے بچا کر پریشان کن خیالات کو ذہن سے جھٹک دیں۔ ایسی چیزوں سے دور رہیں جن کی وجہ سے آپ کا ذہنی سکون خراب ہوتا ہے ۔ کئی لوگ فکر سے بچنے کے لئے منشیات کا سہارا لیتے ہیں مگر اس کے سہارے دماغ کو طویل عرصے تک کسی طور بھی پرسکون نہیں رکھا جا سکتا۔ اس کے بجائے آپ مختلف کھیلوں اور ذہنی مشقوں کے ذریعے منفی سوچوں کو کمزور سے کمزور کریں اور مذہبی عبادات میں مصروف رہ کر پریشان کرنے والے خیالات سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کیجیے۔
عالمی ادارہ صحت کے سائنسدانوں کی ایک تحقیق کے مطابق ہفتے میں تین مرتبہ ورزش کرنے سے ڈپریشن کے عارضے میں 16فیصد تک کمی آجاتی ہے جبکہ ہفتہ وار ہر اضافی جسمانی ورزش اس بیماری کے امکانات میں مزید کمی کا باعث بنتی ہے۔ ڈپریشن سے چھٹکارا حاصل کرنے کی ایک عام ورزش یہ ہے کہ آپ فرش یا کرسی پر سیدھے بیٹھ جائیں اور اپنی ٹانگیں کراس کرلیں۔ خیال رہے کہ آپ نے ٹیک نہ لگائی ہوا ور آپ کے پائوں فرش پر ٹکے ہوں۔ اب اپنی آنکھیں بند کریں اور اپنے خیالات پر توجہ دیں۔

قدرتی غذائیں اور ڈپریشن
کچھ ایسی قدرتی غذائیں بھی ہیں جو انسان کو ڈپریشن سے بچاتی ہیں۔
سبزیاں اور پھل:
کچی سبزیوں اور پھلوں کا باقاعدہ استعمال ڈپریشن کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ براہ راست انسانی موڈ پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
ہلدی
یہ ڈپریشن کا قدرتی اور فطری علاج ہے۔ دماغ کی سوز ش اور الزائمر جیسی بیماریوں کیلئے بھی ہلدی مفید ہے۔ ہلدی دماغ کی مجموعی صحت کا خیال رکھتی ہے اور دماغ میں آکسیجن کی فراہمی میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ایک گرام ہلدی گرم دودھ میں ملا کر رات سوتے وقت استعمال کریں۔
سویا بین
کسی بھی طرح کے دماغی امراض کے لیے سویا بین کا استعمال کافی مفید ہوتا ہے۔ یہ دماغی توازن کو بہتر اور دماغ کو تیز کرنے کا کام کرتا ہے۔
دہی
تازہ دہی میں موجود بیکٹیریا لیکٹوبیکیلس نہ صرف ہاضمے کے لیے ضروری ہے بلکہ اس سے ڈپریشن بھی دور ہوجاتا ہے۔ یونیورسٹی آف ورجینیا اسکول آف میڈیسن میں کی گئی اس تحقیق کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ڈپریشن کی دوائیں مہنگی اور سائیڈ افیکٹس سے بھرپور ہوتی ہیں لیکن اب وقت آگیا ہے کہ قدرتی غذا دہی کو استعمال کرکے ڈیپریشن کی مرض کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ غذائی عادات بدل کر ہم جادوئی فوائد حاصل کرسکتے ہیں دہی میں موجود پروبایوٹکس جن مفید بیکٹیریا میں اضافہ کرتے ہیں جوکہ ذہنی تناؤ، الجھن اور ڈپریشن کو دور کرسکتے ہیں۔

ڈپریشن اور قدرتی جڑی بوٹیاں
متعدد جڑی بوٹیاں ڈپریشن کودور کرنے میں فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں فی الحال یہاں دو جڑی بوٹیوں کا ذکر کیا جارہا ہے جن میں سے ایک عورتوں کیلئے مفیدہے جبکہ دوسری مردوں کیلئے فائدہ مند ہے۔
بالچھڑ
یہ جڑی بوٹی پنسار کی شاپس سے عام دستیاب ہے خواتین کے ہارمونل اور نان ہارمونل ڈپریشن میں انتہائی موثر ہے۔ایک گرام بالچھڑ ایک کپ پانی میں بوائل کرکے ہربل ٹی بنائیں اور صرف رات سوتے وقت استعمال کریں۔ذائقہ کیلئے چینی یا شہد کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔اس سے بھرپور نیند آ کر ڈپریشن کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔
اسطوخودوس
یہ جڑی بوٹی بھی پنسار شاپس سے عام دستیاب ہے۔مردوں کے بیشتر ذہنی ونفسیاتی امراض میں فائدہ مند ہے۔خصوصاً ڈپریشن میں بھی مفید ہے۔تین گرام اسطوخودوس کو ایک کپ پانی میں بوائل کرکے ہربل ٹی بنائیں‘شہد یا چینی سے میٹھا کریں اور دن میں دو مرتبہ صبح نہار منہ ورات سوتے وقت استعمال کریں۔
٭…٭…٭

ہائی بلڈ پریشر کو قدرتی جڑی بوٹیوں اور گھریلو تدابیر سے بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے

دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد لوگ ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں

حکیم قاضی ایم اے خالد
Twitter:qazimakhalid

عالمی ادار ہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ایک ارب 13 کروڑ سے زائد لوگ ہائی بلڈ پریشر کے مرض کا شکار ہیں جبکہ پاکستان میں ایک سروے کے مطابق تقریباً 52فیصد پاکستانی آبادی ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہے یعنی کم و بیش ہر دوسرا فردہائی بلڈ پریشرمیں مبتلاہے اگرہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول نہ کیا جائے تو امراض قلب اور دماغی امراض خاص طور پرفالج کا خطرہ بڑھ جاتاہے تاہم اچھی خبر یہ ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کو قدرتی جڑی بوٹیوں اور گھریلو تدابیر سے بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
انسانی جسم میں 80ْ/ 120تک بلڈ پریشر نارمل تصور کیا جاتا ہے جب کہ 90 /140تک بلڈ پریشر کا پہنچ جانا خطرے کی علامت ہے۔اگر ایسا ہے تواسے کنٹرول کرنے کی تدابیر اپنانی چاہئیں۔
کسی بھی عمر میں انسان فشار خون قوی یعنی ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہو سکتا ہے، چونکہ کافی عرصہ تک ہائی بلڈ پریشر کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں ،اسی لئے اس مرض کو خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے ۔

ہائی بلڈ پریشر کی علامات

بظاہر اس مرض کی کوئی خاص علامات نہیں ہیں لیکن طبی ماہرین کی تحقیقات و تجربے کی بنیاد پرکچھ علامات کا تعین کیا گیا ہے جو درج ذیل ہیں۔
ناک سے خون کا آنا،سر میں مستقل درد محسوس ہونا،آنکھوں کے آگے چکر آنا اور دھندلا دکھائی دینا،طبیعت میں گھبراہٹ اور بے چینی،نیند کا پرسکون نہ ہونا، بیخوابی کی کیفیت،دل متلانا،چھاتی میں درد کا اٹھنا،سانس کا بار بار پھولناوغیرہ ہائی بلڈ پریشر کی علامات ہو سکتی ہیں۔
مندرجہ بالا میں سے کوئی علامات ظاہر ہورہی ہوں تو بہتر ہے کہ فوری طور پرمعالج سے رجوع کیا جائے او رتجویز کردہ دوا ، غذا اور احتیاط پر مکمل طور پر عمل کیا جائے تاکہ کسی بھی خطرناک صورت حال سے محفوظ رہا جاسکے۔

ہائی بلڈ پریشر کی وجوہات

بہت زیادہ دیر تک گھر یاآفس میں کام کرنایا زیادہ دیرتک بیٹھے رہنا۔کھانوں میں نمک یانمکین غذاؤں کا ضرورت سے زیادہ اور مسلسل استعمال کرنا۔موٹاپا۔نشہ آور اشیا یا نشہ آور ادویات کا استعمال۔ذہنی دبائو، ڈپریشن ، فکر اور پریشانیاں۔ بلڈ پریشر مورثی بھی ہوسکتا ہے اگر خاندان میں کوئی بلڈ پریشر کا مریض ہے تو کسی اور کو بھی یہ مرض لاحق ہوسکتا ہے۔دل، گردوں اور تھائی رائیڈ جیسے پچیدہ امراض بھی ہائی بلڈ پریشر کا سبب بنتے ہیں۔

