خواتین ڈپریشن کا زیادہ شکار ہوتی ہیں

زیادہ تر نفسیاتی امراض موروثی ہوتے ہیں

ماحول اور حالات خصوصاً سیاسی حالات و واقعات بھی نفسیاتی امراض کا باعث بنتے ہیں

قدرتی جڑی بوٹیاں ڈپریشن اور نفسیاتی امراض کودور کرنے میں فائدہ مند ہیں

حکیم قاضی ایم اے خالد
Twitter:qazimakhalid

ملکی سیاسی حالات و واقعات کے باعث اراکین نیشنل اسمبلی خصوصاً حکومتی اراکین اور ان کے عزیز واقارب و خیر خواہوں اور حکومتی پارٹی سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں و عام افراد میں ڈپریشن بڑھ رہا ہے۔ ڈپریشن( یاسیت ) افسردگی کو کہتے ہیں۔اگر اداسی چھائی رہتی ہے، روزانہ کے کام کاج میں دل نہیں لگتا، مایوس ہیں اور خود کو بے چینی، گھبراہٹ یا بے بسی کا شکار محسوس کرتے ہیں معمولی سی بات پر جھنجھلاہٹ طاری ہو جاتی ہے وجہ بے وجہ غصہ آجاتا ہے تو یہ سب ڈپریشن میں مبتلا ہونے کی علامات ہیں۔ دیگرعلامات میں بھوک نہ لگنا، ٹھیک سے نیند نہ آنا، وزن میں کمی ہونا، فیصلہ کرنے میں دشواری محسوس کرنا یا توجہ اور یادداشت میں کمی ہونا شامل ہیں۔ ڈپریشن اگر زیادہ مدت تک رہے تو خطرناک صورتحال اختیار کرسکتا ہے بعض اوقات یہ زندگیوں کے خاتمے کا باعث بھی بن جاتا ہے۔


مردوں کے مقابلے میں خواتین ڈپریشن کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ امریکا کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھNIMHکے ماہرین کا کہنا ہے، ڈپریشن مردوں کے مقابلے میں عورتوں کو زیادہ ہوتا ہے، اس کی وجہ خواتین کے مخصوص بائیولوجیکل، ہارمونل اور سماجی پہلو ہیں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ خواتین میں خاص طورپر پیریڈز، حمل کے دوران اور زچگی کے بعد ہارمونز کا اتار چڑھاؤ زیادہ ہوتا ہے جس سے وہ افسردگی کا شکار ہو جاتی ہیں۔
زیادہ تر نفسیاتی بیماریاں جینیٹک( موروثی )ہوتی ہیں جبکہ اینوائرمنٹ یعنی گرد و پیش کے حالات و ماحول بھی نفسیاتی امراض کا باعث بنتا ہے۔ اگر گھر کے کسی فرد یا رشتہ دار میں سے کوئی ڈپریشن کا شکار رہا ہے تو امکان ہے کہ یہ گھر کے دیگر افراد کو بھی ہوجائے۔ اس کے علاوہ مالی سماجی و سیاسی حالات اور اردگرد کا ناساز ماحول بھی ذہنی تناؤ کا باعث بنتا ہے۔ ایسے لوگ بھی ڈپریشن میں مبتلا ہوتے ہیں جو، دل کے امراض یا کسی اور پچیدہ یادائمی بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔جبکہ ڈپریشن بھی دل کے امراض کا باعث بن سکتا ہے ۔ ڈپریشن کی وجہ سے عام معمولات زندگی بھی متاثر ہوتے ہیں۔

ڈپریشن اور گھریلوعلاج
ڈپریشن سے محفوظ رہنے کے کئی گھریلوطریقے موجود ہیں، جن میں تناؤ کو کم کرنا، ورزش، سانس لینے کی مختلف مشقیں کرنا‘پھلوں ‘سبزیوں‘ مشروبات اورمختلف ہربل ٹیز کا استعمال شامل ہیں۔ اگر ڈپریشن کی نوعیت زیادہ نہیں اور آپ بہت زیادہ مسائل کا شکار نہیں ہیں تو ایسی صورت میں خوراک کا خیال رکھ کر، نیند پوری کرکے اور باقاعدگی سے ورزش کے ذریعے اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ تاہم اگر ڈپریشن اتنا شدید ہو جس سے آپ خود سے کوئی فیصلہ نہ لے سکیں اور روزمرہ کے معمولات بھی متاثر ہوجائیں تو اس کے لیے آپ کو باقاعدہ علاج کروانا لازم ہے۔

ڈپریشن دور کرنے کی تدابیر
اخبارات الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا میں صرف موجودہ سیاسی حالات سے ہی آگہی نہ حاصل کریں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ صحت ‘انٹریٹنمنٹ’اسپورٹس اور دیگر مضامین خبروں اور پروگرامز کی طرف بھی متوجہ رہیں

