ڈینگی بخار میں اینٹی بایوٹکس کا استعمال اموات کی بڑی وجہ ہے

محترم غلام عباس مرزا صاحب کی طرف سے حصول معلومات کےلیے درج ذیل سوال اٹھایا گیا کہ”حکیم صاحب! جب ایلوپیتھی کہتی ہے کہ وائرل بیماریوں کا کوئی خاص علاج موجود نہیں ہے ۔اور وائرس کے متعلق جو بھی معلومات آج تک موجود ہیں وہ میڈیکل سائنس نے ہی اکھٹا کی ہیں۔تو پھر طب یونانی وائرل بیماریوں کے علاج کا کیسے دعوی کر سکتی ہے۔جس کا وائرس پر تحقیق میں کوئی بھی حصہ نہیں؟؟”۔
محترم غلام عباس مرزا کو جواب میسج کے ذریعے ارسال کر دیا ۔۔۔تاہم دیگر احباب کے لئے بھی اسے درج ذیل کیا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔
مرزا صاحب۔۔۔۔۔۔ایلوپیتھک کے کم وبیش بیسیوں پروفیسرز اور ماہرین سے رابطہ رہتا ہے۔۔۔۔۔جس طرح ایلوپیتھک ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ ایلوپیتھک کی اساس طب یونانی ہے۔اسی طرح اس بات کو تسلیم کرنے میں مجھے کوئی عار نہیں کہ ایلوپیتھک سسٹم آف میڈیسن نے کافی ترقی کی ہے اور بیشتر امراض میں ایک اچھا ایمرجنسی طریق علاج ہے۔۔۔۔

یاد رکھنا چاہئیے کہ علم کسی کی میراث نہیں۔۔۔۔۔وائرل ڈیزیزز کی معلومات اکٹھا کرنے والے ان بیشتر امراض کا علاج دریافت کرنے میں اگر ناکام رہے ہیں تو ضروری نہیں کہ دیگر طریق علاج کے ماہرین جو وائرسی معلومات کی تحقیق میں حصہ دار نہ تھے ان معلومات سے مستفید ہوتے ہوئے اپنے طریقہ کے مطابق علاج نہ ڈھونڈیں۔۔۔۔۔۔۔

یاد رکھنا چاہئے کہ وائرل ڈیزیزز نے علم الجراثیم کے پیروکاروں کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔۔۔۔۔اگر وہ وائرس کو ختم کرنے کےلیے اینٹی بایوٹک کا استعمال کرتے ہیں تو میزبان انسانی خلیہ بھی تباہ ہوتا ہے یعنی انسان ہی ختم ہوجاتا ہے۔۔۔۔۔۔اور یہی ہوا جب ڈینگی کے مریضوں کو ناسمجھی میں اینٹی بایوٹک ادویات استعمال کروائی گئیں تو اموات میں یکدم اضافہ شروع ہوگیا۔۔۔۔۔اور پھر وائرس کو ختم کرنے کی بجائے صرف پیراسیٹامول پر اکتفا کیا گیا تو اموات کنٹرول ہوئیں۔۔۔۔۔۔۔۔

یہاں فطری طریق علاج طب یونانی کی راہنمائی کام آئی کہ مدافعتی نظام کے غلبہ کےلئے ایمیون سسٹم کو طاقتور بنایا جائے وائرس خود ہی معدوم ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔مغربی ایلوپیتھک ماہرین بھی اسی نہج پر سوچ رہے ہیں لیکن وطن عزیز میں ایلوپیتھک ڈاکٹر اور حکیم کا باہمی تعصب ہی ختم نہیں ہو رہا۔۔۔۔
۔( میری پریکٹس کے جملہ نسخہ جات اسی کے مطابق ہیں )۔

فطرت کو جھٹلانا اپنے آپ کو جھٹلانا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔طب یونانی فطری طریق علاج ہے۔۔۔۔۔۔اور قدرت کے بنائے ہوئے انسان کو زیادہ سمجھتا ہے۔۔۔۔۔۔۔یہاں غیرقدرتی طریق علاج کے ماہرین بھی جدید تحقیقات اور وقت کی کسوٹی پر پرکھنے کے بعد صدیوں سے رائج معالجات کی تصدیق کر رہے ہیں تمام تر ترقی کے باوجود وائرل ڈیزیزز سمیت بیشتر امراض میں ایلوپیتھک سسٹم آف میڈیسن مکمل طور پر فیل ہو چکا ہے ڈبلیو ایچ او کو بھی اس کا ادراک ہے اور  اس کی طرف سے دنیا بھر کی حکومتوں کو طب یونانی ہربل سسٹم آف میڈیسنز کو بھی ہیلتھ
پراجیکٹس میں شامل کرنے کی ہدائت کی جا چکی ہے
حکیم قاضی ایم اے خالد

شائع کردہ ازHakeem Qazi M.A Khalid

Khandani Tabeeb, Unani Medical Officer, Secretary General Council of Herbal Physicians Pakistan, Medical Jurnalist, Article Writer Daily NawaiWaqt, Daily Dunya, Blogger.

تبصرہ کریں

Design a site like this with WordPress.com
شروع کریں