ہائی بلڈ پریشر اور قدرتی غذائیں

بہت سی قدرتی غذائیں ہائی بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں فائدہ مند ہیں ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔
لہسن:قدرت نے لہسن میں ایسے اجزا محفوظ کردیے ہیں جو ہائی بلڈپریشر کو نہ صرف کنٹرول کرتے ہیں بلکہ اس مرض کے اسباب کا اصل علاج بھی ہے۔ہائی بلڈ پریشر میں صبح نہار لہسن کی ایک پوتھی نگل کریا چبا کر کھانے سے بلڈ پریشر میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔
پیاز:لہسن کی طرح پیاز بھی ہائی بلڈ پریشر کے مرض میں جادوئی اثر دکھاتا ہے۔پیاز اینٹی آکسیڈنٹ مادوں سے بھرپور ہوتا ہے۔پیاز کا کھانوں اور سلاد میں استعمال ہائی بلڈ پریشر کے مریض کے لیے نہایت نفع بخش ہے۔
دارچینی:ویسے تو دار چینی کو گرم مسالے کا جز ہے، لیکن قدرت نے اس میں جو خاصیت رکھی ہے اس پر عقل حیران رہ جاتی ہے کہ جدید عالمی تحقیقات کے مطابق یہ نہ صرف ہائی بلڈ پریشر میں فائدہ مند ہے بلکہ یہ بلڈ کولیسٹرول لیول کو بھی متوازن رکھتی ہے۔
دہی:دہی وہ غذا ہے جو اپنے اندر کیلشیم کی بھرپور طاقت رکھتا ہے۔بلڈ پریشر کی ایک وجہ جسم میں کیلشیم کی کمی کا ہونا بھی ہے۔اس لیے اگر دن میں تین سے چار مرتبہ دہی کا استعمال کیا جائے توہائی بلڈ پریشر جیسے مرض سے بہت حد تک بچا جاسکتا ہے۔
جو کا دلیہ:قدرت نے جو کے دلیے میں بے پناہ طاقت رکھی ہے کسی بھی مرض میں مبتلا شخص اگر بیماری کے بعدیا دوران اس کا استعمال کرے تو کھوئی ہوئی توانائی بحال ہوجاتی ہے۔جو کا دلیہ نہ صرف ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتا ہے بلکہ جسم کو صحت منداور تندرست رکھتاہے۔

ہائی بلڈ پریشر اورقدرتی جڑی بوٹیاں

اسرول (چھوٹی چندن)ہائی بلڈ پریشر کیلئے عالمی تحقیق شدہ جڑی بوٹی ہے۔اسی طرح بالچھڑ خواتین کے بلڈ پریشر میں انتہائی موثر ہے۔ان جڑی بوٹیوں پر مشتمل مجربات حکیم قاضی ایم اے خالد کے دو نسخہ جات ہدیہ قارئین ہیں۔

ہوالشافی :۔

اسرول(چھوٹی چندن)50گرام، کشنیزخشک 50گرام، صندل سفید 50گرام، الائچی سبز25گرام، سفوف بنا کر500ملی گرام کے کیپسول بھرلیں اور صبح وشام ایک ایک کیپسول پانی سے استعمال کریں۔

ہوالشافی :۔

صندل سفید50گرام، الائچی سبز50گرام، بالچھڑ50گرام، سفوف تیار کریں اور 500ملی گرام کے کیپسول بھرلیں۔صبح و شام بعد غذا ایک ایک کیپسول پانی سے استعمال کریں یہ نسخہ خواتین کیلئے زیادہ فائدہ مند ہے۔

احتیاطی تدابیراورحفظ ماتقدم

اگر آپ کا زیادہ تر وقت کسی جگہ بیٹھ کر کام کرنے میں گزرتا ہے تو ایک سے دو گھنٹے بعد اٹھ کر چہل قدمی ضرور کریں۔ورزش کو معمول بنالیں تاکہ جسم میں دوران خون فعال رہے اور ہائی بلڈ پریشر یا کسی اور بیماری کا سامنا نہ ہو۔نشہ آور اشیا اور ادویات کا استعمال فوری طور پر ترک کردیں۔ کھانوں میں نمک کی مقدار کم کرلیں ۔ اگر وزن بڑھنے پر آگیا ہے تو کوشش کریں اسے فوری طور پر کنٹرول کریں۔کھانے میں سبزیوں کا استعمال زیادہ رکھیں۔تازہ پھل اور ان کا تازہ جوس پئیں تاکہ بلڈ پریشر کے علاوہ صحت بھی تندرست اور توانا رہے۔پانی زیادہ سے زیادہ پئیں ، اگر ممکن نہیں تو ایسے پھلوں اور سبزیوں کا انتخاب کریں جو جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرتی ہیں۔سگریٹ نوشی سے جتنا ممکن ہو گریز کریں یہ ہائی بلڈ پریشر کے علاوہ بھی بہت سی امراض کا موجب بنتی ہے۔
چاٹی کی لسی یا کچی لسی کابغیر نمک استعمال بھی تیز بلڈپریشر کو کم کرتا ہے۔ تازہ پانی میں لیموں کا رس نچوڑ کر استعمال کرنا بھی مفید ہے۔ مریض کو اگر قبض ہے تو اس کو دور کرنا ضروری ہے۔ مریض کو مستقل طور پر ایسی غذائیں جن سے خون میں حدت بڑھتی ہے مثلا انڈہ، گوشت، مچھلی، پائے، پراٹھہ، مرغن اورپرتکلف کھانوں سے بچنا ضروری ہے۔ سادہ غذا کدو، ٹینڈے، شلجم، گاجر یا سادہ شوربہ جس میں نمک نہ ہو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
٭…٭…٭

کم پانی پینے سے گردے میں پتھری پیدا ہو سکتی ہے


گردے کی پتھری سے محفوظ رہنے کیلئے ہرگھنٹے بعد پانی کا گلاس پینا چاہئے

حکیم قاضی ایم اے خالد

موسم گرما میں گردے کی پتھری کے مریض خصوصی احتیاط برتیں کیونکہ گرمیوں میں گردوں کی پتھری اور دیگر امراض گردہ میں تیزی سے اضافہ ہوجاتا ہے۔

گرمی میں گردے کے مریضوں کو زیادہ پانی پینا چاہئے تاکہ پیشاب میں پتھری بنانے والے اجزا کو خارج ہونے میں مدد ملتی رہے کیونکہ یہی رسوب دار اجزا کم پانی کی وجہ سے گردے میں جم کر پتھری کی شکل اختیار کرجاتے ہیں۔ صحتمندافراد بھی اگرگرمیوں میں پانی کم استعمال کریں تو انہیں گردے کی پتھری کے مرض کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ یونانی میڈیکل آفیسر قاضی ایم اے خالد کے مطابق گردے کی پتھری سے محفوظ رہنے کیلئے ہر ایک گھنٹے بعد پانی کا گلاس پینا چاہئے جبکہ رات کو بھی سونے سے کم از کم ایک دو گھنٹہ قبل پیٹ بھر کے پانی پینا چاہئے۔ اس کے علاوہ ورزش کے بعد اور کھانے سے پہلے یا درمیان پانی زیادہ پینے سے گردے کے امراض کم لاحق ہوتے ہیں۔معالج کے مشورے سے خربوزہ’تخم خربوزہ اور کھیرے کا استعمال نیز دیگر موسمی پھل اور ان کے جوسزبھی گردے کے امراض میں فائدہ مند ہیں۔

کلونجی آئل اورخالص سرکہ وشہد کا مرکب امراض گردہ خصوصا پتھری اور ریگ گردہ کیلئے موثر ہے لیکن سرکہ سنتھیٹک یعنی مصنوعی نہ ہو ۔گردے کے پچیدہ امراض میں مبتلا افراد پانی کا استعمال اپنے معالج کے مشورہ سے کریں۔
٭…٭…٭

جوڑوں کے درد کی بڑی وجہ یورک ایسڈ ہے

جوڑوں کا دردعام طورپر عمر رسیدہ افراد میں ہوتا ہے لیکن آج کل کم عمر افراد بھی مبتلاہو رہے ہیں

یورک ایسڈ کو قدرتی غذاؤں کے مسلسل استعمال سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے

