علم تصور اور لاشعور

علم تصور (قوتِ متخیلہ) اور لاشعور (Unconscious Mind) کا آپس میں گہرا تعلق ہے، جہاں تصور ایک ایسا طاقتور ذریعہ ہے جو انسانی ذہن کی گہرائیوں یعنی لاشعور میں چھپے خیالات، یادوں اور خواہشات کو ابھار کر سطح پر لاتا ہے۔ نفسیات اور روحانیت دونوں میں ان دونوں نظریات کو انسانی شخصیت اور ذہن کی تشکیل کے لیے بنیادی ستون مانا جاتا ہے۔
اس اہم موضوع کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے اسے درج ذیل حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
۱. علم تصور (Imagination / Visualization) کیا ہے؟
تصور سے مراد ذہن میں کسی ایسی چیز کا خاکہ یا تصویر بنانا ہے جو اس وقت مادی طور پر سامنے موجود نہ ہو۔

* قوتِ متخیلہ: یہ انسانی ذہن کی وہ تخلیقی صلاحیت ہے جو ماضی کے تجربات کی مدد سے نئے خیالات جنم دیتی ہے۔
* ذہنی نقشہ: تصور محض سوچ نہیں بلکہ جذبات اور احساسات کا ایک پورا مجموعہ ہوتا ہے جو ذہن پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔
*

۲. لاشعور (Unconscious Mind) کیا ہے؟
مشہور ماہرِ نفسیات سگمنڈ فرائیڈ کی تھیوری کے مطابق، انسانی ذہن کا ایک بہت بڑا حصہ لاشعور پر مشتمل ہوتا ہے، جو عام حالت میں نظر نہیں آتا

* یادوں کا مخزن: اس میں انسان کے بچپن کی یادیں، دبائی گئی خواہشات، خوف اور وہ تمام باتیں محفوظ ہوتی ہیں جو شعور (حاضر دماغی) سے اوجھل ہو جاتی ہیں۔
* خودکار نظام: یہ انسانی رویوں، عادات اور جذباتی فیصلوں کو پسِ پردہ رہ کر کنٹرول کرتا ہے۔

۳. تصور اور لاشعور کا باہمی تعلق
لاشعور الفاظ کی زبان نہیں سمجھتا، بلکہ یہ تصاویر، علامات (Symbols) اور احساسات کی زبان سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علمِ تصور براہِ راست لاشعور پر اثر انداز ہوتا ہے:

* لاشعور کی پروگرامنگ: جب ہم کسی مقصد یا خواہش کا بار بار مثبت تصور کرتے ہیں، تو لاشعور اسے حقیقت ماننے لگتا ہے اور انسان کو اس مقصد کے حصول کے لیے تیار کرتا ہے۔
* خواب اور تصور: رات کو آنے والے خواب دراصل لاشعور کا تصوراتی اظہار ہوتے ہیں، جہاں وہ علامتی زبان میں اپنے جذبات کو ظاہر کرتا ہے۔
* روحانی اور باطنی وسعت: تصوف اور روحانی علوم میں بھی ذکر و تصور کے ذریعے باطن اور لاشعور کی وسعتوں کو بیدار کیا جاتا ہے تاکہ انسان خود کو پہچان سکے۔

۴. ذہن کے تین بنیادی درجات (مختصر موازنہ)
انسانی ذہن کی کارکردگی کو سمجھنے کے لیے ان تینوں حالتوں کا فرق جاننا ضروری ہے:


شعور (Conscious)  موجودہ لمحے کی آگاہی اور فوری فیصلے ۔ ابھی اس تحریر کو پڑھنا شعوری کیفیت ہے۔
تحت الشعور (Subconscious) | وہ معلومات جو تھوڑی سی توجہ سے یاد آ جائیں جیسے اپنے گھر کا پتہ یا فون نمبر یاد کرنا تحت الشعور کی کیفیت ہے
لاشعور (Unconscious) گہرے چھپے ہوئے خوف، جذبات اور مٹائی گئی یادیں ۔ اچانک کسی انجانے خوف کا ابل پڑنا یا کسی پرانی یاد سے خوشی کا احساس ہونا لاشعوری کیفیت ہے۔

قاضی ایم اے خالد

شائع کردہ ازHakeem Qazi M.A Khalid

Khandani Tabeeb, Unani Medical Officer, Secretary General Council of Herbal Physicians Pakistan, Journalist, Article Writer Daily NawaiWaqt, Daily Dunya, Blogger.

تبصرہ کریں

Design a site like this with WordPress.com
شروع کریں