
یونیورسٹی کالج لندن کے تازہ ترین مطالعاتی جائزے میں تحقیق کار ڈاکٹر اینڈریو اسٹیپٹو کے مطابق زندگی کو مطمئین انداز میں ہنسی خوشی گزارنے والے افراد میں بڑھاپے میں جسمانی توانائی میں کمی پیدا ہونے کی شرح انتہائی سست تھی ان کے برعکس دائمی امراض، مثلا امراض قلب، ذیابیطس، جوڑوں کا درد اور پژمردگی میں مبتلا افراد وہ تھے جنھوں نے زندگی میں بہت کم خوش ہونا سیکھا تھا اسی طرح روزمرہ کے کام کرنے میں بھی پژمردہ افراد کو خوش رہنے والے شرکاء کے مقابلے میں زیادہ مشکلات پیش آئیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ”ایسا نہیں ہے کہ خوش رہنے والے لوگوں میں اچھی جسمانی صحت، بہتر طرززندگی یا پھر دولت مند ہونے کی وجہ سے تھی کیونکہ جب ان تمام عوامل کو ساتھ میں رکھ کر نتیجے کو پرکھا گیا تو بھی خوشی اور جسمانی مستعدی کے درمیان مضبوط رشتہ نظر آیا۔
طبی محقق نے کہا کہ ہماری پچھلی تحقیق میں ظاہر کیا گیا تھا کہ زیادہ سے زیادہ زندگی سے لطف اندوز ہونے والوں کی متوقع عمرمیں مزید آٹھ برس تک جینے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے جبکہ تازہ تحقیق اس بات کی وضاحت پیش کرتی ہے کہ خوشی نا صرف زندگی کو کھینچ کر لمبا کر سکتی ہے بلکہ بڑھتی عمر کے باوجود جسمانی مستعدی میں کمی نہیں آنے دیتی ہے یعنی لمبی عمر، اچھی صحت اور جسمانی فٹنس کی کنجی ہے خوش رہنا لہذا خوش رہیں اور فٹ رہیں۔