تحریر:حکیم قاضی ایم اے خالد

Twitter:qazimakhalid

جوڑوں کا دردایک تکلیف دہ مرض ہے جو عموماً عمر رسیدہ افراد میں ہوتا ہے لیکن آج کل یہ کم عمر افراد میں بھی پایا جا رہا ہے۔طب جدید کے مطابق جوڑوں کے درد کی بڑی وجہ یورک ایسڈ ہے ۔یورک ایسڈ ایک تیزابی مادہ ہے جو ہر انسان کے اندر پایا جاتا ہے۔ اس کا اصل کام انسانی جسم میں حرارت پیدا کرنا ہے۔
جو غذائیں جسم میں پیورین purineپیدا کرتی ہیںوہ یورک ایسڈ بناتی ہیں۔ جیسے سرخ گوشت اورسبز پتوں والی ترکاریاں’ اس کے علاوہ بہت زیادہ گرم ادویات کا استعمال، گردوں میں سوزش اور پتھریاں بھی جسم میں یورک ایسڈ کی مقدار بڑھانے کا سبب بنتی ہیں۔
جب یورک ایسڈ پیشاب کے ذریعے معمول کے مطابق باہر نہ نکلے تو یہ جسم کے اندر چھوٹے چھوٹے کرسٹل کی شکل میں جوڑوں میں جمع ہونے لگتا ہے۔ اس کی وجہ سے جوڑ درد کرنے لگتے ہیں اور انسان کا چلنا پھرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

یورک ایسڈ کو کیسے کم کریں

سب سے پہلے تو ایسی غذائیں چھوڑنی پڑیں گی جن میں پیورین کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے۔ کیونکہ یہ غذائیں ہضم ہونے کے بعد جسم میں یورک ایسڈ کی مقدار کو بڑھا دیتی ہیں۔ جیسے بیف ،مٹن، گوبھی، مٹر، ساگ ‘پالک ‘ پھلیاں’ کھمبیاں اور دالیں شامل ہیں۔
اس کے بعد ہمیں اپنی روز مرہ زندگی میں ایسی مفید غذائیں استعمال کرنی چاہیں جس سے یورک ایسڈ کنٹرول ہوجائے جو درج ذیل ہیں۔

سیب کا سرکہ
اس میں میلک ایسڈ ہوتا ہے جو جسم سے یورک ایسڈ کو توڑنے اور نکالنے میں مدد کرتا ہے۔ ایک چائے کا چمچ سیب کا سرکہ اور ایک چٹکی نمک ایک گلاس پانی میں ملا کر پینا مفید ہے۔ دن میں صرف ایک بار استعمال کیا جائے۔ہائی بلڈ پریشر والے افراد بغیر نمک کے استعمال کریں۔ایک ماہ کے استعمال کے بعد یورک ایسڈ کاٹیسٹ کروا لیں انشاء اللہ نارمل ہو جائے گا۔
لیموں
لیموں کے رس میں سٹرک ایسڈ پایا جاتا ہے۔ اس میں موجود وٹامن سی یورک ایسڈ کو فوری کنٹرول کرتا ہے۔آدھا لیموں ایک گلاس نیم گرم پانی میں ملا کر نہار منہ استعمال کریں ۔
اجوائن
اجوائن میں اومیگا 6 فیٹی ایسڈ پایا جاتا ہے جو ہمارے جسم کی صحت کے لیے انتہائی مفید ہیں یہ جہاں نظام انہضام کی صفائی کرتے ہیں وہاں یہ جسم کو یورک ایسڈ سے پاک کرنے میں اکسیر کا درجہ رکھتے ہیں۔آدھی چمچی اجوائن پاؤڈر صبح و شام استعمال کریں۔
ادرک
ادرک کے اندر ایسی خصوصیات موجود ہیں جو جوڑوں کے مسائل کے خاتمے کے لئے بہترین ہیں۔ ادرک کو پیس کے سفوف کی شکل میں آدھی چمچی صبح و شام استعمال کریں یا گرم پانی میں ابال کرچائے کی صورت میںدن میں دو سے تین بار پئیں ۔ اس سے جوڑوں کے در د میں خاطر خواہ کمی آئی گی ۔
ہلدی
ہلدی کسی بھی درد میں ایک دوا کے طور پرکام کرتی ہے۔ جوڑوں کے درد کے مریض اگر500ملی گرام یا چوتھائی چمچی ہلدی کا روزانہ صبح و شام استعمال کریں تو جوڑوں کے درد سے جان چھڑا سکتے ہیں ۔
سبز چائے
دن میں تین کپ سبز چائے آپکے بڑھے ہوے وزن کو بھی کم کر دے گی اور جوڑوں کے درد جیسے مسائل سے بھی چھٹکارا دلا دے گی ۔سبز چائے میں موجود پولی فینول نامی اینٹی آکسائیڈنٹس پٹھوں کی سوجن ختم کرنے کے لئے بھی نہایت موثر ہیں۔
کشمش
کشمش کے ذریعے جوڑوں کے درد کا علاج گزشتہ 20سال سے زور پکڑ رہا ہے کشمش میں شامل سلفائیڈز جوڑوں کے درد کا قدرتی اور آسان علاج ہے۔
دیگر مفیدغذائیں
تازہ پھلوں و سبزیوں، گندم ‘جو اور دیگر اجناس، زیتون کا تیل، خشک میوہ جات کو اپنی غذا کا حصہ بنائیں یہ غذائیں جوڑوں کے درد میں کمی لاتی ہیں۔
پرہیز
ہر قسم کا گوشت پالک، اچار۔ٹماٹر، انڈے،چنے کی دال،چاول۔ ان تمام چیزوں کا سختی سے پرہیز کریں، کیونکہ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔
٭…٭…٭

عناصر اربعہ


▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ ►
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے انہی اجزاء کا پریشاں ہونا
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ ►

حکماۓ تقدم زمانی کے نظریات کے مطابق ارکان بسیط ہی انسانی جسم کے بنیادی اجزاء ہوا کرتے ہیں اور انکو اسی وجہ سے حکماء نے اجزاء اولیہ بھی کہا ہے۔مرض اور صحت انہی پر منحصر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ طب یونانی طب مشرقی و اسلامی کے یہ عناصر چار ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آگ (النار) — گرم و خشک ہے۔ جدید سائنس کی تشریح کے
مطابق اسکو خلیات میں بننے والی توانائی "اے ٹی پی” تصور کیا جاسکتا ہے۔
ہوا — گرم و تر ہے۔ جدید تحقیقات کے مطابق اسکو عمل تنفس میں تبادلہ پانے والی ہوائیں تصور کیا جاسکتا ہے۔
پانی (الماء) — سرد و تر ہے۔ جدید تحقیقات کے مطابق خون کا پلازمہ، بین الخلیاتی مائع اور لمف تصور کیا جاسکتا ہے۔
مٹی (الارض) — سرد و خشک ہے۔ جدید تحقیقات میں اس کا کوئی تصور نہیں، لیکن اگر حیاتی کیمیاء کے تحت دیکھا جاۓ تو اسکو معدنیات کا متبادل کہا جاسکتا ہے

عناصر اربعہ قدیم طبی نظریہ تھا جسے اجتہاد طب سے سلجھایا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جدید طبی تحقیقات کے مطابق ایلیمنٹس یعنی عناصر کی تعداد ایک سو اٹھارہ تک پہنچ چکی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔عصر حاضر کے اطباء کے مطابق عناصر کا قدیم نظریہ درست ہے لیکن یہ تقسیم عددی نہیں بلکہ صفاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی عناصر کی تعداد خواہ کتنی ہی کیوں نہ ہو با لحاظ صفات انہیں مندرجہ بالا چار اجناس میں ہی تقسیم کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حکیم قاضی ایم اے خالد

ہم 21دسمبر کو طب یونانی کا قومی دن کیوں مناتے ہیں

ملک بھر میں ہر سال طب یونانی کا قومی دن اکیس دسمبر کو طبی جوش و جذبہ کے ساتھ منایا جاتا ہے۔اس موقع پر سیمینارز’نمائشوں اور فری طبی کیمپس کاانعقاد کیا جاتا ہے۔کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد کی کاوشوں سے یہ دن قومی طبی کونسل وفاقی وزارت صحت حکومت پاکستان نے باقاعدہ طور پر منظور کیا۔

