ہائی بلڈ پریشر کو قدرتی جڑی بوٹیوں اور گھریلو تدابیر سے بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے

دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد لوگ ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں

حکیم قاضی ایم اے خالد
Twitter:qazimakhalid

عالمی ادار ہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ایک ارب 13 کروڑ سے زائد لوگ ہائی بلڈ پریشر کے مرض کا شکار ہیں جبکہ پاکستان میں ایک سروے کے مطابق تقریباً 52فیصد پاکستانی آبادی ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہے یعنی کم و بیش ہر دوسرا فردہائی بلڈ پریشرمیں مبتلاہے اگرہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول نہ کیا جائے تو امراض قلب اور دماغی امراض خاص طور پرفالج کا خطرہ بڑھ جاتاہے تاہم اچھی خبر یہ ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کو قدرتی جڑی بوٹیوں اور گھریلو تدابیر سے بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
انسانی جسم میں 80ْ/ 120تک بلڈ پریشر نارمل تصور کیا جاتا ہے جب کہ 90 /140تک بلڈ پریشر کا پہنچ جانا خطرے کی علامت ہے۔اگر ایسا ہے تواسے کنٹرول کرنے کی تدابیر اپنانی چاہئیں۔
کسی بھی عمر میں انسان فشار خون قوی یعنی ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہو سکتا ہے، چونکہ کافی عرصہ تک ہائی بلڈ پریشر کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں ،اسی لئے اس مرض کو خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے ۔

ہائی بلڈ پریشر کی علامات

بظاہر اس مرض کی کوئی خاص علامات نہیں ہیں لیکن طبی ماہرین کی تحقیقات و تجربے کی بنیاد پرکچھ علامات کا تعین کیا گیا ہے جو درج ذیل ہیں۔
ناک سے خون کا آنا،سر میں مستقل درد محسوس ہونا،آنکھوں کے آگے چکر آنا اور دھندلا دکھائی دینا،طبیعت میں گھبراہٹ اور بے چینی،نیند کا پرسکون نہ ہونا، بیخوابی کی کیفیت،دل متلانا،چھاتی میں درد کا اٹھنا،سانس کا بار بار پھولناوغیرہ ہائی بلڈ پریشر کی علامات ہو سکتی ہیں۔
مندرجہ بالا میں سے کوئی علامات ظاہر ہورہی ہوں تو بہتر ہے کہ فوری طور پرمعالج سے رجوع کیا جائے او رتجویز کردہ دوا ، غذا اور احتیاط پر مکمل طور پر عمل کیا جائے تاکہ کسی بھی خطرناک صورت حال سے محفوظ رہا جاسکے۔

ہائی بلڈ پریشر کی وجوہات

بہت زیادہ دیر تک گھر یاآفس میں کام کرنایا زیادہ دیرتک بیٹھے رہنا۔کھانوں میں نمک یانمکین غذاؤں کا ضرورت سے زیادہ اور مسلسل استعمال کرنا۔موٹاپا۔نشہ آور اشیا یا نشہ آور ادویات کا استعمال۔ذہنی دبائو، ڈپریشن ، فکر اور پریشانیاں۔ بلڈ پریشر مورثی بھی ہوسکتا ہے اگر خاندان میں کوئی بلڈ پریشر کا مریض ہے تو کسی اور کو بھی یہ مرض لاحق ہوسکتا ہے۔دل، گردوں اور تھائی رائیڈ جیسے پچیدہ امراض بھی ہائی بلڈ پریشر کا سبب بنتے ہیں۔

ہائی بلڈ پریشر اور قدرتی غذائیں

بہت سی قدرتی غذائیں ہائی بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں فائدہ مند ہیں ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔
لہسن:قدرت نے لہسن میں ایسے اجزا محفوظ کردیے ہیں جو ہائی بلڈپریشر کو نہ صرف کنٹرول کرتے ہیں بلکہ اس مرض کے اسباب کا اصل علاج بھی ہے۔ہائی بلڈ پریشر میں صبح نہار لہسن کی ایک پوتھی نگل کریا چبا کر کھانے سے بلڈ پریشر میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔
پیاز:لہسن کی طرح پیاز بھی ہائی بلڈ پریشر کے مرض میں جادوئی اثر دکھاتا ہے۔پیاز اینٹی آکسیڈنٹ مادوں سے بھرپور ہوتا ہے۔پیاز کا کھانوں اور سلاد میں استعمال ہائی بلڈ پریشر کے مریض کے لیے نہایت نفع بخش ہے۔
دارچینی:ویسے تو دار چینی کو گرم مسالے کا جز ہے، لیکن قدرت نے اس میں جو خاصیت رکھی ہے اس پر عقل حیران رہ جاتی ہے کہ جدید عالمی تحقیقات کے مطابق یہ نہ صرف ہائی بلڈ پریشر میں فائدہ مند ہے بلکہ یہ بلڈ کولیسٹرول لیول کو بھی متوازن رکھتی ہے۔
دہی:دہی وہ غذا ہے جو اپنے اندر کیلشیم کی بھرپور طاقت رکھتا ہے۔بلڈ پریشر کی ایک وجہ جسم میں کیلشیم کی کمی کا ہونا بھی ہے۔اس لیے اگر دن میں تین سے چار مرتبہ دہی کا استعمال کیا جائے توہائی بلڈ پریشر جیسے مرض سے بہت حد تک بچا جاسکتا ہے۔
جو کا دلیہ:قدرت نے جو کے دلیے میں بے پناہ طاقت رکھی ہے کسی بھی مرض میں مبتلا شخص اگر بیماری کے بعدیا دوران اس کا استعمال کرے تو کھوئی ہوئی توانائی بحال ہوجاتی ہے۔جو کا دلیہ نہ صرف ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتا ہے بلکہ جسم کو صحت منداور تندرست رکھتاہے۔