منفی سوچ کو وقت کا زیاں جان کر اپنے حال پر توجہ دیں، ساتھ ہی اپنی سوچ کو منتشر ہونے سے بچا کر پریشان کن خیالات کو ذہن سے جھٹک دیں۔ ایسی چیزوں سے دور رہیں جن کی وجہ سے آپ کا ذہنی سکون خراب ہوتا ہے ۔ کئی لوگ فکر سے بچنے کے لئے منشیات کا سہارا لیتے ہیں مگر اس کے سہارے دماغ کو طویل عرصے تک کسی طور بھی پرسکون نہیں رکھا جا سکتا۔ اس کے بجائے آپ مختلف کھیلوں اور ذہنی مشقوں کے ذریعے منفی سوچوں کو کمزور سے کمزور کریں اور مذہبی عبادات میں مصروف رہ کر پریشان کرنے والے خیالات سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کیجیے۔
عالمی ادارہ صحت کے سائنسدانوں کی ایک تحقیق کے مطابق ہفتے میں تین مرتبہ ورزش کرنے سے ڈپریشن کے عارضے میں 16فیصد تک کمی آجاتی ہے جبکہ ہفتہ وار ہر اضافی جسمانی ورزش اس بیماری کے امکانات میں مزید کمی کا باعث بنتی ہے۔ ڈپریشن سے چھٹکارا حاصل کرنے کی ایک عام ورزش یہ ہے کہ آپ فرش یا کرسی پر سیدھے بیٹھ جائیں اور اپنی ٹانگیں کراس کرلیں۔ خیال رہے کہ آپ نے ٹیک نہ لگائی ہوا ور آپ کے پائوں فرش پر ٹکے ہوں۔ اب اپنی آنکھیں بند کریں اور اپنے خیالات پر توجہ دیں۔

قدرتی غذائیں اور ڈپریشن
کچھ ایسی قدرتی غذائیں بھی ہیں جو انسان کو ڈپریشن سے بچاتی ہیں۔
سبزیاں اور پھل:
کچی سبزیوں اور پھلوں کا باقاعدہ استعمال ڈپریشن کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ براہ راست انسانی موڈ پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
ہلدی
یہ ڈپریشن کا قدرتی اور فطری علاج ہے۔ دماغ کی سوز ش اور الزائمر جیسی بیماریوں کیلئے بھی ہلدی مفید ہے۔ ہلدی دماغ کی مجموعی صحت کا خیال رکھتی ہے اور دماغ میں آکسیجن کی فراہمی میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ایک گرام ہلدی گرم دودھ میں ملا کر رات سوتے وقت استعمال کریں۔
سویا بین
کسی بھی طرح کے دماغی امراض کے لیے سویا بین کا استعمال کافی مفید ہوتا ہے۔ یہ دماغی توازن کو بہتر اور دماغ کو تیز کرنے کا کام کرتا ہے۔
دہی
تازہ دہی میں موجود بیکٹیریا لیکٹوبیکیلس نہ صرف ہاضمے کے لیے ضروری ہے بلکہ اس سے ڈپریشن بھی دور ہوجاتا ہے۔ یونیورسٹی آف ورجینیا اسکول آف میڈیسن میں کی گئی اس تحقیق کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ڈپریشن کی دوائیں مہنگی اور سائیڈ افیکٹس سے بھرپور ہوتی ہیں لیکن اب وقت آگیا ہے کہ قدرتی غذا دہی کو استعمال کرکے ڈیپریشن کی مرض کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ غذائی عادات بدل کر ہم جادوئی فوائد حاصل کرسکتے ہیں دہی میں موجود پروبایوٹکس جن مفید بیکٹیریا میں اضافہ کرتے ہیں جوکہ ذہنی تناؤ، الجھن اور ڈپریشن کو دور کرسکتے ہیں۔

ڈپریشن اور قدرتی جڑی بوٹیاں
متعدد جڑی بوٹیاں ڈپریشن کودور کرنے میں فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں فی الحال یہاں دو جڑی بوٹیوں کا ذکر کیا جارہا ہے جن میں سے ایک عورتوں کیلئے مفیدہے جبکہ دوسری مردوں کیلئے فائدہ مند ہے۔
بالچھڑ
یہ جڑی بوٹی پنسار کی شاپس سے عام دستیاب ہے خواتین کے ہارمونل اور نان ہارمونل ڈپریشن میں انتہائی موثر ہے۔ایک گرام بالچھڑ ایک کپ پانی میں بوائل کرکے ہربل ٹی بنائیں اور صرف رات سوتے وقت استعمال کریں۔ذائقہ کیلئے چینی یا شہد کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔اس سے بھرپور نیند آ کر ڈپریشن کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔
اسطوخودوس
یہ جڑی بوٹی بھی پنسار شاپس سے عام دستیاب ہے۔مردوں کے بیشتر ذہنی ونفسیاتی امراض میں فائدہ مند ہے۔خصوصاً ڈپریشن میں بھی مفید ہے۔تین گرام اسطوخودوس کو ایک کپ پانی میں بوائل کرکے ہربل ٹی بنائیں‘شہد یا چینی سے میٹھا کریں اور دن میں دو مرتبہ صبح نہار منہ ورات سوتے وقت استعمال کریں۔
٭…٭…٭

شائع کردہ ازHakeem Qazi M.A Khalid

Khandani Tabeeb, Unani Medical Officer, Secretary General Council of Herbal Physicians Pakistan, Medical Jurnalist, Article Writer Daily NawaiWaqt, Daily Dunya, Blogger.

تبصرہ کریں

Design a site like this with WordPress.com
شروع کریں