طب یونانی کے قومی دن اکیس دسمبر کی تاریخی حیثیت

21۔دسمبر 1978ء کا دن اطبائے پاکستان اور طب یونانی اسلامی نیز اس سے تعلق رکھنے والے ہر فردکےلئے انتہائی اہم اور تاریخ ساز دن تھااس دن محسنِ طب اسلامی صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نےآل پاکستان طبی کانفرنس بلوا کرطب اسلامی کو باقاعدہ سرکاری طور پر تسلیم کیا اور اس سلسلے میں مراعات و سرکاری طبی اداروں اور عہدوں کا قیام عمل میں لایا گیا ۔فیڈرل گورنمنٹ میں طب کی وزارت قائم کی گئی۔مشیر طب کی تقرری کا فیصلہ کیا گیا اوریہ عہدہ شہید پاکستان حکیم محمد سعید کو تفویض کیا گیا ۔
یہ دن تجدید عہد کے دن کے طور پر ہر سال منایا جاتا ہے۔یہ بات بھی درست ہے کہ موجودہ صدی طب یونانی کی صدی ہے اور اس کا ہر سال طب یونانی کا سال ہے ۔

اسطوخودوس ذہنی امراض میں انتہائی مفید ہے:حکیم قاضی ایم اے خالد

 پاکستان میں چونتیس فیصد افراد ذہنی مریض ہیں 

لاہور:وطن عزیز میں چونتیس فیصد افراد مختلف ذہنی امراض میں مبتلاء ہیں۔ اسطوخودوس جسے انگلش میں لیونڈر کہا جاتا ہے ‘کی خوشبو سونگھنے سے اعصاب کو سکون حاصل ہوکرڈیپریشن( ذہنی تناؤ) کم کرنے میں مدد ملتی ہے علاوہ ازیں اسطوخودوس دیگر ذہنی امراض میں بھی فائدہ مند ہے اس امر کا اظہارمرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے ورلڈ مینٹل ڈے کے حوالہ سے الیکٹرانک وپرنٹ میڈیا سے گفتگو کے دوران کیاانہوں نے کہا کہ جاپان کی کاگوشیما یونیورسٹی کے ماہرین کی جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بنفشی رنگت کی اس جادوئی بوٹی کی خوشبو کو نیند کی گولیوں کی جگہ استعمال کرسکتے ہیں اور اس کے کوئی منفی اثرات بھی نہیں ہوتے۔ اسی بنا پر دن میں ایک سے دو مرتبہ لیونڈر سونگھنے سے موڈ بہتر رہتا ہے۔سرجری کے بعد درد سے کراہتے مریضوں کی تکلیف بھی اس کی خوشبو سونگھنے سے کم ہوجاتی ہے۔ لیونڈر کے اہم مرکب لینا لول کی خوشبو کواس تحقیق میں چوہوں پر آزمایا اور اسے بہت مفید پایا ہے۔ دنیا بھر کے بیشتر ممالک میں ایک عرصے سے یہ خوشبو قدرتی سکون آور
Natural Tranquilizer 
 تصور کی جاتی ہے ۔لیونڈر کی خوشبو سونگھنے سے بہت فائدہ ہوتا ہے اور کچھ دیر میں دماغ ہلکا ہوجاتا ہے۔ اسی لیے سوتے وقت بھی لیونڈر کی خوشبو سونگھنا بہت مفید ہے جس سے بے چینی، الجھن اور ذہنی تناؤ رفع ہوتا ہے۔اسطوخودوس کی ہربل ٹی درد سر’شقیقہ (مائیگرین)اور دیگر دماغی امراض میں صدیوں سے طب یونانی طریق علاج میں مستعمل ہے ۔جس کی جدید سائنس نے بھی تصدیق کر دی ہے۔
 ٭…٭…٭

سیب:ایک کرشماتی صحت بخش پھل

ایک سیب روزانہ‘ رکھے تندرست و توانا

دماغی کام کرنے والوں کیلئے سیب ایک موثر غذائی ٹانک ہے

حکیم قاضی ایم اے خالد
Gmail:qazimakhalid
Twitter:qazimakhalid

ایک مشہور انگریزی کہاوت ہے کہ An apple a day keeps the doctor away یعنی روزانہ کا ایک سیب آپ کو ڈاکٹر سے دور رکھتا ہے۔ اس کہاوت سے سیب کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔ سیب کی تمام خصوصیات کے حصول کیلئے اسے آہستہ آہستہ چبانا چاہئے۔ایسا اس لئے ضروری ہے کیونکہ یہ پھل ہمارے گیسٹرک گلینڈز کو سرگرم کرتا ہے جس سے ہاضمے کا نظام آسان ہو جاتاہے۔ اس میں موجود سیلولوز کی وجہ سے یہ آنتوں کے عمل کو مضبوط بنانے میں معاون ہوتا ہے چونکہ اس میں ٹینن زیادہ مقدار میں ہوتا ہے۔ اس لئے یہ امراض امعاء میں فائدہ دیتا ہے۔ وافر فائبر کی بدولت چھاتی ‘قولون اور ہمہ اقسام کے کینسرسے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

غذائی حقیقت(Nutrition Facts)
سیب میں پائے جانے والے اہم غذائی اجزامیں گھلنے والے فائبر(پیکٹن)کرومیم اور گلوسیٹول شامل ہیں۔ ان میں پولی فنولز (اینٹی بیکٹیریل)اور گلوٹاتھیون (اینٹی رسٹ اور اینٹی کرسنوجینک)موجود ہیں۔ علاوہ ازیں وٹا من اے ‘وٹامن سی ‘کیلشیم ‘آئرن ‘گلوکوز اور فروکٹور کی اعلیٰ مقدار کی وجہ سے سیب توانائی کا بہترین ذریعہ ہے۔

فوائد
٭دماغی طاقت کیلئے :دماغی کام کرنے والوں کیلئے سیب ایک موثر غذائی ٹانک ہے کیونکہ اس سے قوت حافظہ بڑہتی ہے۔یہ طلبہ اور دماغی کام کرنے والوں کیلئے ایک لا جواب تحفہ ہے۔سیب دماغی مرض الزائمر سے بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔

٭سرطان خصوصاً پھیپھڑوں کے سرطان سے تحفظ کیلئے :سیب کا استعمال پھیپھڑوں کے سرطان سے محفوظ رکھتا ہے۔ اسے زیادہ مقدار میں استعمال کرنے والے مرد اور خواتین سیب نہ کھانے والوں کے مقابلے میں پھیپھڑوں کے سرطان سے پچاس فیصد زیادہ محفوظ پائے گئے۔سیب میں موجود اس جز کی بھی حال ہی میں شناخت ہو گئی ہے جس نے پھیپھڑوں کے سرطان سے تحفظ فراہم کیا’یہ جزو ایک فلیوونائیڈہے جسے کوئریسی ٹین (Quercetin)کانام دیا گیا ہے۔اس میں مانع تکسیدصلاحیت خوب ترہوتی ہے۔سرطان سے دلچسپی رکھنے والے معالج اور افراد یہ بات تو جانتے ہی ہوں گے کہ مانع تکسید اجزا جسم کو امراض پیدا کرنے والے مضرفری ریڈیکلز سے محفوظ رکھتے ہیں۔
٭انسٹیٹوٹ آف فوڈ ریسرچ کی تحقیق کے مطابق سیب اور گرین ٹی میں ایسے قدرتی کیمیکلز موجود ہوتے ہیں جو جسم کو سنگین طبی مسائل جیسے امراض قلب اور کینسر وغیرہ سے تحفظ دیتے ہیں۔ جب ان دونوں کو اکھٹے استعمال کیا جاتا ہے تو ان میں موجود قدرتی اینٹی آکسائیڈنٹس وی ای جی ایف نامی مالیکیول کو بلاک کرتے ہیں جو خون کی شریانوں میں چربی کو جمع نہ ہونے دینے والے عمل کو بڑھاتا ہے ، خیال رہے کہ شریانوں میں چربی جمنے سے دل کے دورے یا فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں غذائیں خون میں نائٹرک آکسائیڈ کی مقدار بھی بڑھا دیتی ہیں جس سے شریانوں کو پھیلنے میں مدد ملتی ہے اور اس کو ہونے والے نقصان کی روک تھام ہوجاتی ہے۔
٭دمہ اور امراض تنفس کیلئے :ہفتہ میں پانچ سیب کھانے والے سانس کی بیماریوں اور دمہ سے محفوظ رہتے ہیں۔
٭کھانسی کیلئے:ایک پکا ہوا سیب کوٹ لیں یا اسکا رس نکال لیں۔کوٹے ہوئے سیب کا رس نکال کر مصری ملائیں اور صبح ناشتے سے پہلے مریض کو پلائیں ان شاء اللہ کھانسی ختم ہو جائے گی۔
٭ صحت مند دل کیلئے :ایک وسیع تحقیق کے مطابق سیب اعلیٰ فائبرپر مشتمل ہے ۔ اعلیٰ فائبر کا زیادہ استعمال کولیسٹرول کو کم کرتا ہے دل کی شریانوں کی بیماری میں مبتلا ہونے سے روکتا ہے۔سیب میں فینولک کمپاؤنڈ پایا جاتا ہے ۔ جو برے کولیسٹرول کو بڑھنے سے روکتا ہے۔
٭گردے اور پتے کی پتھری کیلئے :سیب گردے اور پتے کی پتھری کے اخراج میں معاون ہے۔
٭وزن کم کرنے کیلئے :برازیل میں کئے گئے ایک مطالعہ کے مطابق کھانے سے قبل سیب کا استعمال خواتین میں وزن کم کرنے کا باعث بنتا ہے ایک سیب میں پچاس سے اسی کیلوریز پائی جاتی ہیں ۔
٭ورم قولون (کولائٹس) کے لئے : ایک گلاس سیب کے جو س کو آدھا گلاس گاجر کے جوس کے ساتھ مکس کر کے اس کا استعمال کریں۔
٭ قبض کے لئے : ایک سیب رات کو اور ایک صبح نہار کھایا جائے ۔