ہائی بلڈ پریشر اورقدرتی جڑی بوٹیاں

اسرول (چھوٹی چندن)ہائی بلڈ پریشر کیلئے عالمی تحقیق شدہ جڑی بوٹی ہے۔اسی طرح بالچھڑ خواتین کے بلڈ پریشر میں انتہائی موثر ہے۔ان جڑی بوٹیوں پر مشتمل مجربات حکیم قاضی ایم اے خالد کے دو نسخہ جات ہدیہ قارئین ہیں۔

ہوالشافی :۔

اسرول(چھوٹی چندن)50گرام، کشنیزخشک 50گرام، صندل سفید 50گرام، الائچی سبز25گرام، سفوف بنا کر500ملی گرام کے کیپسول بھرلیں اور صبح وشام ایک ایک کیپسول پانی سے استعمال کریں۔

ہوالشافی :۔

صندل سفید50گرام، الائچی سبز50گرام، بالچھڑ50گرام، سفوف تیار کریں اور 500ملی گرام کے کیپسول بھرلیں۔صبح و شام بعد غذا ایک ایک کیپسول پانی سے استعمال کریں یہ نسخہ خواتین کیلئے زیادہ فائدہ مند ہے۔

احتیاطی تدابیراورحفظ ماتقدم

اگر آپ کا زیادہ تر وقت کسی جگہ بیٹھ کر کام کرنے میں گزرتا ہے تو ایک سے دو گھنٹے بعد اٹھ کر چہل قدمی ضرور کریں۔ورزش کو معمول بنالیں تاکہ جسم میں دوران خون فعال رہے اور ہائی بلڈ پریشر یا کسی اور بیماری کا سامنا نہ ہو۔نشہ آور اشیا اور ادویات کا استعمال فوری طور پر ترک کردیں۔ کھانوں میں نمک کی مقدار کم کرلیں ۔ اگر وزن بڑھنے پر آگیا ہے تو کوشش کریں اسے فوری طور پر کنٹرول کریں۔کھانے میں سبزیوں کا استعمال زیادہ رکھیں۔تازہ پھل اور ان کا تازہ جوس پئیں تاکہ بلڈ پریشر کے علاوہ صحت بھی تندرست اور توانا رہے۔پانی زیادہ سے زیادہ پئیں ، اگر ممکن نہیں تو ایسے پھلوں اور سبزیوں کا انتخاب کریں جو جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرتی ہیں۔سگریٹ نوشی سے جتنا ممکن ہو گریز کریں یہ ہائی بلڈ پریشر کے علاوہ بھی بہت سی امراض کا موجب بنتی ہے۔
چاٹی کی لسی یا کچی لسی کابغیر نمک استعمال بھی تیز بلڈپریشر کو کم کرتا ہے۔ تازہ پانی میں لیموں کا رس نچوڑ کر استعمال کرنا بھی مفید ہے۔ مریض کو اگر قبض ہے تو اس کو دور کرنا ضروری ہے۔ مریض کو مستقل طور پر ایسی غذائیں جن سے خون میں حدت بڑھتی ہے مثلا انڈہ، گوشت، مچھلی، پائے، پراٹھہ، مرغن اورپرتکلف کھانوں سے بچنا ضروری ہے۔ سادہ غذا کدو، ٹینڈے، شلجم، گاجر یا سادہ شوربہ جس میں نمک نہ ہو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
٭…٭…٭

شائع کردہ ازHakeem Qazi M.A Khalid

Khandani Tabeeb, Unani Medical Officer, Secretary General Council of Herbal Physicians Pakistan, Medical Jurnalist, Article Writer Daily NawaiWaqt, Daily Dunya, Blogger.

تبصرہ کریں

Design a site like this with WordPress.com
شروع کریں