٭ ڈائیریا کے لئے : ایک پکے ہوئے سیب کو کدو کش کریں اور ماحولیاتی درجہ حرارت میں اس وقت تک چھوڑ دیں جب تک یہپوری طرح گہرے رنگ کا نہ ہو جائے اس کے بعد استعمال کریں۔سیب آکسیڈائزڈپیکٹن ڈائیریا سے نجات دلاتا ہے۔
٭ منہ کے چھالوں سے تحفظ کیلئے: کھانے کے بعد سبز سیب کے 2یا3ٹکڑے بچوں کو دیں جن سے منہ کے چھالوںکا امکان کم ہوتا ہے۔
٭ورم مثانہ کے لئے : ایک سیب چھیلیں اس میں سے بیج نکال دیں اور اسے گول سلائس میں کاٹیں ۔ انہیں آدھا لٹر پانی میں 20منٹ کے لئے پکائیں، پھر اس پانی کو فلٹر کریں، اس میں ایک چمچ شہد اور تھوڑا سا چھانا ہوا گودا ملائیں روزانہ 2کپ کا استعمال کریں۔
٭ گنٹھیا، ہاضمے کے نظام اور قبض کے لئے سیب کا پانی:ایک بڑے سیب کو چھیل کر پتلے سلائس میں کاٹیں ۔ 10گرا م پودینے کے پتے ، آدھا کپ لیموں کا رس اور چٹکی بھر دار چینی اس میں ملائیں۔ اس میں 2چمچ شہد اور آدھا لٹر ابلا ہوا پانی ڈالیں۔ فلٹر کر کے اس محلول کا روزانہ کھانے کے بعد استعمال کریں۔ اس میں پیکٹین کی بھر پور مقدار ہوتی ہے۔ اس لئے یہ کولیسٹرول کی سطح کم کرنے میں معاون ہوتا ہے۔
٭مسوڑھوں کی امراض کیلئے :صبح ناشتے سے پہلے ایک سیب کا استعمال کرنے سے آپ کے دانتوں اور مسوڑھوں کو طاقت ملتی ہے۔ اگر آپ کے مسوڑھوں سے خون بہہ رہا ہو تو 1.05اونس بار لے فلور میں چٹکی بھر نمک اور سیب کا جوس ملا ئیں۔ دن میں ایک بار اس مکسچر سے اپنے دانتوں پر برش ضرور رکریں۔
٭سیب ایک بہترین ڈی ٹاکسن (مضر اثرات دور کرنے والا):ہم مستقل طور پر زہر کھا رہے ہیں جنک فوڈ اور کولڈرنکس کی شکل میں، ہمارا جگر اس کا ذمہ دار ہے کہ جسم سے مضرات کا اخراج کرے ۔ سیب آپ کے جگر کیلئے تمام زہریلے مادوں سے پاک رکھنے میں ایک بہترین معاون کے طور پر کام کرتا ہے۔
٭دوپہر کی بے وقت بھوک کی روک تھام کے لیے کھانے کے بعد ایک سیب کھالیں، سیب میں فائبر موجود ہوتا ہے جو جسم میں پانی کو اپنی جانب کھینچ کر ایک جیل تشکیل دیتا ہے جو غذا کے ہضم ہونے کا عمل سست کردیتا ہے، اس سے آپ کو زیادہ دیر تک پیٹ بھرے رہنے کا احساس ہوتا ہے اور بلڈ شوگر لیول میں مستحکم جبکہ انسولین کی حساسیت بہتر ہوتی ہے جبکہ موٹاپے میں بھی فائدہ ہوتا ہے۔
٭بلڈ شوگر کنٹرول کرنے کیلئے:سیب کا سرکہ بلڈ شوگر لیول کو متوازن رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مریضوں پر ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق دو چائے کے چمچ سیب کا سرکہ سونے سے قبل ایک گلاس پانی میں ملا کر پینے سے صبح گلوکوز کی سطح میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
٭سیب کا سرکہ کولیسٹرول متوازن رکھنے میں بہترین ہے۔اس کے استعمال کا طریق کار یہ ہے کہ ڈیڑھ چمچ سرکہ سیب ڈیڑھ لیٹر پانی میں ملا لیں اور تمام دن یہی پانی پئیں ایک ماہ بعد لیپڈ پروفائل کروا لیں ان شا ء اللہ خاطر خواہ فائدہ ہو گا۔

ترکیب مربہ سیب
پانچ کلو سیب لے کر پانی میں ہلکا سا جوش دیں۔نیم پختہ ہونے پرکانٹے سے چوک لیں پھر پانچ کلو چینی کی چاشنی ڈال کر تھوڑی دیر کے لیے آگ پر پکائیں۔قوام گاڑھا ہونے پر آگ سے اتار کرمیں محفوظ کر لیں۔بطور ناشتہ سنہری ورق میں لپیٹ کر استعمال کریں۔سیب کا مربہ دل و دماغ کی تقویت کیلئے انتہائی مفید ہے ۔گھبراہٹ میں فائدہ مند ہے۔مربہ جات بازار سے لینا ہوں توہمیشہ معیاری دواساز اداروں کے بنے ہوئے استعمال کریںغیر معیاری مربہ جات بجائے فائدہ کے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

دلچسپ حقائق
٭دنیا بھر میں سیب کی 7500مختلف اقسام پائی جاتی ہیں۔
٭چین دنیا میں سیب پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اس کی سالانہ پیداوار27507000ٹن ہے۔
٭سکندر اعظم کے قازقستان کے سفر میں 328 قبل مسیح میں سیب کا ذکر ملتا ہے-

مضرات
٭بعض لوگ سیب کھانے کے بعد ریاح اور تبخیر معدہ محسوس کرتے ہیں۔کالی مرچ یا نمک کے ہمراہ سیب استعمال کرنے سے یہ شکائت جاتی رہتی ہے۔ہائی بلڈ پریشر کے مریض اس مسئلہ کیلئے سفید زیرہ پاؤڈر کے ہمرا ہ سیب استعمال کریں۔
٭سیب کے بیج زیادہ مقدار میں عام افراد کیلئے بالعموم اورحاملہ خواتین کیلئے بالخصوص نقصان دہ ہیںیہ متلی ‘قے‘اینزائٹی‘سر درد اور سر چکرانے کا باعث بن سکتے ہیںزیادہ نقصان دہ تب ہو سکتے ہیں جب انہیں چبایا جائے کم مقدار میں نگلے جانے والے بیج نقصان دہ نہیں۔حاملہ خواتین کیلئے جوس بناتے وقت انہیں لازمی نکال دینا چاہئے۔
انتباہ
اچھی قسم کے بعض سیب کی اقسام پر چمکدار اورانہیں تروتازہ رکھنے کیلئے ’’ویکس پالش‘‘ کی جاتی ہے جو مضر صحت ہے اس کے لئے سیب چھلکہ اتار کر کھانا چاہئے۔

٭…٭…٭

کورونا وائرس ‘اور نباتاتی علاج

حکیم قاضی ایم اے خالد
Twitter:qazimakhalid

دنیا بھر میں کورونا وائرس COVID19 پھیل چکا ہے اوراس سے عوام میں خوف جاگزیں ہے لیکن بعض قدرتی غذائیں اور دوائیں ایسی ہیں جو جسم کے قدرتی دفاعی نظام کو مضبوط بنا کر آپ کوکورونا وائرس COVID19 سے بچاتی ہیں اور قوی امید ہے کہ اس سے جسم میں کورونا وائرس سے لڑنے کیخلاف بھی مزاحمت پیدا ہوسکتی ہے۔جسمانی امیون سسٹم ہمہ وقت کئی امراض اور بیماریوں سے مسلسل لڑتا رہتا ہے۔ اسی مناسبت سے عام دستیاب قدرتی غذائیں خاص طور پر پھل اور سبزیاں جسمانی دفاعی نظام کو طاقتور بنا کر آپ کو تندرست رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔قدرتی پھل ہمارے تمام امیون سسٹم کو طاقت دیتے ہیں۔پھلوں میں موجود وٹامن سی خون کے سفید خلیات کی پیداوار بڑھاتا ہے اور ہر طرح کے انفیکشن سے لڑتا ہے۔ کورونا وائرس کے حملے سے وہ لوگ محفوظ ہوتے ہیں جن کا مدافعتی نظام مضبوط ہے۔
ذیل میں جو نباتاتی نسخہ جات درج کئے جا رہے ہیں وہ عام حالات میں بھی کئی امراض سے محفوظ رکھتے ہیں جن میں خاص طور پرہر قسم کا فلو‘ نزلہ و زکام وغیرہ شامل ہیں۔ یہ تمام قدرتی دوائیں آپ کے جسم کوکرونا وائرس سمیت کسی بھی وائرس کے خلاف طاقتور بناتی ہیں۔

قدرتی غذاؤں اور نیچرل ہربزپر مشتمل نباتاتی نسخہ جات

کورونا وائرس سے بچاؤ وعلاج کیلئے قدرتی غذاؤں اور ہربزپر مشتمل ‘مجربات حکیم خالد کے چندنباتاتی نسخہ جات قارئین کیلئے درج ذیل ہیں۔انکی شفایابی کی سائنسی توضیحات دینے سے قاصر ہوں ظاہر ہے یہ فرد واحد کاکام نہیں اداروں کا کام ہے جوحکومت( بلکہ حکومتوں) کی سرپرستی کے بغیر کیسے ممکن العمل ہو سکتا ہے تاہم سالہا سال سے اپنی ’’پریکٹس‘‘ میں کئے گئے کلینیکل ٹرائلز میں انہیںوائرل ڈیزیزخصوصاً کرونا وائرس میںمبتلا مریضوں میں انتہائی شفا بخش پایا ہے۔
٭فلوکرونایا کسی بھی وائرس سے ہو ادرک اورمیتھی کے بیج یعنی میتھرے کی ہربل ٹی انتہائی فائدہ مندہے کئی غیرملکی احباب بھی اس کی افادیت کے قائل ہیں اس کے تیار کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ میتھرے ایک کھانے کا چمچ ایک گلاس پانی میں جوش دیںجب پانی ایک تہائی رہ جائے اتار کر چھان لیں اب اس میںتازہ ادرک کا رس ایک چمچ چائے والااور شہد ایک بڑاچمچ شامل کرلیں یہ ہربل ٹی پینے سے خوب پسینہ آتا ہے’ بخار ٹوٹ جاتا ہے دردیں ختم ہو جاتی ہیں‘سانس کی تنگی دور ہو کرجکڑی ہوئی چھاتی کھل جاتی ہے اور فلو و نمونیہ میں افاقہ ہو جاتا ہے۔
٭ کالی مرچ پاڈرایک چٹکی’دارچینی پاؤڈرتین چٹکی اور شہد ایک بڑاچمچ ملا کر ہربل ٹی بنائیں ۔یہ ٹی بھی نزلہ و زکام ‘گلے کی خراش ‘ملیریا’نمونیااورہرقسم کے فلونیزوائرل ڈیزیز میں بہت فائدہ مند ہے۔

٭ کورونا وائرس ایک وائرل مرض ہے اورطب یونانی کے مطابق اس میں وہ دوائیں استعمال کی جاتی ہیں جن سے جسم میں قوت مدافعت کو بڑھایا جاسکے اور کسی بھی قسم کے جراثیم یا وائرسز کوپنپنے نہ دے آئندہ آنے والی جدید سائنس اسے ’’ہوسٹ ڈائریکٹڈتھراپی ‘‘کا نام دے رہی ہے۔ طب یونانی میں اسی اصول کے مطابق ہر وائرل ڈیزیز کا علاج موجودہے۔ہربل اسلامک سسٹم آف میڈیسن(طب یونانی) میں صدیوں سے استعمال ہونے والی دوا کلونجی پردنیا بھر میں ہزاروں مطالعے اور لاکھوں کلینکل ٹرائلزجاری ہیں۔ کلونجی کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان ہے کہ اس میں موت کے سوا ہر بیماری سے شفا ہے یہ بات جدید تحقیقات نے بھی ثابت کردی ہے۔ ابتک کی گئی تحقیق کے مطابق کلونجی اینٹی وائرل’اینٹی بیکٹیریل’ڈائیریٹک ‘اینل جیسک’برونکوڈائی لیٹر ثابت ہوئی ہے اور کینسر، لیوکیمیا، ایچ آئی وی ایڈز، ذیا بیطس، بلڈ پریشر ہائپر کولیسٹرول ایمیا ‘میٹا بولک ڈیزیززاور جدید وائرل ڈیزیززخاص طور پر کورونا وائرس کے علاج میں انتہائی موثر پائی گئی ہے۔ کورونا وائرسCovid-19کے علاج و حفظ ماتقدم کے حوالہ سے کلونجی ‘دارچینی ہر ایک دوگرام ایک کپ پانی میں جوش دیکرہربل چائے بنا ئیں اورایک چمچ شہد ملا کر صبح د وپہرشام استعمال کریں( صرف کلونجی کی ہربل چائے بھی یہی فوائد رکھتی ہے)۔غذا میں ایک سیب روزانہ نہار منہ کھائیں جبکہ مٹر کا سوپ ہلدی اور کالی مرچ ڈال کر استعمال کریں یہ کورونا وائرس میں مبتلا افرادکے ساتھ ساتھ حفظ ماتقدم کے طور پر بھی فائدہ مند ہے ۔یہ علاج دنیا کے بیشتر مسلم ممالک میں کیا جارہا ہے اور اس کے انتہائی حوصلہ بخش نتائج مل رہے ہیں. فلوریڈا میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق کلونجی کینسر اور لیوکیمیا میں بھی مفیدہے نیز اینٹی کینسرکیمیو تھراپی کے مضراثرات و مضمرات کے ازالہ میں بھی فائدہ مند ثابت ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں کلونجی کے استعمال سے مریضوں کی قوت مدافعت میں زبردست اضافہ دیکھا گیاکلونجی کے مرکب کے استعمال سے ایمیون سسٹم کی کارکردگی میں انتہائی بہتری پیدا ہوجاتی ہے اسی وجہ سے یہ کورونا وائرس میں بھی مفید ثابت ہو رہی ہے ۔ اس حوالہ سے کلونجی پر تازہ ترین تحقیق فیکلٹی آف ٹیکنالوجی’یونیورسٹی آف سائدہ ‘الجیریا میں کی گئی ہے۔عربی میگزین الاثنو الدوائی کیمطابق کلونجی کے تیل سے انسانی دفاعی نظام میں بہتری اورسرطانی زہریلے اثرات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ النباتات الطبی نامی عربی جریدے کیمطابق کلونجی کے تیل کی تاثیر سے متعلق اور خون کے سفید گلوب پر ثیموکینون(وائٹ بلڈ سیلز)کے مجموعہ کے اثرات پر کامیاب تجربہ کیا گیاہے۔جرنل آف مولیکولر بیالوجی رپورٹس میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ کلونجی کورونا وائرس Covid-19میں مفید ثابت ہوئی ہے۔

٭یہ نسخہ بھی مجرب المجرب ہے جو کئی وباؤں میں مفید ثابت ہوا ہے اسے بطور ہربل ٹی صبح و شام استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ بہدانہ تین گرام ‘عناب 7عدد’ سپستاں’گلو’برگ گازبان اورخاکسی ہر ایک 7گرام۔ مرض کی شدت کے پیش نظر افسنتین پاؤڈر کے ڈبل زیرو سائز کیپسول کااضافہ کیا جاسکتا ہے ۔یہ نسخہ انتہائی فائدہ مند ہے کیونکہ اس میں شامل دوائیں تعدیہ کو روکنے والی اور قوت مدافعت کو بڑھانے والی ہیں ۔
٭ہرقسم کے فلو وبخارکے مریض کوتمباکونوشی’کھٹی اشیاء’اچار وغیرہ اور تمام ٹھوس غذاؤں سے حتی الامکان پرہیز لازم ہے۔پھلوں کے جوسز’سبزیوں کے سوپ اور دیگر سیال غذائیں و دوائیں جوشاندہ وغیرہ زیادہ مفید ہیں۔
٭ورزش سے ہمارا مدافعتی نظام خود کو منظم کرکے نئی قوت حاصل کرتا ہے اور کسی بھی مرض میں زیادہ موثر مزاحمت کرتا ہے۔جبکہ وضو‘ نماز’مراقبہ’استغراق یا ذہنی ارتکازسے بھی اعصابی تناؤاور ذہنی دباؤ دور کر کے مدافعتی نظام کوصحتمند و متحرک کیا جا سکتا ہے۔جس سے کورونا وائرس سمیت ہر قسم کی وائرل ڈیزیز سے بچاؤ کیا جا سکتا ہے۔
٭…٭…٭

صحت کی ضامن ‘محبت کی علامت ،اسٹرابیری

حکیم قاضی ایم اے خالد
Twitter:qazimakhalid
امراض نسواں‘ امراض قلب و دیگر امراض میں مفید ہے
ہائی بلڈ پریشر میں اسٹرابیری فائدہ مند ہے
اسٹرابیری دماغ کو طاقت دیکر الزائمر کی مرض دور کرتی ہے

اسڑابیری ایک خوبصورت مگر نازک پھل ہے۔ دیگر پھلوں کے بر عکس اس پھل کا گودا اند ر کی جانب اور بیج باہر کی طرف ہوتا ہے۔ شگفتہ سرخ رنگت اور سر پر سبزپتوں کا تاج لئے‘ دل کی شکل سے مشابہ اسٹرابیری گلاب کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے اسے محبت کی علامت اور صحت کی ضمانت بھی کہا جاتا ہے چھ سو سے زائد اقسام کی اسٹابیریزپاکستان سمیت دنیا بھرمیں آئسکریم، ملک شیک ودیگرمشروبات، میٹھے پکوان اور سلاد کی جان ہے ۔فروری سے جولائی کے دوران تازہ اسٹرابیریز کا بھرپور مزہ لیا جا سکتا ہے۔94فیصد امریکیوں کے ساتھ ساتھ اب( پاکستان میں اس کی وافر کاشت کی وجہ سے )پاکستانیوں کی بھی کثیر تعداد اسٹرابیری استعمال کررہی ہے۔

اٹھارھویں صدی میں پہلی مرتبہ فرانس میں کاشت ہونے والا پھل تقریبا دو صدیوں کے بعد پاکستان میں آیا۔ اور اسے لاہور سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں کاشت کرنے کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔اس وقت پنجاب، خیبر پختون خوا اور سندھ کے متعدد علاقوں میں اس بدیشی پھل کی کاشت کی جاتی ہے۔ اسٹرا بیری کے پودے کی پنیری خیبر پختون خواہ کے ضلع سوات میں تیار کی جاتی ہے۔ پاکستان میں کاشت ہونے والی اقسام میں شینڈلیر (صراحی)، کورونا(گولہ)اور اسٹف ہیں۔ جن کی کئی دہائیوں سے کاشت کی جاتی ہے۔
دریائے راوی پار کرکے شرقپور روڈ پر 10کلومیٹر طے کرنے کے بعد لاہور کے مضافات میں اسٹرابیری کے کھیت نظر آنے شروع ہوجاتے تھے۔ لاہور کے نواح میں پیدا ہونے والی اسٹرابیری کراچی اور اسلام آباد تک جاتی ہے۔

جدید طبی تحقیقات کے مطابق اسٹرابیری کا روزانہ استعمال انسانی جسم کی قوت مدافعت بڑھانے اور صحتمند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔اس میں وٹامن سی کی وافر مقدار پائی جاتی ہے جس سے قوت مدافعت مضبوط ہوتی ہے۔اسٹرابیریز میں موجود مختلف وٹامنز، معدنیات اور زود ہضم ریشے جلد کی شادابی،خلیوں اور مدافعتی نظام کی بہتری کے ساتھ ساتھ دل اور کینسر کی صورت میں مرض کی شدت کم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔اسٹرابیری میں موجود اینٹی آکسیڈینٹس(مانع تکسید اجزا) انسانی جسم میں پائے جانے والے فری ریڈیکلز(مجموعہ ایٹم) کو ختم کرتے ہیںنیزوٹامن سی ‘فولیٹ اور مانع تکسید اجزاسرطان اور رسولی کے خلیات سے لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیںاسی وجہ سے اسٹرابیری کھانے والا کینسر جیسے مہلک مرض کا شکار نہیں ہوتا۔یاد رہے کہ فری ریڈیکلز جسم میں موجود کارآمد سیلز کو ختم کرتے ہیں اور کینسر کا سبب بنتے ہیں۔
اسٹرابیری عارضہ قلب کے مریضوں کے لیے انتہائی مفید پھل ہے اسٹرابیری میں دل کی شریانوں کووسیع کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔اس کے استعمال سے دل کی بیماریوں کے خطرات میںکمی ہوجاتی ہے۔جو دل کی بیماریوں سے بچنا چاہتے ہیں،انھیں چاہیئے کہ وہ اسٹرابری استعمال کریں۔جدید تحقیقات کے مطابق اسٹرابیری ایک ایسا پھل ہے جس میں ایسے قدرتی اجزا پائے جاتے ہیں جو عارضہ قلب و دیگر امراض میں انتہائی مفید ہیں۔

اسٹرابیری میں فائبر( غذائی ریشہ)سیلی کون ،پوٹاشیم،میگنیشیم ،جست ، آئیو ڈین ‘فولک ایسڈ، فلیوونائڈز،فائیٹو کیمیکلز‘وٹامن بی ۲،بی۵،بی۶اورمیگنیزکی کافی مقدار پائی جاتی ہے۔اسٹرابیری جوڑوں کے درد اورگنٹھیا کے مرض میں فائدہ مند ہے۔ امراض چشم میں انتہائی مفید ہے ‘بینائی کے نقائص‘بصری اعصاب کی تقویت ‘آنکھوں کی انفیکشن میںکارآمد ہے ۔اس میں بیس مختلف اجزااینٹی ایجنگ صلاحیت رکھتے ہیں جس کے باعث یہ جھریوںاور بڑھاپے سے بچا کر انسانی جسم کو جوان رکھتی ہے۔اسٹرابیری میں موجود فائٹوکیمیکلزکولیسٹرول لیول کونارمل رکھتے ہیں جبکہ یہ پوٹاشیم اور میگنیشیم کی بدولت ہائی بلڈ پریشرمیں فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔اسٹرابیر ی کھانے سے قوت مدافعت بحال رہتی ہے جس کی وجہ سے نزلہ زکام سمیت بیشتر اقسام کی انفیکشینزسے بدن انسانی محفوظ رہتا ہے۔اسٹرابیری میں موجود فائٹونیوٹرنٹس ‘سوجن یعنی ورم کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیںاسٹرابیری میں ایک معدنی جز بورون پایا جاتا ہے جو خواتین کے جسم میں زنانہ ہارمونز کی سطح بڑھا دیتا ہے جس سے یہ بیشتر نسوانی امراض میں بھی فائدہ مند ہے اس میں موجودفلیونائڈزمزمن امراض ‘سرطان،بلند فشار خون ‘دانتوں کے امراض اور ہڈیوں کی کمزوری میںفائدہ مند ہیں۔اسٹرابیری کھانے سے پیاس کم لگتی ہے اسٹرابیری کا بیرونی استعمال رنگت میں نکھارکے علاوہ ایکنی وچھائیوں کودور کرکے چہرہ خوبصورت بناتاہے۔
تازہ ترین طبی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اسٹرابیری نسیان کے مرض(الزائمر)اور دل کی بیماریاں دور کرنے کے لیے فائدہ مند ہے۔علاوہ ازیں اسٹرابیری کا سرخ رنگ چکنائی کو جلانے کی خاصیت رکھتا ہے۔ تحقیق کے دوران جب حیوانوں کے ایک گروپ کوزیادہ چکنائی کے ساتھ اسٹرابیری دی گئی تو ان کا وزن 24فیصد کم ہوگیا ، لیکن جن حیوانات کو صرف چکنائی کھلائی گئی ، ان کا وزن کم نہیں ہوا۔ اس سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ وہ افراد جواپنا وزن کم کرنا چاہتے ہیں ، انھیں اسٹرابیری کھانی چاہئے۔ اسٹرابیری یادداشت میں اضافہ کرتی ہے جس کی بنا پراس کے استعمال سے یا دداشت میں آٹھ ہفتوں میں اضافہ ممکن ہے۔
اسٹرابیری کھانے سے ہائی بلڈ پریشر اور سوزش ختم ہوجاتی ہے۔ تجربے کے طور پر خواتین کے ایک گروپ کو جب ہر ہفتے 16 یا اس سے کچھ زیادہ اسٹرابیریاں کھلائی گئیں تو ان کا ہائی بلڈپریشر 14فیصد ختم ہوگیا اور سوزش بھی جاتی رہیں۔
طبی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ اگر اسٹرابیری کے خشک ، مگر ٹھنڈے سفوف کو کھایا جائے تو غذائی نالی کا سرطان ختم ہوجاتا ہے۔
اسٹرابیری میںبایوٹن نامی ایک حیاتین بھی ہوتی ہے ، جو بالوں اور ناخنوں کو مضبوط بناتی ہے۔ اس میں مانع تکسیداجزا ANTIOXIDANTS بھی ہوتے ہیں ، جن سے ہماری جلد کھچی رہتی ہے ، ہم جلد بوڑھے نہیں ہوتے اور ہمارے چہرے پر جلد جھریاں بھی نہیں پڑتیں۔ اسٹرابیری میں حیاتین الف ، ج اور ھ (وٹامنز اے ، سی اور ای )ہوتی ہیں ، جن سے وہ خلیے مضبوط ہوجاتے ہیں ، جن کے کم زور ہونے پر جلد بڑھاپا آجاتا ہے۔ اس مسلسل کھانے سے خون میں شامل شکر بھی قابو میں رہتی ہے۔

دن میں تقریبا تین باراسٹرابیری کھانے سے ضعف بصارت کا خطرہ بھی ختم ہوجاتا ہے۔ اسٹرابیری کا رس پینے سے سینے کی جلن ختم ہوجاتی ہے اور شریانوں میں خون کے تھکے نہیں بنتے ‘عموما خراب کولیسٹرول کی وجہ سے تھکے بنتے ہیں۔امریکا کی ٹفٹ یونیورسٹی کی سائنس داں باربرانے تحقیق کرنے کے بعد بتایا ہے کہ اسٹرابیری کھانے سے دماغ پر مثبت اثر پڑتا ہے۔
حالیہ طبی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اسٹرابیری الزائمر( نسیان )کے خلاف ایک اچھا ہتھیار ہے۔ چوں کہ اسٹرابیری سے نئے دماغی خلیے بنتے ہیں ، اس لیے دماغ کو تقویت دیتی ہے۔ اس کے علاوہ دماغ کے زہریلے مادوں کو بھی ختم کرتی ہے۔ایک تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ وہ افراد جن کی عمر 68برس یا اس سے زیادہ ہوتی ہے ،جب وہ اسٹرابیری کا ٹھنڈا سفوف 16ہفتوں تک روزانہ کھاتے ہیں توان کے دماغ میں چستی پیدا ہوجاتی ہے اور ان کی دماغی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔
سخت،چمکدار،گہری سرخ رنگت، درمیانہ سائز اور سر پر پتوں کا تاج تازہ اسٹرابیریز کی نشانیاں ہیں پیلے دھبوں، ہلکی سرخ یا سبزی مائل رنگت کی اسٹرابیریز خریدنا بہتر فیصلہ نہیں ۔ماہرین کے مطابق استعمال کے وقت ہی اسٹرابیریز کو دھونا چاہیے اسٹرابیریز کو ریفریجریٹر میں احتیاط سے رکھنا ضروری ہے ۔
احتیاط :گردے، پتے اور جگر کے پچیدہ امراض کی صورت میں اسٹرابیریز کھانے سے پرہیز کیا جائے۔
ناشتے میں دودھ اور شہد کے ساتھ بنایا گیا اسٹرابیریز کا جوس صحت کیلئے بہت زیادہ مفید ہوتا ہے سلاد اور دہی کے ساتھ بھی اسٹرابیریز کھائی جا سکتی ہیں جبکہ اس کے دیگر چند استعمالات نذر قارئین ہیں۔

مربہ اسٹرابیری

اجزا:
اسٹرابیریز آدھا کلو
چینی آدھا کلو
ترکیب:
اسٹرابیریز کو دھو کر اوپر سے تھوڑا کھرچ لیں۔پھر اسے چینی کے ساتھ رات بھر کے لیے فریج میں رکھ دیں۔اگلے روز اسٹرابیریز کو چولہے پر اتنا پکائیں کہ چینی گھل جائے اور گاڑھا شیرہ بن جائے۔اسٹرابیریز کو ثابت ہی رہنے دیں اور ٹھنڈا کر کے فریز کر لیں۔اسٹرابیری کو محفوظ کرنے کا یہ ایک بہترین طریقہ ہے۔

اسٹرابیری یوگرٹ شیک

اجزا:
دہی ایک کپ
دودھ ایک کپ
اسٹرابیری 8عدد
چینی 3/4 کھانے کے چمچے
برف کٹی ہوئی1/4 کپ
ترکیب:
بلینڈر میں دہی اسٹرابیری دودھ چینی برف ڈال کر بلینڈ کرلیں۔ فریش اسٹرابیری سے گارنشنگ کرکے سرو کریں۔

اسٹرابیری فرنی

اجزا:
پسے ہوئے چاول چار کھانے کے چمچ
دودھ چار کپ
چینی چار کھانے کے چمچ
اسٹرابری آدھا کپ
پسی ہری الائچی آدھا چائے کا چمچ
بادام اور پستے دو کھانے کے چمچ
ترکیب
پسے ہوئے چاولوں کو آدھے گھنٹے کے لیے بھگوئیں اور پھر انھیں تھوڑے پانی کے ساتھ گرائنڈ کر کے پیسٹ بنا لیں۔
اب چار کپ دودھ کو ابال کو اس میں چاولوں کا پیسٹ شامل کر کے پکائیں اور اس دوران چمچہ چلاتے رہیں۔
آمیزہ گاڑھا ہو جائے تو اس میں چار کھانے کے چمچ چینی ڈال کر پانچ منٹ مزید پکائیں اور چولہے سے اتار کر ٹھنڈا کر لیں۔

اسٹرابیری کا ماسک

اسٹرابیری نوش فرمانے کے استعمالات کے ساتھ ساتھ لگانے کابھی ایک نسخہ‘ چلتے چلتے بتاتا چلوں۔وہ خواتین جن کی رنگت سانولی ہو گئی ہو یا چہرے پر چھائیاں موجود ہوںوہ اپنے چہرے پر اسٹرابیری کا ماسک لگائیں تو ان کی رنگت نکھر جائے گی۔ایکنی میں بھی فائدہ مند ہے۔
اجزا:
اسٹرابیری تین عدد
جوکا آٹا ایک چھوٹا چمچ
شہد ایک چھوٹا چمچ
عرق گلاب دو بڑے چمچ
ترکیب:
پہلے اسٹرابری کو کچل لیں پھر اس میں جو کا آٹا‘شہد اور عرق گلاب ملاکر آمیزہ بنائیں۔یہ آمیزہ پندرہ منٹ تک چہرے پر لگا رہنے دیں بعدازاں نیم گرم پانی سے چہرہ دھولیں یہ ماسک ہر تین دن بعد استعمال کیا جا سکتا ہے۔٭ ٭

Design a site like this with WordPress.com
شروع کریں